اورلانڈو حملہ: یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا


editامریکی تاریخ میں فائرنگ کے بدترین واقعہ میں فلوریڈا کے شہر اورلانڈو میں 50 افراد ہلاک اور 53 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ شہر میں ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پر رات گئے کیا گیا تھا۔ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ عمر صدیق متین کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ تربیت یافتہ سکیورٹی گارڈ تھا اور فلوریڈا کے علاقے پورٹ سینٹ لوئس کا رہنے والا تھا۔ افغان النسل حملہ آور کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندانہ اسلامی خیالات رکھتا تھا لیکن پولیس اور ایف بی آئی نے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ کا وفادار تھا۔ داعش کے بعض حامیوں نے اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ انتہا پسندانہ ویب سائٹس پر مسرت کا اظہار بھی کیا ہے۔ پولیس نے اس حملہ میں ایک مسلمان کے ملوث ہونے اور اس کے منفی اثرات کی روک تھام کے لئے سانحہ کے بعد ایک مقامی مسلمان امام کو میڈیا سے بات کرنے کی دعوت دی تھی تا کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کر سکیں کہ تشدد اور بے گناہوں کا قتل جائز نہیں ہے۔ اورلانڈو شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین اپنے عزیزوں کو تلاش کرنے کے لئے اسپتالوں اور مردہ خانوں کے چکر لگا رہے ہیں۔

امریکہ میں اسلحہ رکھنے کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے قوانین سخت کرنے کی سب کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ملک میں اسلحہ رکھنے کے حق کا تحفظ کرنے والی تنظیمیں مضبوط سیاسی رسوخ کی حامل ہیں۔ صدر باراک اوباما نے اپنے آٹھ سالہ دور میں متعدد بار اس حوالے سے اقدام کرنے کی کوشش کی ہے اور فائرنگ میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکت کے ہر واقعہ کے بعد اسلحہ کی خریداری پر کنٹرول کی بات کی جاتی ہے لیکن کانگریس کی اکثریت ابھی تک کوئی موثر اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ امریکہ میں ہر سال 33 ہزار سے زائد لوگ فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو تہائی خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں جبکہ 12 ہزار کے لگ بھگ لوگ کسی مخبوط الحواس شخص کے ہاتھوں ہلاکت کا نشانہ بنتے ہیں۔ آج اورلانڈو میں قتل عام سے پہلے ملک کی تاریخ کا بدترین واقعہ 2007 میں ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں پیش آیا تھا جس میں ایک طالب علم نے 32 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2012 میں سینڈی ہوک اسکول میں ایک قاتل نے 5 سے 7 سال کے بچوں اور ان کی استانیوں کو قتل کر کے المناک مثال قائم کی تھی۔ اس حادثہ میں 27 بچے اور استاد جان سے گئے تھے۔ سنگدل قاتل نے پہلے اپنی ماں کو قتل کیا تھا جو اسی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ پھر اسی اسکول کے طالب علموں اور استادوں پر فائرنگ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کی کوشش کی۔ اس سال فروری کے مہینے میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں 9 افراد ہلاک کئے گئے تھے۔ ان میں ایک واقعہ 25 فروری کو کنساس میں ہوا تھا جہاں فیکٹری میں کام کرنے والے ایک 38 سالہ شخص نے اپنے ہی تین ساتھیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور 13 کو زخمی کر دیا۔ 20 فروری کو ایک 45 سالہ شخص نے مشی گن میں مختلف لوگوں پر فائرنگ کر کے 6 افراد کو ہلاک اور درجن بھر کو زخمی کر دیا تھا۔

