بیچ دستار اور شلوار کے


farnoodسات سمندر پار افریقہ کے جنوب میں کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جو زندگی تو دنیا سے دور ایک جنگل میں بسر کررہا ہے مگر ذرائع ابلاغ تک اسے کچھ رسائی میسر ہے۔ اس شخص سے پاکستان میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پہ بات چیت کر لیتے ہیں۔

بھائی صاحب

جی صاحب

آپ کو لگتا ہے پاکستان میں کبھی خواتین مردانہ زیادتیوں کا شکار ہوئی ہیں۔؟

جی بالکل ہوئی ہیں۔

آپ کیسے کہہ سکتے ہیں۔؟

میرے پاس زیادتیوں کے تازہ ترین ثبوت موجود ہیں۔

مثلاً ۔۔۔؟

khawaja asifمثلا پارلیمنٹ میں ایک وزیر نے خاتون کی تذلیل کی، کوئی ٹریکٹر ویکٹر کا ذکر تھا جس میں۔

اس کے علاوہ۔؟

اس کے علاوہ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک مولوی صاحب نے شلوار کا کوئی ذکر کیا۔

اور کوئی واقعہ۔؟

اور تو کوئی خاص مجھے ابھی یاد نہیں آرہا۔

اچھا یہ بتاؤ تمہاری نظر میں پاکستان میں خواتین کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔؟

ہممممممم میرے خیال میں تو یہ ہے کہ خواتین کو سینیٹری نیپکین خریدتے ہوئے تہذیبی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔

یہ وہ شخص ہے جو ذرائع ابلاغ پہ ایک پاکستان دیکھ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے تو یہاں بھی کس کو کیا دوری۔ پھر بھی ایبٹ آباد چلتے ہیں۔ کسی معززشہری سے ملتے ہیں۔ پتہ چلے کہ یہاں کیا صورت حال ہے

خان صاحب اس شہر میں خواتین کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ؟

جی ابھی پچھلے مہینے ہی تو ہوا ہے واقعہ۔

کونسا واقعہ۔؟

Hamdullahجی یہاں اٹھارہ سالہ لڑکی عنبرین کو ایک جرگے کے فیصلے کے بعد سوزوکی بولان کی عقبی نشست سے باندھ کر زندہ جلایا گیا۔

زدہ جلایا گیا۔؟

جی زندہ جلایا گیا۔

لیکن کیوں بھئی؟

کیونکہ یہاں ایک صائمہ لڑکی ہوتی تھی، اس نے پسند کی شادی کی ٹھانی ہوئی تھی، اب یہ تو آپ کو پتہ ہے یہ نری بے حیائی ہے، سو صائمہ کو قتل کر دیا گیا، البتہ اس عنبرین کو اس لیئے جلایا کہ اس نے چوری چپکے صائمہ کی مدد کی تھی۔ عنبرین کو سزا ضرور ملنی چاہیئے تھی مگر اس بیچاری کو اپنے جرم سے زیادہ سزا دیدی ان ظالموں نے۔

اچھا جی۔

چلیں اب یہیں سے گھومتے ہوئے مری چلتے ہیں۔ یہ بابا جی بیٹھے ہیں ان سے ملتے ہیں۔ سوال رکھتے ہیں

بابا جی یہاں مری میں تو خواتین کو مسائل درپیش نہیں ہوتے ہوں گے۔؟

نہیں بابا یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔ خواتین بہت محفوظ ہے۔

کبھی خواتین ماری بھی گئی ہیں یہاں؟

abbotabad-1بس ابھی ایک ہفتہ پہلے انیس سالہ ایک لڑکی کو رشتے سے انکار پہ زندہ جلا دیا گیا۔

مگر کیوں۔؟

بس وہ بہت بے حیا تھی۔ اسکول میں انگریزی پڑھاتی تھی۔

بے حیا تھی؟ کیسے بے حیا۔؟

رشتے سے انکار کرتی تھی ، کہتی تھی میں اپنی پسند کا رشتہ کروں گی۔

چلیں یہاں سے نکلتے ہیں، قریب میں میرا آبائی علاقہ کالا ڈھاکہ پڑتا ہے۔ وہاں جایا جا سکتا ہے۔ بے شمار واقعات آپ کو سنوائے جا سکتے ہیں، مگر میرے لیئے یہ مشکل ہے۔ میں اپنے علاقے کی عورتوں کی جنگ نہیں لڑسکتا۔ سیاست دان عورتوں کی بات اور ہے۔ میرا خیال ہے سرگودھا چلتے ہیں۔ اس ہجوم سے کچھ پوچھتے ہیں

بھائی صاحب یہاں سرگودھا میں کبھی کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کیا۔؟

زیادتی۔؟

جی زیادتی

نہیں الحمدللہ یہاں اچھا رواج ہے یہ سرگودھا ہے امریکہ نہیں ہے، یہاں خواتین کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی۔

کوئی خاتون کبھی قتل ہوئی ہے کیا۔؟

ہاں قتل تو ہوتی رہتی ہیں۔

کوئی ایک مثال؟

guddi bheelکچھ دن پہلے ہی تو حلیمہ خاتون قتل ہوئی ہے

مگر کیوں۔؟

احسان کے ساتھ شادی سے انکار کردیا تھا۔

اچھا

چلو آگے بڑھتے ہیں۔ مگر یہ ایک شخص ہمیں کیوں دیکھ رہا ہے؟ شاید کچھ کہنا چاہتا ہے۔ جی بھائی صاحب، کوئی بات ہے کیا۔؟

جی

کیا؟

وہ ایک بات بتانا ہے جو انہوں نے نہیں بتایا

کیا بات

یہاں ہمارا جاننے والا ہے ایک شوکت صاب۔ اس کی سولہ سالہ لڑی نے کچھ ہی دن پہلے خود کشی کیا ہے۔

وہ کیوں۔؟

صابر نے اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

پھر۔؟

پنچائیت نے فیصلہ کیا کہ لڑکی چونکہ حاملہ ہے، اب عزت اسی میں ہے کہ یہ صابر سے ہی شادی کرے۔

پھر۔؟

بس لڑکی نے انکار کیا، انصاف بہت تلاش کیا، مگر نہیں ملا، خود کشی کر لیا۔

بس بھائی آگے بڑھتے ہیں یار۔ مظفر گڑھ چلتے ہیں۔ طیب اردگان ہسپتال کے دروازے پہ کسی سے سوال پوچھتے ہیں۔ یہ ایک مائی پریشان کھڑی ہے اس سے سے پوچھتے ہیں

مائی یہاں اس علاقے میں تو خواتین محفوظ ہوں گیں۔؟

کہاں محفوظ ہیں کل ہی تو آمنہ نے خود کشی کی ہے

کون آمنہ مائی؟

میری بیٹی آمنہ نے کی ہے۔

کیا مطلب؟ خود کشی کیوں کرلی؟

کچھ طاقتور لوگوں نے بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پھر۔؟

domesticبیٹا دو سال انصاف کیلیے ہم بھاگے ہیں مگر انصاف نہیں ملا۔

پھر۔؟

پولیس افسران بھی ملزمان کے ساتھ ہو گئے

پھر۔؟

کیا پھر پھر لگا رکھا ہے تم لوگوں نے، اس کے بعد خود کشی ہی کرنی تھی میری بچی نے اور پھر کیا۔

چل بیٹا یہاں سے نکل، مائی میڈیا پہ خار کھائے بیٹھی ہے شاید۔

چلو میاں کاغذ قلم لپیٹتے ہیں۔ کراچی نکلتے ہیں۔ گرمی بہت ہے، مگر بہتر ہوگا جیکب آباد میں سستا لیا جائے۔ لگے ہاتھوں یہ سوال یہاں بھی رکھ دیتے ہیں۔

