اسلامی ہیرو بننے کا شارٹ کٹ


aqdas sandhilaابن انشا کی شہرہ آفاق کتاب ” اردو کی آخری کتاب” کا ایک اقتباس ہے،

“ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا کرتے تھے، آج کل داخلہ منع ہے، صرف خارج کرتے ہیں۔”

ایک زمانہ تھا کہ مسلمان اپنے حسن اخلاق سے غیر مسلموں کو اپنا گرویدہ کر لیتے تھے اور ایک موجودہ زمانہ ہے جس میں ہم اپنی بداخلاقی سے لوگوں کو اسلام سے مزید بدظن کر رہے ہیں۔قرآن پاک کی ایک آیت ہے لا اكراه فى الدّين، یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام جبر و تشدد نہیں بلکہ افہام و تفہیم کا درس کا دیتا ہے۔بالخصوص ماہ رمضان میں تو مسلمانوں کو صبر ، حسن اخلاق اور تحمل کی خاص تاکید کی گئی ہے ۔ اسی طرح اسلام اقلیتوں سے بھی اچھا سلوک کرنے کا درس دیتا ہے اور ان پر دھونس جمانے سے منع کرتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہےجن میں انہوں نے غیر مسلموں سے اچھا برتاؤ کیا اوراسی حسن سلوک سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل بھی ہوئے ۔ ان ہزاروں مثالوں میں سے ایک مثال کا ذکر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے خطبات بہاولپور میں کیا ہے ۔

نجد کےایک مشہور سردار ثمامہ بن اسال کو جب مدینہ کے قریب سے گرفتار کرنے کے بعد جب آپﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے اسلام لانے کی دعوت دی ۔ اس نے انکار کیا اور کہا کہ

“اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو یقینا ایک ایسے شخص کو قتل کر دیں گے جس نے آپ کے صحابہ ( رضی اللہ عنہم ) کا خون بہایا۔ اگر معاف فرمادیں توایک قدردان پر مہربانی ہوگی اور اگر مال چاہئےتو جس قدر فرمائیں مال آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلسم تشریف لے گئے اور انہیں تین دن تک مسجد میں رکھا لیکن کھانا،پانی اور دودھ باقاعدگی سے انہیں ملتا رہا- اس دوران رسول اللہ نے بارہا ان کی رائے پوچھی مگر ایک ہی جواب ملا۔ آخر آپ ﷺ نے کوئی مال لیے بغیر انہیں رہا کر دیا۔ اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا –

 ان دنوں مکہ میں قحط تھا اور ان کا بیشتر غلہ نجد سے آتا تھا ۔ ثمامہ بن اثال نے مکہ والوں کے لیے غلے کی بندش کردی جس سے انہیں مزید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ والوں نے حضرت محمد ﷺ سے درخواست کی کہ ثمامہ بن اثال سے کہہ کر غلے کی بندش ختم کروائیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف یہ بندش ٖختم کروائی بلکہ پانچ سو اشرفیاں بھی مکہ کے غرباء کے لیے ارسال کیں۔ اس واقعہ سے اہل مکہ کے دلوں میں آپﷺ کے لیے عزت کےجو جذبات پیدا ہوئے وہ فتح مکہ پر عام معافی کے اعلان کے بعد آپﷺ پر ایمان لانے پر منتہج ہوئے۔

مگر دکھ ہےتو اس بات کا کہ ماہ رمضان میں بھی ہمیں عدم برداشت ، نفرت اور تشدد کے واقعات کثرت سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

