سر دھڑ کی بازی


asif-farrukhi_1کہانیوں کے یاد کرنے کا یوں تو کوئی وقت نہیں ہوتا، لیکن میں روزانہ صبح گھر سے نکل کر دفتر کے لیے روانہ ہوتا ہوں تو مجھے وہ کہانی یاد آجاتی ہے۔ پرانی داستانوں میں کہیں یہ احوال پڑھا تھا کہ طلسم کو فتح کرنے کا ارادہ باندھ کر سفر پر نکلنے والے شہزادے کا ایک مقام پر سامنا بے سروں کی فوج سے ہوا تھا۔ ان کے دھڑ سلامت تھے، ہاتھ پائوں پورے تھے، ہتھیار اٹھائے اور گھوڑوں پر سوار آگے بڑھتے تھے لیکن جب شہزادہ تلوار اٹھا کر وار کرتا تو دیکھ کر حیران رہ جاتا کہ ان کے سر پہلے سے کٹے ہوئے ہیں۔ شہزادہ دُبدھے میں پڑ جاتا کہ جس کا سر ہی نہ ہو، اس پر کاری وار کیسے کیا جائے، اس کو شکست کیسے دی جائے۔ مجھے اب اتنا یاد نہیں رہا کہ اس شہزادے نے فوجِ بے سراں کو زیر کیسے کیا تھا۔ شاید اس نے ان کے قلب پر وار کیا تھا، یا لوحِ طلسم سے مدد لی ہوگی۔ یہ آخری احوال تو یاد سے محو ہوگیا لیکن باقی کی داستان روزانہ صبح یاد آتی ہے جب کورنگی روڈ سے مُڑتا ہوں، کالا پل سے گزرتا ہوں اور شارع فیصل پر گاڑیوں کے بے تحاشا ہجوم میں آہستہ آہستہ، چیونٹی کی رفتار سے رینگنے والی قطار کا حصّہ بن جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ حدِ نگاہ تک چاروں طرف اشتہاروں کی بھرمار ہے__ یہ لے لو، وہ خرید لو! اس میں میری نظر اس خاص اشتہار پر جم جاتی ہے جس میں کوئی حسین چہرہ ہے نہ کھکھلاتی ہوئی مسکراہٹ، بلکہ صرف جسم۔ مخصوص برانڈ کے ملبوس سے مزّین اور سر سے عاری۔ ایک، دو، تین…. میں ان کو گنتا چلا جاتا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ پرانی کہانی سے نکل کر یہ ہے فوجِ بے سراں شہر پر حاوی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور میں اس ادھیڑ بُن میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ اتنے بہت سارے دھڑ__ ان کے سر کہاں گئے اور کیسے کٹ گئے؟

شہزادوں کے طلسم والی داستانیں ماضی کا حصّہ ہوئیں، اب تو اشتہار بازی اور برانڈ مصنوعات کا دور سرمایہ کاری ہے۔ میں اس اشتہار کو دھیان سے دیکھتا ہوں۔ ملبوسات کے لیے دعوت عام ہے لیکن جس کمپنی نے یہ اشتہار دیا ہے انھوں نے اپنا نام نمایاں کرنے کے بعد لباس کا ماڈل تو نسوانی رکھا ہے، چہرہ نہیں۔ کیا یہ پردہ داری کی کوئی نئی قسم ہے؟ مگر یہ کیسا پردہ ہے کہ جسم کے دلاویز خطوط اور ساعدِ سیمیں تو جلوہ افروز ہیں مگر چہرے کے خطوط غائب۔ یا مظہر العجائب!

0001مگر مجھے اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے اشتہار میں نے پہلے بھی دیکھے ہیں۔ زندہ عورت کے بجائے عورت کے حجم کے ماڈلز اور ڈمی۔ ان پر لباس پہنائے یا مڑھ دیے جانے کے بعد تیار ہونے والے اشتہارات کراچی میں جابجا نمائش کے لیے پیش کیے گئے تھے جن کو ایسی کمپنی نے تیار کیا تھا جس کا نام انگریزی کے محض ایک حرف پر مبنی تھا۔ ہم سب اس قصّے سے واقف تھے کہ  گٹار بجاتا، دانتوں میں گھاس کے تنکے چباتا وہ نوجواں گلوکار لمبی سی داڑھی کی افزائش کے ساتھ اسی لحن کے ساتھ نعتیں، مناجاتیں پڑھنے لگا۔ صرف اور صرف دھڑ پر مشتمل اشتہاری نمونے اسی نے وسیع پیمانے پر متعارف کرائے تھے۔ بس دھڑ عورت جیسا ہو، روح نہ ہو چہرہ نہ ہو۔ لگتا ہے اس کی تحریک کامیاب جا رہی ہے اور اس روش پر چلنے والے اور لوگ بھی سامنے آگئے ہیں۔ ایک نہیں کئی دروازوں سے نکل رہی ہے یہ بے سروں کی فوج۔

عام گزرگاہوں اور بڑی سڑکوں کے دونوں طرف نصب یہ قدآدم، جہازی سائز کے اشتہار اور بل بورڈز کراچی کا نیا فصلی میوہ ہیں جو اس کثرت سے نظر آنے لگے ہیں کہ بعض جگہ سڑک کے کنارے کچھ اور نظر نہیں آتا، آسمان بھی عمارتوں اور ان بورڈز کے درمیانی فاصلے میں جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ کراچی کا نیا لینڈ اسکیپ ہے__ پُرہجوم سڑکیں، گاڑیوں کی قطاریں، کوڑے کچرے کے ڈھیر، ملبہ اور گندگی، اُبلتے ہوئے گٹر اور بہتا ہوا گندا پانی جب کہ پینے کے صاف پانی کی قلّت ، شہری نظام کی بربادی، ایسا لگتا ہے کہ پورے شہر پر بے سروں کی فوج نے غلبہ حاصل کر لیا ہے جس کی کارکردگی اور تباہی کے آثار ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔ دیکھنے کے لیے کچھ اور باقی نہیں رہا۔

0388448اور پھر زندگی کے حجم سے بڑے یہ اشتہار۔ میرے ایک دوست کو بڑی بے چینی کے ساتھ سردیوں کے رخصت ہونے اور اس موسم بہار کے آنے کا انتظار رہتا تھا جو کراچی میں برائے نام بھی نہیں آتا تھا۔ موسم بہار کے آنے سے پہلے ٹیلی وژن پر رنگ برنگی لان کے اشتہار آنے لگتے تھے اور بہار کے ان رنگوں کو پہنے، اوڑھے، ہنستی مسکراتی، اٹھلاتی لڑکیاں۔ اب شاید وہ بھی خواب و خیال بن جائیں اور میری عمر کا کوئی بوڑھا یہ کہہ اٹھے، یہ اس زمانے کی بات ہے جب کپڑوں کے اشتہار میں لڑکیاں آتی تھیں، سچ مچ کی لڑکیاں! ان اشتہاروں کی تصویریں دیکھنا مجھے اب بھی اچھا لگتا ہے، بے سر کی ماڈلز سے زیادہ۔ میڈیکل کالج کے زمانے کی بات ہے۔ مجھے یاد ہے میرے ان دوست کی بات پر ایک اور دوست نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا، بنیان انڈرویئر کے اشتہاروں کا کوئی موسم نہیں ہوتا، کراچی کی طرح۔

اپنی اس پسند کے اعترافِ جرم کے ساتھ میں یہ بھی مان لوں کہ اشتہاروں کے نام پر عورتوں کے استحصال کو میں کسی طرح دُرست نہیں سمجھتا۔ چند ایک چیزیں بیچنے کے نام پر عورتوں کو اشیائے صرف کی طرح استعمال نہ کیا جائے، ان کا Commodifcation  نہ ہو۔ کشور ناہید کی نظم مجھے یاد آتی ہے:

موزے جوتے بیچنے والی عورت میرا نام نہیں ہے__

veet-advert_2215792bاس کے باوجود عورت کے سر کو منہا کر کے محض دھڑ کے بل بوتے پر تجارت کو فروغ دینا کہاں کا سماجی انصاف ہے؟ جسم تو رکھ لیا، سرکاٹ کے علیحدہ پھینک دیا۔ جسم تو ڈمی کا بھی ہوتا ہے مگر آنکھ، ناک، کان اور ہونٹ عورت کے وجود کا حصّہ ہیں، چاہے ان اشتہاروں کے لیے کتنے ہیں غیرضروری کیوں نہ ہوں۔

ہر دھڑ کے ساتھ ایک عدد سر بھی ضروری ہے__ پرانی کہانیوں نے تو جیسے سردھڑ کی بازی لگا رکھی تھی۔ قدیم ہندوستان کے ایک قصّے میں ایک عورت کے رونے، گڑگڑانے سے اس کے مقتول شوہر اور بھائی کو موت سے واپسی کا حکم ہوا۔ لیکن اس دوران ان کے سر، دھڑ بدل گئے۔ عورت اس سوچ میں پڑ گئی کہ سر کس کا اور دھڑ کس کا، شوہر کون اور بھائی کون۔ اس پرانے قصّے کا باکمال ادیب توماس مان نے یوروپی طویل افسانہ بنا دیا، پھر انتظار حسین نے ’’نرناری‘‘ لکھا اور سر کے بجائے دھڑ کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسم ناقابل تردید حقیقت ہے! برسوں پہلے سلیم احمد نے نئی نظم کے لیے پورے آدمی کی شرط لگائی تھی کیوں کہ ان کے خیال میں نچلے دھڑ کی حقیقت سے انکار کرکے شاعر نہیں بن سکتا لیکن دھڑ کے لیے سر بھی تو ضروری ہے۔ محض دھڑ کے بل بوتے پر آدمی پورا ہوتا ہے نہ عورت۔ اگر کوئی چیز پوری ہوتی ہے تو بس اشتہاری ضرورت۔

لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ جس معاشرے میں بل بورڈز کراچی کے آسمان کی جگہ لے لیں، عورتوں کی جگہ بے سر کے پُتلے آجائیں تو پھر اسلامی نظریاتی کونسل کا شمار سامانِ تعیّش میں ہونے لگے گا!


Comments

FB Login Required - comments