جی بھائی خواتین کے ساتھ زیادتی کا کوئی کیس۔؟

نہیں سائیں یہاں زیادتی کا سوچنا بھی مشکل ہے بابا۔

وہ کیوں۔؟

یہاں عورتوں کا بہوت عزت اے بابا۔

اچھا کبھی کوئی عورت قتل بھی تو ہوئی ہوگی؟

ناجائز تو کوئی قتل نہیں ہوئی۔

Honorkillingاچھا جائز کون قتل ہوئی؟

یہاں پچھلی گلی میں ہمارا ایک ماڑو نے سہاگ رات کو ہی اپنی بیوی خانزادی لاشاری کو قتل کردیا۔

سہاگ رات کو؟

جی سائیں

مگر کیوں۔؟

کیونکہ سہاگ رات کو پتہ چلا کہ وہ دوشیزہ نہیں ہے۔

کیسے پتہ چلا۔؟

خون نہیں نکلا

پھر؟

بس پھر اس کا شوہر نے اس کا خون کردیا۔

چلو بھائی جلدی نکلو۔ کراچی پہنچنے کی کرو، یہاں تو قسم سے ہر جگہ غیرت ہی غیرت چل رہی ہے۔ ویسے ایک بات ہے، کیا برا ہے اگر کراچی میں بھی یہی سوال دوہرا لیا جائے؟ نہیں۔؟

او بھیا

جی بھیا

ایک سوال کا جواب تو دے جاؤ یار

کاہے کا سوال؟

یار یہ بتاؤ کرانچی میں کسی لڑکی کے ساتھ کبھی زیادتی ہوئی ہے کیا؟

او لے، جازتی؟ کوئی ایک جازتی ہوئی ہے یہاں پے؟ آئے روز یہی سین پارٹ لگا رہتا ہے یہاں تو۔

لیکن غیرت کے نام پہ قتل تو نہیں ہوتے ہوں گے۔

ابے بھئی یہاں بھی یہ سین شروع ہوگیا ہے اللہ ماف کرے۔

کب ہوا ایسا کوئی واقعہ۔

یار ابھی تو ہوا ہے کوئی ڈیڑھ دو مہینے پہلے۔

کہاں ہوا کس کے ساتھ ہوا؟

رک تجھے موبائل پہ ویڈیو دکھاتا ہوں

اچھا

یہ دیکھ

مومن آباد میں گھر کے چبھوترے پہ پڑی زخمی سمیرا کراہ رہی ہے۔ ایک نامحرم سے تعلق کی پاداش میں بھائی نے اس پہ خنجر سے وار کیئے ہیں۔ جس بھائی نے فریضۃ انجام دیا ہے وہ سرہانے بیٹھا موبائل میں منہمک ہے۔ بدن بولی سے لگتا ہے کہ کسی اور غیرت مند کی با صفا بہن سے محو کلام ہے۔ زندگی موت کی اس کشمکش میں لوگ سمارٹ فون سے ویڈیو بنارہے ہیں۔ کوئی ہسپتال لے جانے کیلئے فکرمند نہیں۔ کیونکہ سمیرا کو مزید جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

شکریہ بھائی۔

دیکھ کے ٹائٹ تو نہیں ہوئی نا؟

نہیں نہیں یار، بس ٹھیک ہے۔ شکریہ۔

بس یہی چل ریا ہے آج کل تو۔

ابے بھئی اچھا نا، بس شکریہ مہربانی جان چھوڑدے اب۔

سنیئے گا ذرا۔!

یہ سارے وقعات وہ ہیں جو رواں برس ہی رونما ہوئے۔ جو ہم نے ذکر کیے، انہیں سو میں سے چار سمجھ لیجیئے۔ کہیں زندہ جلایا جارہا ہے کہیں زندہ گاڑا جارہا ہے۔ حالات یہ ہوگئے کہ میرے ملک کے دانشور کو اب مارے جانے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اکثریت کے لکھے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں

’’ظالمو۔! مارنا ہی ہے تو زندہ جلا کے مارنا ضروری ہے کیا‘‘

اسے رہنے دیجیئے۔ یہ مدعا نہیں ہے۔ احتجاج کی بات کرتے ہیں۔ وہ احتجاج جو ہمارے اجتماعی شعور نے کیا۔ ذرائع ابلاغ اور سماجی ذرائع ابلاغ پہ اس ایک برس میں خواتین کے حقوق کیلیے ہونے والا شور کسی طرح اکٹھا کیجیئے۔ اس میں سے وہ شور الگ کر دیجیئے جو زندہ جلائی گئی زندہ گاڑی گئی گولی سے ماری گئی خواتین کے لیے اٹھا، اور وہ شور الگ کر دیں جو ٹریکٹر اور شلوار کے گرد گھوم رہا ہے۔ اب بغور جائزہ لیجیئے کہ کان پھاڑ شور کون سا ہے؟ کیا خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم پہ اٹھنے والا شور اس شور کا عشر عشیر بھی ہے جو دو خواتین کے لیے اٹھا۔؟

مسئلہ کیا ہے۔؟

Sharmila-Farooqi-Scandalsآپ ہماری بات سامنے کی دیوار پہ مار دیجیئے، مگر پچھلے دو ہفتوں میں اٹھنے والا شور اس لیئے طاقتور تھا کہ اس میں طبقاتی و سیاسی عصبیت کارفرما تھی۔ کیا واقعی یہ شور خواتین کیلیے اٹھا۔؟ سچ میں؟ اچھا۔ یہ بتلایئے کہ کون کس نتیجے پہ پہنچا؟ جب فردوس عاشق اعوان نے کشمالہ طارق کے لیے انتہائی نازیبا جملے کہے تھے، تب کیا ہمارے ہاں شرح خواندگی کم تھی جو ہم نے زبان موڑ کے پیٹ میں رکھ لی تھی؟ جب رانا ثنااللہ صاحب نے شرمیلا فاروقی کے لیے سوقیانہ زبان استعمال کی تھی، تب کوئی قیامت ٹوٹی تھی؟ ٹوٹ بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ میثاق جمہوریت کی نزاکتوں کا ہمیں احساس تھا۔ میں آج خود سے سوال کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ جب ایان علی کے لیے ہم ذو معنی جملوں کا استعمال کر رہے تھے تو اہل علم ہمیں وقت کا ابن انشا کیوں کہتے تھے؟

عرض کیا تھا۔!

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ کیمرے کی آنکھ میں پانی نہیں ہوتا۔ جو بھی آئے سوچ کر آئے کہ یہاں شلواریں محفوظ رہتی ہیں نہ دستاریں۔ کیا اب یہ بھی سمجھانا پڑے گا کہ شیخ رشید اور فیصل رضا عابدی جیسے کردار میڈیا نے کیوں پال رکھے ہیں؟ فیاض الحسن چوہان، مراد سعید، عابد شیر علی اور طلال چوہدری کی بلائیں کیوں لی جاتی ہیں؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ جہاں مفتی عبدالقوی یا عامر لیاقت ہوگا تو وہاں کیا ہوگا؟ قندیل کا دامن نچوڑ کے ہمیں کیا پلانا چاہتے ہیں؟ خواتین کے حقوق کا سارا کا سارا بوجھ ماروی سرمد اور دو مزید بدلحاظ خواتین کے ہی کندھوں پہ کیوں دھرا ہے؟ یہ سارے کردار تشکیل دینے والے کیا انسانی حقوق پہ یقین نہیں رکھتے؟ یہ کل ان خواتین وحضرات کو نہیں لڑوائیں گے؟ سیاست کی اپنی مجبوریاں ہیں صاحب۔ اس کی اخلاقیات مسلمہ انسانی اخلاقیات سے بہت مختلف ہیں۔ یقین نہ آئے تو مثال عرض کیے دیتا ہوں۔ چلیں میرے ساتھ ۔ شرمیلا فاروقی سے ملتے ہیں ۔

شرمیلا یہ بتائیں کہ خاتون پہ کوئی رشتہ مسلط کیا جا سکتا ہے کیا؟

قطعاً نہیں۔

کیا لڑکی کو حق ہے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرے۔؟

  • یہ کیسا چیپ سوال ہے، یس اف کورس یہ لڑکی کا ہی تو رائٹ ہے۔

maryamnawazsharifیہ تو ہوگیا ایک بیانیہ۔ اب شرمیلا فاروقی کی جناب میں ایک اور مسئلہ رکھتے ہیں۔ چلیں جی ایکشن

رانا ثنااللہ نے جو آپ کے بارے میں کچھ نازیبا کہا آپ نے سنا۔؟

رانا صاحب کو کہیں کہ اوقات میں رہیں ورنہ ہمیں بھی مریم نواز کی حقیقت معلوم ہے۔

کیا مطلب مریم نواز کی حقیقت؟

ہمیں سب پتہ ہے کون کس کے ساتھ بھاگی تھی۔

بھاگی تھی، مطلب؟

کیوں آپ کو نہیں پتہ۔؟

جی پتہ ہے مگر اس نے تو شادی کی تھی اپنی مرضی سے

وٹ ایور، جو بھی کیا تھا۔

اچھا

ایک افسوس اور ایک سوال کی اجازت ہمیں درکار ہوگی۔

سوال یہ ہے کہ۔!

اس سماج کی عنبرینوں سمیراوں خانزادیوں اور آمناؤں کا قصور یہ ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت، کسی فکری طبقے اور مذہبی فرقے سے تعلق نہیں رکھتیں؟ سوال یونہی نہیں اٹھایا۔ رواں برس اجتماعی زیادتی کے ایک ہی کیس پہ شور اٹھا اور قیامت کا اٹھا۔ کیوں۔؟ کیونکہ مرکزی ملزم کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے تھا۔ اور اہلِ مذھب؟

افسوس یہ ہے کہ۔!!

ہمارے ہاں دانشوارانہ اتفاق رائے ظلم کی ان اقسام پہ استوار ہوتا جارہا ہے جو اقسام سیمینار مارکہ این جی اوز نے تشکیل دی ہیں۔ فقط وہ این جی اوز مراد ہیں جن کا حقہ پانی اس دن بند ہوجائے گا جس دن پاکستان میں خواتین کو حقوق مل جائیں گے۔

یاد رہے کہ۔!!

اگر سیاسی مفادات ابلاغی کمر شل ازم اور رفاہی وظیفہ اندوزیوں میں ہم نے شعوری و غیر شعوری طور پہ خواتین کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیئے تو پھر الزام کسی مناسب جگہ ہی رکھیئے گا۔ مولویانہ ہٹ دھرمی یا پھر سیاسی دلیل؟َ فیصلہ میں نے کرنا ہے۔ آپ نے کرنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بیچ دستار اور شلوار کے

  • 13-06-2016 at 8:54 pm
    Permalink

    آوے کا آوا ہی بھگڑا ھوا ھے یہاں کسی کا نہ کوی حق ھے اور نہ ھی کسی کی عزت محفوظ ھے. عورت کیا یہاں کسی مرد کا حق محفوظ نہی ھے جسکی لاٹھی اسی کا بھینس والا فارمولا چل رھا ھے …جو طاقت ور ھے وہ کمزور پر ظلم کررھا ھے. اور جو کمزور ھے اسکو اپنے اور اپنے بچوں کی پیٹ کا غم کھایے جارھا ھے.نام کے مسلمان ھیں لیکن کام شیطانوں والے ھیں. جب جسے چاھو گردن ناپ لو کون ھے جو پوچھےگا .عدالتیں نہی بھای نہی عدالت میں اتنی تپڑ کہاں تو کیا مولوی پوچھےگا نہی بھای نہی مولوی کے اپنے بکھیڑے بہت.تو کیا سیاستدان نہی بھای نہی اسے سیاست سے کہاں پرست تو کیا فوجی جوان نہی بھای نہی اسے اپنے پلاٹ و پرمٹ کا غم…تو کون آخر کون پوچھےگا اللہ میاں ھاں اللہ میاں ضرور پوچھےگا لیکن اخرت میں تو چلو پھر سب لوگ آخرت کا انتظار کرتے ھیں ….جب تخت اچھالے جاینگے جب تاج گھراے جاینگے

Comments are closed.