ہم اپنے آپ کو نبی ﷺ کا پیروکا ر توکہتے ہیں مگر ان کی زندگی سے سبق نہیں سیکھتے ۔ جہاں وہ صبر وتحمل کا پیکر تھے وہیں ہم عدم برادشت اور نفرت کا نمونہ ہیں۔ اگر فرانس میں نقاب پر پابندی لگتی ہے، امریکہ میں مساجد پر حملہ ہوتا ہے، چین جیسے یار ملک جن پر ہم جان قربان کرتے ہیں وہاں سنکیانک میں مسلمانوں پر روزہ رکھنے کی اجازت نہ ملنے پر تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے مگر اپنے ملک میں ہم اقلیتوں کو عدم رواداری اور نابرداشت کی چکی میں پیستے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ زیادہ دور نہ جائیں، پچھلے دو روز کے واقعات دیکھ لیں۔

گھوٹکی میں اسی سالہ گوکل داس کو دوران رمضان سر عام کھانا کھانے پر ایک پولیس والے نے بری طرح پیٹ ڈالا ۔

کل پنجاب میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے ہمارے معاشرے کے عدم برداشت اور اقلیتوں سے ہمارے ناروا سلوک کی ایک اور جھلک دکھا دی۔ ہوا کچھ یوں کہ پنجاب کا ایک مسلم شیخ قلفی اور گولہ گنڈا بیچ رہا تھا ، اہل علاقہ نے اسے یہ کہہ کر پیٹ ڈالا کہ وہ عیسائی ہو کر مسلمانوں کے کھانے کی اشیاء کو ہاتھ کیوں لگا رہا ہے۔

 میرے طالب علمی کے زمانے میں ہاسٹل میں کھانا مسلم خواتین بناتی تھیں اور صفائی ستھرائی کا کام عیسائی خواتین کا تھا۔ ایک صفائی کر نے والی آپا میرے برتن اجرتاً   دھو دیا کرتی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ کچن میں برتن دھونے جاتی ہیں تو لڑکیاں کہتی ہیں کہ اقدس آپ سے کیوں برتن دھلوا رہی ہے ؟ کیا اس کو پتا نہیں کہ آپ کرسچن ہیں؟

کچھ دوستوں نے میرے برتنوں میں کھانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہیں ایک کرسچن عورت دھوتی ہیں- مجھ سے میری وارڈن تک نے یہ تذکرہ کیا کہ آپ مسلمان آپا سے برتن دھلوایا کریں۔

 میرے لیے یہ بڑی اچھنبے کی بات تھی کہ ان پڑھ لوگ تو چلو اسلامی تعلیمات سے نابلد ہیں مگر اتنے پڑھے لکھے ذہنوں میں یہ بیمار سوچ کہاں سے عود آئی ہے؟

بہت سے لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ اسلام میں عیسائی کے ساتھ کھانے کی ممانعت ہے مگر قرآن پاک میں ارشاد ہےکہ

“اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھاناتمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ” (المائدہ)

مولاناابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے اس آیت کی وضاحت میں لکھا ہے:

“اہلِ کتاب کے کھانے میں ان کا ذبیحہ بھی شامل ہے ۔ ہمارے لیے ان کا اور ان کے لیے ہمارا کھانا حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کھانے پینے میں کوئی رکاوٹ اور کوئی چھوت چھات نہیں ہے ۔ ہم ان کے ساتھ کھا سکتے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ۔” (تفہیم القرآن )

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کا ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ظہر کی نماز پڑھ کےکھانا کھانے لگے تو ایک بھنگی گٹر صاف کر کے جانے لگا تو حضرت شاہ صاحب نے ان کو اپنے پاس بلایا اور فرمایاکہ میرے ساتھ کھانا کھاؤ تو حضرت شاہ صاحب کو بھنگی دیکھ کرکہنے لگا،آپ مجھے نہیں جانتے۔انہوں نے کہا جانتا ہوں پھر بھنگی کہنے لگا میں آپ کے ساتھ کیسے کھانا کھا سکتا ہوں آپ سید زادے اورمیں ھندو-

حضرت شاہ نے فرمایا انسان تو ہو پھر حضرت شاہ صاحب نے ان کو اپنے ساتھ بٹھایا اور ایک آلو کا ٹکڑا اٹھا کر اس بھنگی کے منہ میں ڈالا اور اس ٹکڑے کو بھنگی کے منہ سے توڑ کر آپ نے کھا لیا تو بھنگی نے کہا،”حضرت جی ایک منٹ “اور چلا گیا اور جب واپس آیا تو اپنی بیوی بچوں کو ساتھ لایا اور کہا حضرت شاہ صاحب ہمیں کلمہ پڑھاؤ-حضرت شاہ صاحب نے ان کو کلمہ پڑھوایا اور وہ بھنگی گھروالوں سمیت مسلمان ہوگیا-

ہمارای برانڈ کا اسلام تخریب تک ہی محدود ہے۔ اگر اسلام کا بول بالاکرنا ہی مقصودہے تو کوئی تعمیری کام کیجئے، انسانوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں مگر نہیں جناب! یہ ہم کیونکر کرنے لگے۔ اس میں محنت کرنا ہو گی۔ اب محنت کون کرے؟ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک آدھ لپڑ کسی کو جڑ دوں، کوئی گھونسہ ، کوئی لات ، کوئی ڈنڈا ۔۔۔اور میں منٹوں میں ہیرو بن گیا۔

ہم منٹوں میں اسلام کے ہیرو بننا چاہتے ہیں، خود ساری زندگی جھوٹ،دھوکہ، فریب میں گزار دیتے ہیں اور دوسروں کے اعمال کی اصلاح کی فکر میں گھل جاتے ہیں۔ جناب! اپنی اصلاح کریں، اپنے اعمال کو تو ٹھیک کر لیں۔

روزمرہ زندگی میں ہماری یہی تخریبی سوچ ہمیں متشدد گروہوں کے نزدیک لے جاتی ہے –ایسی ہی ایک مثال ہمیں آج اورلانڈومیں ہم جنس پرستوں کے کلب پر ہونے والے حملے میں نظر آتی ہے۔ پلس نامی اس کلب میں زیادہ تر ہم جنس پرست ہی آتے ہیں۔ایک افغانی نژاد امریکی شہری عمر متین نے اس کلب پر حملہ کیا اور 50 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عمر متین نے حملے سے پہلے 911 کو کال کی اور خلیفہ بغدادی سے وفاداری کا اعلان کیا ۔

اس کے علاوہ داعش نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹس پرعمر متین کے اس اقدام کو سراہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس کا تعلق داعش سے ہے۔

القاعدہ ہر حملے کا منصوبہ طویل مشاورت کے بعد منظور کرتی تھی۔ اس کے عسکریت پسند طویل اور مشکل تربیت کے بعد میدان عمل میں اتارے جاتے تھے۔ مگر داعش کے لیے ایسا ضروری نہیں۔

 داعش نے “لون وولف” (تنہا بھیڑیا) کا نظام اپنایا ہو ا ہے کہ آپ چاہے دنیا کے جس خطے میں بھی ہوں، اکیلے ہوں یا کسی مقامی گروہ کا حصہ ہوں، آپ صاحب اولاد ہوں یا مجرد۔ بس داعش سے وابستگی کا اعلان کیجئے، دہشت گردی کی واردات کیجئے اور جنت کے راہی بن جائیے۔ اس طریقہ واردات کا مقصد ان تنہا بھڑیوں کی خون خواری کو اپنے تنظیمی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اب چاہے اس سے اسلام پر حرٖف آئے، کوئی اسلام سے بدظن ہو، دیار غیر میں مقیم مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو، ہمیں اس سے کیا؟ ہم تو اب بھی اپنے تئیں بہترین مسلمان ہیں۔ اگر اسلام کا ہیرو بننا ہے تو شارٹ کٹ اور تخریب کاری کی بجائے کوئی تعمیری کام کر لیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “اسلامی ہیرو بننے کا شارٹ کٹ

  • 13-06-2016 at 11:50 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے۔ شاندار تحریر۔

Comments are closed.