فائرنگ کا ایک افسوسناک واقعہ 2 دسمبر 2015 کو کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں بھی ہوا تھا۔ اس موقع پر 28 سالہ سید رضوان فاروق نے اپنی 27 سالہ پاکستانی نژاد بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر معذور لوگوں کےلئے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک اور 20 کو زخمی کر دیا تھا۔ سید رضوان فاروق معذور افراد کے اس مرکز کے ساتھ وابستہ تھا جس کے زیر اہتمام تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ لیکن اس روز وہ معاون کی بجائے ایک قاتل کے طور پر وہاں آیا تھا اور قتل عام کا مرتکب ہوا۔ دونوں میاں بیوی فائرنگ کرنے اور متعدد لوگوں کو مارنے کے بعد اپنی گاڑی میں سوار ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس نے تعاقب کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں ہی ان کا سراغ لگا لیا تھا اور وہ دونوں پولیس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا تھا کہ تاشفین ملک انتہا پسند نظریات سے متاثر تھی اور شادی کے بعد اس نے اپنے شوہر کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا۔ ان دونوں کی ہمدردیاں دولت اسلامیہ کے ساتھ تھیں۔ اس طرح انفرادی طور پر دہشت گردی کے نقطہ نظر سے فائرنگ کا یہ انوکھا واقعہ تھا جس میں حملہ آوروں کے علاوہ 14 لوگ ہلاک ہوئے۔ اس حملہ کے بعد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف نکتہ چینی میں اضافہ کر دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ امریکہ کو محفوظ کرنے کےلئے مسلمانوں کا امریکہ میں داخلہ بند کر دیا جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت نکتہ چینی ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود امریکہ میں مسلمانوں کےلئے حالات کار دشوار ہو گئے تھے۔ امریکی حکومت نے تاشفین کو ویزا جاری ہونے میں بعض خامیوں کو عذر بنا کر ملک میں داخلے پر سخت پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

اورلانڈو میں ہونے والے واقعہ میں ملوث شخص بھی ایک مسلمان ہے۔ اس کا والد افغانستان سے امریکہ آیا تھا۔ 29 سالہ عمر صدیق متین امریکہ میں پیدا ہوا اور اس نے سکیورٹی گارڈ کے طور پر تربیت اور لائسنس حاصل کیا ہوا تھا۔ سان برنارڈینو میں عقیدے کا نام لے کر حملہ کرنے کے واقعہ کی وجہ سے عمر متین کے اقدام کے بارے میں بھی یہ سراغ لگانے کی کوشش کی جائے گی کہ اس نے یہ حملہ کیوں کیا۔ اس کے والد صدیق میر نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمر متین ہم جنس پرستوں سے سخت نفرت کرتا تھا۔ حال ہی میں وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا کہ اس نے دو مردوں کو ایک دوسرے سے بوس و کنار کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، جس پر اسے سخت طیش تھا۔ صدیق میر کا کہنا ہے کہ عمر متین کے جنونی قتل عام کی وجہ مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے بلکہ اس نے یہ حملہ ہم جنس پرستوں سے شدید نفرت کی بنیاد پر کیا ہے۔ اگرچہ یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ قاتل عمر متین انتہا پسندانہ اسلامی خیالات رکھتا تھا اور داعش سے متاثر تھا۔ داعش کے حامیوں نے اپنے طور پر اس سانحہ کے بعد خوشی کا اظہار کر کے فائرنگ کے اس واقعہ کو اسلامی دہشت گردی کے شبہ کو تقویت دینے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ لیکن ایف بی آئی اور پولیس اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اورلانڈو کے پولیس چیف جان منا کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ میں 50 افراد قتل ہوئے ہیں۔ ابھی اس حوالے سے جامع تحقیقات ہوں گی۔ بے شمار شواہد اور گواہیاں اکٹھی کی جائیں گی، تب ہی اندازہ ہو سکے گا کہ حملہ آور کا مقصد کیا تھا۔

امریکہ میں ہم جنس پرستوں کے مخالف لوگ بھی کافی زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ اسقاط حمل کی طرح ہم جنس پرستی بھی ایک متنازعہ معاملہ ہے جس کے حق اور مخالفت میں رائے سامنے آتی رہتی ہے۔ جون 2015 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو جائز قرار دینے کا جو فیصلہ دیا تھا ، اس سے بھی اس سوال پر معاشرے میں پائے جانے والے اختلاف کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 9 میں سے 4 ججوں سے اس فیصلہ کے خلاف رائے دی تھی، جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ تاہم بنچ کے اکثریتی 5 ارکان کی رائے کی بنیاد پر ہم جنس پرستوں کی شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت تک ایک تہائی امریکی ریاستوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سب ریاستوں کو اس حوالے سے اپنے قوانین میں ترمیم کرنا پڑی تھی۔

