طالبان، امریکی ڈرون اور آرمی چیف


Imam Bakhsh 3پاکستان بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں امریکی وفد سے ملاقات کے دوران امریکی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں مُلا فضل اللہ اور تحریک طالبان پاکستان کے دیگر مطلوبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں۔ آرمی چیف نے اِس دوران بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے (جِس میں افغان طالبان کا سربراہ مُلا اختر منصور مارا گیا) پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اُنھوں نے دو ٹوک انداز میں مؤقف اپنایا کہ مستقبل میں ایسے حملوں کی صورت میں پاکستان اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے حوالے سے کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ اِس سے قبل پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر کے چیمبر میں بھی بری فوج کے سربراہ میڈیا کے سامنے برملا کہہ چکے ہیں کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ ہے، جسے کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ نیز یہ کہ ایسے ڈرون حملوں کی مذمت بہت چھوٹا لفظ ہے اور اس معاملے کو تمام متعلقہ فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا جا رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف کا مُلکی سالمیت اور خودمختاری کے حوالے سے تازہ موقف مِلت کے سوکھے دھانوں پر گویا بارش کی ٹھنڈی پھوار بن کر اُترا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جغرافیائی خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی ڈرون تقریباً چار سو بار وطنِ عزیز کے اندر حملے کر چکے ہیں۔ آرمی چیف کے اِس تازہ دو ٹوک موقف کو مُثبت انداز میں لینا چاہیئے کہ پاکستان کے جری سپاہی کی یہ خالی پیلی بڑھک نہیں ہے اور نہ ہی یہ چتاؤتی “اِب کے مار” والی دھمکی ثابت ہو گی۔

آرمی چیف کا حالیہ موقف نے اُن کج فہموں کے نقطۂ نظر کی ہوا نکال دی ہے جو تکرار کرتے پِھرتے ہیں کہ وطنِ عزیز کے بیس کروڑ عوام کو ذرا برابر بھی “کُسکنے” نہ دینے والے صاحب سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ قریباً ایک لاکھ پاکستانیوں کو شہید کرنے والے طالبان پر پاکستانی فوج اِتنی مہربان کیوں ہے؟ اُن کا اِصرار ہے کہ اگر کوئی پاکستانی بلڈی سویلن قطرہ بھر بھی “کُسک” جائے تو اصحاب وقار کا تخیلی مورال زمین بوس ہونے پر ایسا قہر نازل ہو جاتا ہے کہ خُدا کی پناہ۔ یہ حقیقت الم نشرح کی حیثیت رکھتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی قیادت یعنی بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور نیک محمد سے پاکستانی افواج کے روابط تھے، وہ پاکستانیوں کو دہشت گردی کے ذریعے شہید کرنے میں بالکل آزاد تھے۔ کون سی حساس جگہ ہے، جہاں دہشت گردوں نے حملہ نہ کیا ہو؟ جی ایچ کیو، ایس ایس جی ہیڈکوارٹر، آئی ایس آئی لاہور آفس، آئی ایس آئی ملتان آفس، آئی ایس آئی سکھر آفس، واہ آرڈیننس، اسلام آباد ایف سی، چارسدہ ایف سی، جناح انٹرنیشنل کراچی ائیرپورٹ، پشاور ائیرپورٹ، جیوانی ائیرپورٹ، مہران نیول بیس، کامرہ ایئربیس، سمنگلی ایئر بیس، بڈھ بیر ایئربیس کیمپ، بنوں جیل اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر بھرپور حملے کیے گئے۔ مگر تحریکِ طالبان پاکستان کے سب سربراہوں کو افواجِ پاکستان کی بجائے امریکی ڈرونوں نے ہلاک کیا۔ غدارِ وطن بار بار سوال اُٹھاتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کی معیشت کا بیڑا غرق کرنے اور عوام کے کان پھاڑ دینے والے ڈھول ضربِ عضب کو زور دار طریقے سے بجانے والی افواجِ پاکستان نے آج تک ایک بھی بڑے طالبان رہنما کو ہلاک نہیں کیا؟

آرمی چیف کا امریکی حکام کے سامنے زور دار موقف اُن کوڑھ مغزوں کے مُنہ پر زور دار تمانچہ ہے، جو سوال اُٹھا رہے ہیں کہ مُلا اختر منصور کئی برس سے پاکستان میں قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے ساتھ رہ رہا تھا، پاکستان سے بِلا روک ٹوک کئی بار بیرون ملک جاتا رہا اور واپس آتا رہا۔ اِسی طرح مُلا فضل اللہ پاکستان میں پروان چڑھا، پاکستان کے خلاف کُھلم کُھلا ایف ایم ریڈیو چلاتا رہا اور پھر آرام سے دوسرے دہشت گرد طالبان کے ساتھ سوات سے فرار ہو کر افغانستان چلا گیا۔ اب امریکہ ایسے بدترین بدخواہ کے آگے گِڑگڑانے کی بجائے اُس وقت اقوام عالم کی بہترین فوج اپنی دُنیا کی ٹاپ خفیہ ایجنسی سمیت کیوں غافل رہی؟ پیچیدہ مُلکی معاملات سے نابلد نادان بڑبولے ساتھ میں جواب بھی دے رہے ہیں۔ نہیں، نہیں، نہیں! حقیقت یہ ہے کہ ملٹری غافل نہیں تھی بلکہ اُس وقت ملکی دہشت گردی سے بڑھ کر زیادہ اہمیت کے حامل معاملات میں مصروف تھی، مثلاً پاکستانی سویلنز تسلسل کے ساتھ مسنگ پرسن ہو جاتے تھے، سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کیا جا رہا تھا، مئی 2013ء کے عام اِنتخابات کے دوران اپنے من پسند نتائج مرتب کرنے کی فکر تھی، میڈیا میں اپنے ناپسندیدہ سیاستدانوں کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا، کاکول اکیڈمی کی بغل میں اسامہ بن لادن پر امریکی حملے میں اپنی بدترین کوتاہی کا جواب دینے کی بجائے میمو گیٹ کا تانا بانا بنا جا رہا تھا، نام نہاد اچھے طالبانوں کی درپردہ مدد کی جا رہی تھی، مُلک دُشمن طاقتوں کے منصوبوں کے توڑ کی بجائے سیاستدانوں کی ذاتی زندگیوں کی جاسوسی کی جا رہی تھی، داخلی، دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر اجارہ رکھ کے ملک کو دُنیا بھر میں تنہا کیا جا رہا تھا، وطنِ عزیز کے لمحہ موجود میں سب سے بڑے مجرم پرویز مشرف کو وی آئی پی پروٹوکول دینے کے ساتھ ساتھ اُسے آرٹیکل چھ کے شکنجے سے بچانے کے داؤپیچ کھیلے جا رہے تھے۔۔۔
پاکستان کے عوام کو غداروں کی بے کار باتوں پر ہرگز یقین نہیں بلکہ اُنھیں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ یقینی طور پر اُن کی اُمنگوں پر پورا اُتریں گے، پاک فوج کے خلاف جہالت، مضحکہ خیزی اور بچگانہ باتیں کرنے والے ملک دُشمنوں کے مُنہ میں خاک ڈالیں گے۔ داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والی انجمن بوٹ پالشاں بریگیڈ کی چاپلوسیوں پر لعنت بھیجیں گے۔ وہ تاریخ میں آئین کے مطابق اپنا فرض نبھانے والے سچے اور عظیم سپاہی کے طور پر زندہ رہنا پسند کریں گے۔ اپنے مُستقبل کے لیے وہ ٹھکانا ہرگز نہیں چُنیں گے، جِسے ماضی کے آئین شِکنوں نے چُنا تھا، جو اپنے قصیدہ نگاروں سمیت تاریخ کے کُوڑے دان میں پڑے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “طالبان، امریکی ڈرون اور آرمی چیف

Comments are closed.