داڑھی، ساڑھی میں پھنسے پاکستانی


mubashirصحیح بخاری کی جلد نمبر ایک، باب نمبر دو کی دسویں حدیث کے راوی، جناب حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، اور حدیث کا میرے نزدیک قریب ترین اردو ترجمہ کچھ ایسے ہوگا: ” چند لوگوں نے اللہ کے پیغمبرؐ سے پوچھا کہ کس کا (فہمِ) اسلام سب سے بہترین ہے؟ تو اللہ کے نبیؐ نے جواب دیا : وہ کہ جو دوسرے مسلمانوں (اور انسانوں) کو اپنی زبان اور ہاتھوں سے نقصان نہ پہنچائے۔” اس حدیثِ مبارکہ سے اک حدیث پہلے یعنی نویں حدیث میں بھی آقامحمدؐ نے کچھ ایسا ہی فرمایا ہے۔ یہ حدیث، حضرت عبداللہ بن امر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب ہے اور اسکے اک حصہ کا میرے نزدیک ترجمہ یہ ہوگا: اللہ کے نبیؐ نے کہا: “مسلمان وہی ہے جو دوسرے مسلمانوں (اور انسانوں) کواپنی زبان اور ہاتھوں سے نقصان نہ دے۔” اس حدیث محمدیؐ کا اگلا حصہ مہاجر کی کچھ فضیلت بیان کرتا ہے، جو فی الحال موضوع نہیں۔

اب آئیے آپ کو اک دوسری سمت میں لیے چلوں۔

آکسفرڈ ڈکشنری آف پالیٹکس کے تیسرے ایڈیشن، جو 2009 میں شائع ہوا، کے مطابق، “لبرلزم عمومی طور پر وہ (عمرانی) خیال ہے کہ جس کے تحت سیاست کا مقصد (قانون کے تحت) شخصی حقوق کا تحفظ اور افراد کے لیے (اپنے سیاسی) انتخاب میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہیں۔

جبکہ کیمبرج یونیورسٹی پریس کی کتاب، ویسٹرن پولیٹیکل تھیوری ان دا فیس آف دا فیوچر” کے مطابق، لبرلزم “اک ایسی سیاسی اساس ہے جو آمریت اور (منفی) قدامت پرستی کی مخالفت کرتی ہے، اور افراد میں عمومی (معاشرتی) برداشت کی روایت بڑھاتی ہے۔”

آخری یہ کہ میرے نزدیک لبرلزم کی اس سے بہتر تعریف شاید ممکن نہیں جو ساتوشی کانازاوا نے 2010 میں پیش کی: “اک حقیقی اور معنی خیز (مثبت) لگن جو دوسرے افراد کی بہتری کو حاصل کرنے کی متمنی ہو اور اپنے ذاتی (معاشی، معاشرتی، ذہنی) ذرائع سے سخاوت کے ساتھ دوسروں کی بھلائی چاہتی ہو۔”

آپ اگر لبرل کی اک عام فہم تشریح چاہتے ہیں تو وہ آپکو فارلیکس کی فری ڈکشنری سے کچھ ایسے ملتی ہے: ” وہ (شخص) جو بہتری چاہتا ہے، نئے خیالات کو خوش آمدید کہتا ہے، دوسرے کے رویے اور خیالات کو (خوشدلی) سے برداشت کرتا ہے، قدامت پرستی کے خیالات کا تابع نہیں ہوتا، کشادہ ذہن کا حامل۔”

چند دل قبل مولانا حمداللہ صاحب اور ماروی سرمد صاحبہ کے درمیان اک ٹی وی چینل پر بدکلامی ہوئی۔ میں نے بھی وہ منظر دیکھا اور مجھے کوئی افسوس نہیں ہوا اور حیرت نہیں ہوئی۔ میں 1997 سے پاکستانی سیاست اور مذہب سے جڑے معاشرتی اور عمرانی جائزوں کے کام سے منسلک ہوں، اور مجھے اس کے علاوہ اور کچھ آتا بھی نہیں، تو اک خیال کافی راسخ یہ ہے کہ پاکستان کے عمومی مُلا اسلام کےاتنی ہی داعی ہیں، کہ جتنا عمومی لبرلز، لبرلزم کے۔ ملائیت کو مگر اپنی تشدد کرنے کی طاقت اور خوف کی اک دومونہی برتری بہرحال حاصل ہے جس میں وہ “عظیم پاکستانی عوام” کی ردعمل کی جذباتیت سے ایندھن ڈالتے چلے آ رہے ہیں، اور نجانے یہ سفر کب تک جاری رہے گا۔ اپنے عظیم پاکستانی عوام بھی کبھی اسلام، شرع اور “مسلمانوں کی خون آلود تاریخ” میں فرق روا رکھنا مناسب نہیں سمجھتے، لہذا اک تیزابیت ہے کہ جاری و ساری ہے۔

دوسری جانب لبرلزم کی ملائیت ہے، جسکے ہاتھ میں بھلے خوف اور تشدد کا پھاوڑا نہیں، مگر اپنی تخلیقی منطق، دلیل کی کدال اور سیاسی ردعمل کی کلہاڑی ضرور ہے جسے وہ عمومی طنز و تحقیر کے تیزاب میں ڈبو ڈبو کر دوسری جانب کے رجعت پسند ملاؤں کو مارتے رہتے ہیں۔ ملائیت کے تشدد سے نہ تو اسلام کا بول بالا ہوتا ہے، اور نہ ہی لبرلز کے کاسٹک سوڈا جیسے جوابات سے لبرلزم کی کوئی خدمت ہوتی ہے۔ آپس کے اس ملاکھڑا میں، ہاں مگر، عظیم پاکستانی عوام کہ جن میں سے گیلپ کے اک سروے کے مطابق، تقریبا 85٪ کبھی کسی لائبریری میں گئے ہی نہیں، کے عظیم ذہنی شور اور خلجان میں مسلسل اضافہ ضرور ہوتا ہے۔

اگر میرا ذہن ساتھ دے رہا ہےتو یاد پڑتا ہے کہ شاید 2002 میں ہیرالڈ نے اک کوَر سٹوری کی تھی کہ جسکا عنوان تھا “Will the Real Pakistani Women Stand Up?” کہ کیا اصل پاکستانی عورت کھڑا ہو گی؟ پس منظر اس وقت مختاراں مائی کے ساتھ ہونے والے واقعہ اور دوسری جانب جنرل مشرف صاحب کی “اعتدال پسند روشن خیالی” کے چکروں میں ہونے والے مسلسل فیشن شوز تھے کہ جس میں عورت گویا اک کھلونا ہی نظر آتی تھی۔ کمی بیشی معاف کہ بات بہت پرانی ہو چکی، مگر اس آرٹیکل کا مدعا یہی تھا کہ اصل پاکستانی عورت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں گم، خاموش، پریشان اور ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ اسکا بیانیہ کہاں ہے؟

آخر میں کہنا یہی ہے کہ مولانا حمداللہ صاحب نے ابتدا کی، غلط کیا۔ ماروی سرمد صاحبہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، غلط کیا۔ عمل کے خلاف ردعمل کی بھی کچھ مناسبت ہوتی ہے اور وہ مناسبت قائم نہ رہے تو ردعمل ، عمل کوگہنا دیتا ہے۔ مگر یہ میرا خیال ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ “جج صاحب، اس شخص نے مجھے پہلا، تیسرا، آٹھواں اور بیسواں مُکا مارا، جبکہ میں نےصرف بیچ والے مُکے مارے!”

مجھے مذہب اور لبرلزم، دونوں کی اپنی طرز کی ملائیت کا تجربہ ہے۔ میں بھگت چکا ہوں اور بات اس پر ختم کرونگا کہ مولانا حمداللہ صاحب کا حقیقی اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے، کہ جتنا ماروی سرمد صاحبہ کا حقیقی لبرلزم سے۔ مولانا صاحب نے زبانی جوڈوکراٹے کیے، خاتون صاحبہ سوشل میڈیا پر لکھ کر مکس مارشل آرٹس کرتی ہیں۔ داڑھی اور ساڑھی کی اس جنگ میں، صاحبو، حقیت کہیں درمیان میں گم ہے اور اسکو تلاش کرنا فرد کی ذمہ داری ہے۔ وگرنہ مال بیچنے والوں کے لیے سب سے بہتر تو یہی ہے کہ خیال کی اس دھند میں ان کا مال مسلسل ویسے ہی بِکتا رہے جیسا پچھلے کئی عشروں سے بکتا چلا آ رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “داڑھی، ساڑھی میں پھنسے پاکستانی

  • 14-06-2016 at 1:50 pm
    Permalink

    بہت خوب

Comments are closed.