اورلانڈو کے پلس PULSE کلب میں ہونے والی فائرنگ اور اس میں کئی درجن انسانوں کی ہلاکت ان دونوں حوالوں سے نہایت تشویش کا باعث ہو گی۔ اگر عمر متین نے عقیدہ کی بجائے صرف ہم جنس پرستوں سے نفرت کی بنا پر یہ حملہ کیا تو بھی اس موضوع پر بحث کا سلسلہ شروع ہو گا اور معاشرے میں مختلف جنسی میلان رکھنے والوں کے تحفظ اور قبولیت کے حوالے سے اقدامات کے مطالبات سامنے آئیں گے۔ تاہم اگر اس فائرنگ کا تعلق اسلامی انتہا پسندی سے قائم ہوا تو یہ امریکی معاشرے کےلئے سنگین چیلنج ہو گا۔ امریکہ بین الثقافتی معاشرہ ہے اور اپنی اس حیثیت پر فخر بھی کرتا ہے۔ تاہم 2001 میں نیویارک اور پینٹا گان پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ 9/11 کے نتیجہ میں صدر جارج بش نے انتقام کے جوش میں پہلے افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کیا۔ ان جنگوں میں اگرچہ لاکھوں بے گناہ مسلمان مارے جا چکے ہیں لیکن جنگ میں کام آنے والے کئی ہزار امریکیوں کے تابوت امریکی رائے عامہ کے ضمیر پر زیادہ بڑا بوجھ ہیں۔ اس لئے صدر اوباما نے 2008 میں عراق جنگ ختم کرنے کے نام پر ووٹ حاصل کئے اور اس کے بعد افغانستان میں جنگ کو محدود کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ البتہ اتحادی افواج کی ناقص حکمت عملی اور کارکردگی کی وجہ سے کابل میں قائم کی جانے والی نام نہاد جمہوری حکومت ملک پر اپنا کنٹرول بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی افغان فوج کو مستحکم کرنے اور درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار نہیں کر سکے۔ اسی وجہ سے طالبان مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور ملک کے نصف کے لگ بھگ علاقوں پر ان کا قبضہ ہے۔ مئی میں ایک ڈرون حملہ میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ جیسے انتہا پسند لیڈر کے ہاتھ میں آ چکی ہے۔ وہ فی الوقت افغان حکومت یا امریکیوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہے۔

عراق میں اختیار کی گئی غلط پالیسیوں کی وجہ سے شام اور عراق میں ابھرنے والا دہشت گرد گروہ داعش اس خطے کے استحکام اور دنیا بھر کے امن کےلئے خطرہ بن چکا ہے۔ نومبر میں پیرس حملوں کے بعد سے اگرچہ دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں تیزی آئی ہے اور اسے اپنے زیر تسلط بعض علاقوں سے محروم ہونا پڑا ہے لیکن اس گروہ نے دنیا بھر میں اپنا نیٹ ورک استوار کیا ہوا ہے۔ یہ مقامی سیل داعش کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے طور پر دہشت گردی کے خطرناک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور سے جو لوگ تن تنہا ایسے پروپیگنڈا کے زیر اثر اقدام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، ان کا سراغ لگانا بھی آسان نہیں ہوتا۔ دسمبر میں فاروق اور تاشفین فائرنگ کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک فرد یا چند لوگوں پر مشتمل دہشت گرد سیل زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اورلانڈو کا حملہ آور عمر صدیق متین نے بھی اگر اسی قسم کے انتہا پسند اسلامی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر 50 سے زائد لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور خود بھی پولیس مقابلہ میں جان دی ہے تو ملک میں آباد 35 لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں کے بارے میں معاشرے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ مسلمان ملکوں سے امریکہ آنے والے لوگوں کے لئے زیادہ مشکلات پیدا ہوں گی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم ایک نہایت نازک اور مشکل دور میں زندہ ہیں۔ باہمی مواصلت اور اعتماد سازی کی فضا پیدا کرنے کےلئے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تاکہ مٹھی بھر انتہا پسند معاشروں کے امن و سکون کو تباہ نہ کر سکیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali