کالم بریانی اور اچانک افشانی


naseer nasirآپ نے بریانی کا نام تو سنا ہو گا، بلکہ دیکھی اور کھائی بھی ہو گی، ایک منہ اور دو دو ہاتھوں اور چمچوں سے۔ علاقوں اور اجزائے ترکیبی سے منسوب اس کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً چکن، مٹن، مچھلی، سبزی بریانی اور سندھی، کشمیری، بمبئ بریانی وغیرہ وغیرہ۔ آج ہم آپ کو ایک ایسی بریانی کے بارے میں بتاتے ہیں جو آپ روزانہ زبان و دندان اور ہاتھ سے نہیں بلکہ آنکھوں سے کھاتے ہیں یعنی پڑھتے ہیں اور وہ ہے کالم بریانی۔ جس طرح کھانے والی بریانی کی کئی اقسام اور تراکیبِ پکوان ہیں اسی طرح پڑھنے والی بریانی کی بھی بہت سی اقسام اور نسخہ ہائے نوشت ہیں۔ جیسے سیاسی، ادبی، فکاہی، نظریاتی، مذہبی، لبرل،  تجزیاتی، سماجی، عسکری، فلمی، ملی جلی اور کئی دیگر۔

کالم بریانی کی مقبولِ عام و خاص قسم سیاسی ہے جسے عوام الناس، کاروباری طبقہ، اشرافیہ اور لیڈر سب پسند کرتے ہیں اور روزانہ بڑے شوق سے کھاتے معاف کیجیے پڑھتے ہیں۔ اور تو اور فوجی حاکمہ بھی ممنوع ہونے کے باوجود اس سے پرہیز نہیں کرتی۔ اخبارات کے مالکان، صحافیان و ایڈیٹرانِ کرام، کالم نویسان ان سب کی یہ من پسند اورمرغوب غذا ہے۔ لہٰذا یہ سب سے زیادہ پکتی یعنی لکھی جاتی ہے اور سب سے زیادہ بِکتی یعنی چھپتی ہے۔ روزناموں کے ادارتی صفحات کا پیٹ تقریباً اسی سے بھرا ہوتا ہے۔ پھر بھی اس کی کھپت اورگرم بازاری کم نہیں، روز افزوں ہوتی ہے۔ شنید ہے اس کا کاروبار کرنے والے جلدی امیر ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس میں نفع ہی نفع ہے نقصان نہیں۔ بعض اوقات تو خردہ قیمت کے علاوہ بشکل لفافہ اضافی منافع بھی مل جاتا ہے۔ پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کے مزے اور ہیلی کاپٹروں کے جھونٹے الگ۔ خیر یہ سنی سنائی باتیں ہیں۔ ہمیں اس کا تجربہ نہیں۔ ہوتا بھی کیسے، ہم یہ بریانی لکھتے پکاتے ہیں نہ بیچتے ہیں۔ حالانکہ اسے بنانا لکھنا چنداں مشکل نہیں۔ ذرا سا اخبار دیکھیے، جی ہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں بس چھوٹی بڑی سرخیاں دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ پھر کچھ دیر مختلف ٹی وی چینلز پر تبصروں اور تجزیوں کے چیخم چاخ، مارا دھاڑی پروگرام دیکھیے۔ آپ کو بےشمار مواد مل جائے گا۔ اس بولا چالی کو توڑ تاڑ اورجوڑ جاڑ کر سیاسی کالم بنا لیجیے۔ ہماری ایک دوست ہیں، اچھی بھلی شاعرہ و افسانہ نگار تھیں لیکن جب سے کالم اور ڈرامہ نگاری کی طرف آئی ہیں ادب کو گناہ کبیرہ سمجھنے لگی ہیں اور سیاسی کالم بریانی کی اتنی ماہر ہو گئی ہیں کہ پلک جھپکنے میں تیار کر لیتی ہیں۔ ایک بار ہم اُن کے ہاں گئے تو کہنے لگیں آپ تشریف رکھیں میں ابھی ایک سیاسی ڈش لکھ کر آئی۔ ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ڈرائنگ روم کے کس گوشے میں کس صوفے پر تشریف رکھیں، وہ “ڈش” لکھ کر واپس بھی آ گئیں۔ ڈرامے بھی وہ صرف “سوپ” لکھتی ہیں جسے ہم جیسے اَن پڑھ اعراب کے بغیر کبھی پینے والا سُوپ اور کبھی نہانے والا سَوپ پڑھتے ہیں۔ یہ تو پڑھے لکھے دوستوں سے معلوم ہوا کہ یہ ڈرامہ سچ مچ کا سوپ یعنی صابون ہوتا ہے کیونکہ اسے صابون ساز کمپنیاں اسپانسر کرتی اور ایوارڈ دیتی ہیں اور بعض اوقات تو لکھے اور پیش کیے بغیر ایوارڈ دے دیتی ہیں۔ اب سمجھ میں آیا کہ وہ “سوپ اوپیرا” ہی کیوں لکھتی ہیں۔ ڈرامہ چلے نہ چلے لیکن ایوارڈ پکا۔ کوئی بتائے کہ “شیمپو اوپیرا” کیوں نہیں لکھے جاتے؟ بات سیاسی کالم بریانی کی ہو رہی تھی۔ یہ جتنی مقبول ہے اتی ہی کثیرالاقسام ہے۔ سمجھ دار “کالم شیف” اور چاشنی گیر ہر نوع کے قارئین، لیڈران، سیاسی وابستگان و کارکنان کے ذائقے کا خیال رکھتے ہیں اور متفرق و متنوع سیاسی مسالا جات کی چاشنی لگاتے ہیں تا کہ نہ سب خوش رہیں نہ سب ناراض۔ شریف خاندان کی کارسازی، زرداری کی کرپشن، عمران خان کا تبدیلی الاپ و دھاندلی سُر، قادری صاحب کا دھرنا انقلاب، الطاف حسین کی دھواں دار غوں غاں جسے صرف ایم کیو ایم کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ ہی سمجھ سکتا ہے، سب کچھ بقدرِ حصہ و جثہ یا لفافہ کے ابھار کے مطابق ڈالا جاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ حال ہی میں سیاسی کالم بریانی کی دو نئی اقسام، پانامہ لیکس اور پاک سرزمین پارٹی متعارف ہوئی ہیں اور خاصی مقبول ہیں۔

جب سے مولوی حضرات نے عورتوں پر ہلکے پھلکے تشدد کو جائز قرار دیا ہے، لبرل کالم بریانی کے اسٹال پر بھی بھیڑ بھڑکا بڑھ گیا ہے۔ آزاد خیال اور آزادہ رووں کے اس ہجوم میں اب خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ لبرل کالم بریانی پکانے اور کھانے کی رسیا ان خواتین میں نقاب پوش حسینائیں بھی ہیں اور کھلے گلوں اور آستینوں والی بھی۔ پہلے یہ بریانی صرف دانشور طبقے تک محدود تھی اور لبرل، جو اپنے علاوہ کسی کو دانشور نہیں سمجھتے، اسے خود ہی بناتے لکھتے کھاتے پڑھتے تھے بلکہ کھانے کے بجائے مشروبِ دانش پینا پلانا زیادہ پسند کرتے تھے لیکن دنیا نیو ورلڈ آرڈر کے تابع ہونے اور ترقی پسندی، لبرل ازم، مذاہب اور دانش و دانائی کی نئی توجیہات سامنے آنے، ٹی وی چینلز، ملٹائی نیشنل اور این جی اوز کی بھرمار ہونے سے ان کے علم الحرکت اور نظریہ قوائیت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ لبرل کالم بریانی میں مادہ اور روح کی مسالا جاتی تفاوت کم ہوئی ہے اور مدلل ترکیبی توازن بڑھا ہے، جس  سے یہ  ذائقے اور چٹخارےمیں ہم جیسے بے دانش، کم خواندہ احمقوں یعنی عوام الناس کے لیے بھی قابل قبول بلکہ مقبول ہو گئی ہے۔ اب تو یہ حفظانِ تحریر و تقریر کے جدید اور مابعد جدید اصولوں کے مطابق پیک ہو کر گھر گھر پہنچنے لگی ہے۔  لبرل اور مذہبی کالم بریانی کے اسٹالز آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی نوبت باہم تصادم اور دھینگا مشتی تک جا پہنچتی ہے۔ پہلے صرف دوپٹے اترتے تھے، چادریں پھٹتی تھیں، اب شلواریں اترنے لگی ہیں۔ وہ بھی پسِ پردہ نہیں “سرِ اسکرین”۔ چار دیواری سے نکل کر بات سیاسی جمہوریت کی زبان میں بیچ پارلیمنٹ کے پہنچ گئی ہے جہاں اور تو کچھ ہوتا نہیں، آئے دن نت نئی محاوراتی و استعاراتی گالیاں ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔

ادبی کالم بریانی کھانے پڑھنے والوں کی تعداد نسبتاً کم ہے اور یہ ادیبوں شاعروں کی اپنی ہی برادری میں مفت بانٹ لی جاتی ہے۔ عام لوگ اسے کم ہی منہ لگاتے ہیں۔ البتہ اس کی دال دلیہ والی ظفر اقبالی قسم خاصی معروف و مقبول ہے بلکہ “سند” کا درجہ رکھتی ہے۔ ادیب شاعر اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور بعض اوقات تو ہاتھا پائی پر آ جاتے ہیں۔ یار لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے کالم نگار کی مٹھیاں بھرتے اور گٹے گوڈے پکڑتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یادش بخیر محمد اظہارالحق بھی گاہ بہ گاہ برسویں دن سہی ادبی کالم لکھا کرتے تھے مگر لگتا ہے ادبی کساد بازاری کے باعث وہ اس کارِ بے کار سے تائب ہو چکے ہیں۔ یوں بھی ظفر اقبال کے ہوتے ہوئے ایک ہی اخبار میں ان کی کیا مجال! یا پھر دونوں نے ایکا کر لیا ہے۔ کیونکہ دونوں کی دوستی بڑی قدیم و پختہ ہے اور اظہار صاحب کے ملٹری اکاؤنٹس کے زمانے سے چلی آ رہی ہے جس کے ہم چشم دید گواہ ہیں۔ البتہ مستنصر حسین تارڑ “نئی بات” میں بے دریغ ادبی کالم بریانی پیش کرتے رہتے ہیں، جس میں دساوری ادب اور فکشن کے اجزا زیادہ ہوتے ہیں۔ ملکی اردو شاعری اور شاعروں کو وہ درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے سوائے ان کے جو ان کے تعلقات اور مہماتِ عامہ و خاصہ کا حصہ رہے ہیں ۔ سچ پوچھیں تو ہمارے خواندگی کے مارے شاعروں ادیبوں کو ان کے ادبی مطالعے سے نہیں ان کی سیاچین کی بلندیوں جیسی شہرت سے دلچسپی ہے۔ قسم لے لیں جو ہمیں پتا ہو کہ میلان کندیرا، ٹونی ماریسن، امیتابھ گوش، ہارو کی مورا کون ہیں، ناول نگار ہیں یا کتب فروش۔ ہم اور ہم جیسے کئی ناخواندہ  مستنصر کے ہاتھ کا “پکا لکھا” تبرک سمجھ کر نہ سمجھتے ہوئے بھی “کھا پڑھ” لیتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر غافر شہزاد بھی ادبی کالم بریانی کے نسخے آزماتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ چونکہ آرکیٹیکٹ یعنی عمارتوں کے ڈاکٹر ہیں اس لیے انھیں ہر کالم میں لاہور کی عمارتوں کی فکر “لاحق رہتی” ہے اور اسی چکر میں ان کی اچھی خاصی بریاں ادبی بریانی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ادبی سماجیات کے ماہرین کے لیے ادبی کالم بریانی پکانا چنداں مشکل نہیں۔ کوئی کتاب یا رسالہ موصول ہو گیا، کوئی مشاعرہ پڑھ لیا، کسی شاعر کی پذیرائی یا کتاب کی رونمائی کی تقریب میں چلے گئے، کوئی ادیب شاعر ملنے آ گیا اور بس کالم تیار۔ ادبی کالم بریانی میں خود توصیفی یعنی تیار  کنندہ کا سب سے اہم جزو کے طور پر جابجا موجود ہونا ضروری ہے۔ مزید براں اس میں ادبی منافقت، مصالحت، مخاصمت اور جھوٹی مدحت و عظمت کے اجزا جتنے زیادہ ہوں گے یہ اتنی ہی خوردنی، قابلِ ہضم اور پسندیدہ ہو گی۔ افسوس ہم کو یہ سلیقہ نہیں آیا ورنہ ہم بھی کامیاب ادبی کالم نگار ہوتے۔ ہم جیسے گوشہ گیر کبھی کبھار ادبی بریانی کی دیگ بلکہ شب دیگ چڑھاتے ہیں لیکن ہم سے اکثر یہ خراب ہو جاتی ہے۔ کبھی زیادہ پک جاتی ہے کبھی دم پر آنے سے پہلے ڈھکنا اٹھا دیتے ہیں۔ گویا ہم اچھے “ادبی کُک” نہیں۔ اخبارات کو بھی یہ زیادہ پسند نہیں اور وہ اسے بادلِ ںخواستہ ہی چھاپتے ہیں۔

فکاہیہ کالم بریانی لکھنا پکانا سب سے مشکل ہے۔ اسے کھاتے پڑھتے پتا نہیں چلتا کہ آپ ہنس رہے ہیں یا رو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے لکھنے پکانے والوں کی ہمیشہ مانگ رہتی ہے۔ یہ ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں۔ فی زمانہ یہ کارِ دشوار ہمارے گل نوخیز اختر ہی کر سکتے ہیں۔ افسانوں اور شاعری کے تھڑوں کھوکھوں سے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اب ان کی دکان اونچی ہے مگر پکوان پھیکا نہیں اور وہ اتنے ماہر “بکاول” ہو چکے ہیں کہ کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو بھی ہاتھ لگا دیں تو وہ دیگ کے چاولوں کی طرح کِھل اٹھتا ہے۔ ان کے کالم اسٹال پر روزانہ صبح صبح خوب بھیڑ ہوتی ہے۔

ایک وقت تھا کہ نظریاتی کالم بریانی بھی عام تھی۔ لیکن اب اس کے بنانے اور کھانے والے خال خال ہی رہ گئے ہیں۔ ہمارے دوست ممتاز احمد شیخ اس کے بڑے دلدادہ ہیں اور اب تک بنگلہ دیش کو، جسے بنے 45 سال ہو چکے ہیں، مشرقی پاکستان لکھتے ہیں اور نظریہ پاکستان سے محبت کی وجہ سے کالم بھی “جہانِ پاکستان” کے علاوہ کہیں اور نہیں چھپواتے۔ ابھی دیگر کالم بریانیوں کا کلام و طعام باقی ہے لیکن کالمی دیگ کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ انھیں پھر کبھی لکھیں پکائیں اور کھائیں پڑھیں گے۔ فی الحال آپ آج کی کالم بریانی پر “آنکھ صاف” کریں۔


Comments

FB Login Required - comments