برصغیر میں جوہری تصادم کا خطرہ


mujahid aliامریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی موجودہ صورت حال میں دونوں ملکوں کے درمیان جوہری تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ تاہم امریکہ اس حوالے سے کوئی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے سے گریز کررہا ہے ۔ اس اندیشے کے باوجود امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ نیوکلئیرسپلائیرز گروپ NSG میں بھارت کی شمولیت سے صورت حال یک طرفہ طور سے تبدیل نہیں ہوگی۔ ادھر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کی وجہ پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت کو قرار دیا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے امریکہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ محسوس کرنے کے باوجود یک طرفہ پالیسی ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

ایک پاکستانی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں امریکہ کے اعلی عہدیدار نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے علاوہ بھارت سے امریکہ کی بڑھتی ہوئی قربت کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس انٹرویو میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کے این ایس جی NSG میں شمولیت کی کوششوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ یا تصادم کی صورت حال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکہ بدستور بھارت کی اس 48 رکنی گروپ میں شمولیت کے لئے زور لگا رہا ہے۔ جبکہ چین نے اس سوال پر اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ہم نئے ارکان کی گروپ میں شمولیت پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے نقطہ نظر سے یہ بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ گروپ کی رکنیت چاہنے والا ملک پہلے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے NPT پر دستخط کرے۔ بھارت اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر این ایس جی میں شمولیت کے لئے بھارت کو استثنیٰ دینے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا اطلاق دوسرے ملکوں پر بھی ہونا چاہئے۔ اس بیان کا مقصد یہ ہے چین گروپ میں پاکستان کی شمولیت پر اتفاق رائے ہونے کی صورت میں بھارت کی رکنیت قبول کرنے پر تیار ہو جائے گا۔ امریکہ ایک طرف زور شور سے بھارت کی شمولیت کے لئے سفارتی کوششیں کررہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کی درخواست کے بارے میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے کی بجائے یہ کہتا ہے کہ اگر گروپ میں اس بارے میں اتفاق رائے ہو گیا تو پاکستان اس اہم گروپ کا رکن بن سکتا ہے۔ اس امریکی حکمت عملی کی بنیا د اس تصور پر ہے کہ پاکستان کی طرف سے ماضی میں جوہری ٹیکنالوجی کی ایران اور شمالی کوریا کو فراہمی کے الزامات کی روشنی میں، گروپ میں شامل متعدد ملک پاکستانی رکنیت کی مخالفت کریں گے اور امریکہ اس مخالفت کا سہارا لے کر پاکستان کو گروپ سے باہر رکھ سکتا ہے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے تسلیم کیا کہ برصغیر میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں اضافہ کی موجودہ صورت حال میں اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ جوہری تصادم پر منتج ہو سکتی ہے۔ اس سنگین اندیشے کے باوجود امریکہ اپنی پالیسی کے خطرناک عواقب کا اندازہ کرنے یا انہیں تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ تصادم کی یہ صورت حال پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان مفاہمت پیدا ہونے کی صورت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس قسم کے مراسم استوار ہونے سے علاقے میں امن اور استحکام پیدا ہو سکے ہو گا۔ لیکن یہ امریکی مؤقف بھی تضاد بیانی پر مشتمل ہے۔ امریکہ ، بھارت کو چین کے مقابلے میں فوجی اور اقتصادی طور سے تیار کر رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دورہ واشنگٹن میں واضح کیا ہے کہ بھارت نے بحیرہ ہند میں جوہری آبدوزوں اور اینٹی بلاسٹک میزائلز نصب کرنے کے جس پروگرام پر عملدرآمد شروع کیا ہے، وہ درحقیقت چین کے خلاف امریکہ اور بھارت کے مشترکہ دفاع کا حصہ ہے۔

اس صورت حال میں امریکہ کی طرف سے علاقے کی تین بڑی طاقتوں کے درمیان مفاہمت کی بات، اس کی عملی پالیسیوں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کی سرپرستی کرتے ہوئے امریکہ ایک ایسی صورت حال پیدا کر رہا ہے جس میں بھارت اور چین کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تصادم اور تنازعہ پیدا ہونا لازم ہے۔ امریکہ پاک بھارت مذاکرات اور تعلقات بحال کرنے کی بات تو کرتا ہے لیکن عملی طور پر وہ اس مقصد کے لئے کام کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعطل اور دوری کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو اپنے ملک سے ایسے گروہوں کو ختم کرنا چاہئے جو بھارت میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن وہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں تخریب کاری کے واقعات کا ذکر کرنے سے انکار کرتا ہے حالانکہ پاکستان نے گزشتہ دنوں بھارت اور افغانستان کے کئی جاسوس گرفتار کئے ہیں۔ ان لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں پاکستان میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔

اسی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ اعزاز چوہدری نے آج سینیٹ کو بتایا ہے کہ بعض معاملات پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ اس کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں دوری کی ایک وجہ پاکستان کی چین سے قربت اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔

ان دونوں معاملات پر امریکہ اور بھارت مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کے لئے چین کا تعاون ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ امریکہ اگر زمینی حقائق کے مطابق کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کرے گا تو اس علاقے میں اسے ایک فریق کی حیثیت سے دیکھا جائے گا جو دو متحارب ملکوں میں سے ایک کی سرپرستی کرکے تنازعہ اور تصادم کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali