انتہا پسندی، رد عمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (10)


akhtar-ali-syedگفتگو کے اس مرحلے پر طوالت کا خوف دامن گیر ہے۔ ارادہ یہ تھا کہ انتہا پسندی کے اسباب پر اپنی گزارشات پیش کرنے کے بعد رد عمل کی نفسیات اور اس کے اسالیب Mechanisms اور ان کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھوں گا تا کہ یہ دیکھا اور دکھایا جا سکے کہ محکوم قومیں کس طرح رد عمل کی نفسیات تشکیل دے کر خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔۔۔۔ بات کو طوالت سے بچاتے ہوے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔

پہلی بات۔۔۔۔۔ فرائیڈ نے اپنے کام میں دفاعی میکانیت Defense Mechanisms  کا تذکرہ بہت خوبصورتی، تفصیل اور اہتمام سے کیا ہے۔ ان میکانیتوں کے ذریعے فرائیڈ ان طریقوں کی نشاندہی کرنا چاہتا تھا جو انسان مشکل صورت حال کی پریشانی Anxiety  سے بچنے کے لئے ذہنی طور پر اختیار کرتا ہے۔۔۔۔۔ دفاعی میکانیت کے یہ اصول ہم جیسے طالب علموں کو نفسیات کے ابتدائی درجوں میں پڑھائے جاتے ہیں اس لئے کہ ان کو پڑھے اور سمجھے بغیر فرائیڈ کو سمجھنا صرف مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔

دوسری بات۔۔۔۔ ہومی بھابھا Homi K Bhabha ما بعد نو آبادیاتی Post-Colonial نظام اور اس کے اثرات پر لکھنے والوں میں سے ایک اہم مفکر اور مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنے کام میں Mimicry, Hybridity, اور Stereotype جیسی دیگر اہم اصطلاحات کے ذریعے استعمار Colonizer اور محکوم Colonized معاشروں اور طبقوں کے تعلق کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک منفی تعلق ہے۔ مجھے اجازت دیں کہ کہوں کہ یہ ایک بیمار تعلق ہے۔۔۔۔ استعمار اور محکوم طبقوں کے مختلف افراد میں اس بیماری کی مختلف علامات نمودار ہوتی ہیں۔ ان علامات کا بیان مینونی (Mannoni) سے لے کر فینون (ٖFanon) اور پھر ہومی بھابھا کی تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

Fanonاگر ہم نندی صاحب کو بحث سے باہر رکھیں تو اس طالب علم کی راے میں باقی مفکرین نے استعمار اور محکوموں کو ایک مشترکہ مرض میں پرو دیا اور ایک ایسے مریضانہ تعلق میں باندھ دیا ہے جس سے مفر اب کسی کے لئے ممکن نہیں رہا۔ اس قضیے کی تفصیلات کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھیے۔ اس صورتحال میں اس طالب علم کے خیال میں استعمار اور محکوموں کے تعلق کو سمجھنے کے لئے کسی نۓ نظریاتی فریم ورک  کی ضرورت ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس نۓ فریم ورک کی زیادہ ضرورت محکوموں کو ہے۔ اس نفسیاتی فریم ورک میں دو خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ایک، یہ استعمار اور محکوموں کے تعلق کی تعریف اور وضاحت کر سکے اور دوسرے، یہ کہ ایک دوسرے پر مریضانہ انحصار کے اس تعلق کے غیر صحت مندانہ پہلووں سے نجات کی کسی صورت کی نشاندہی کر سکے۔

ڈاکٹر اختر احسن امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی ماہر نفسیات ہیں۔ جنہوں نے نفسیاتی علاج کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا تھا۔ نفسیات کے علاوہ ادب، فلسفہ، میتھالوجی اور مذہبیات جیسے شعبے بھی ڈاکٹر اختر احسن کی دلچسپی کے میدان ہیں اور ان مضامین پر بھی ان کا گرانقدر تصنیفی کام موجود ہے۔ لیکن نفسیاتی علاج پر ان کے کام نے انھیں اس شعبے کے انتہائی اہم ترین مفکرین میں شامل کر دیا ہے۔ وہ نفسیاتی علاج میں تمثال کی نئی تعریف اور استعمال کے بانی ہیں۔ نفسیاتی علاج کے لئے ان کا دریافت کردہ طریقہ اپنی نوعیت میں منفرد اور مکمل ہے۔

میں یہ گزارش کر چکا ہوں کہ مینونی اور فیںون کا تجزیہ بنیادی طور پر فرانسیسی ماہر تحلیل نفسی ژاک لاکان کے اس نظریے پر استوار ہوا تھا جو اس نے بچے کی نفسیاتی نشو و نما کے ذیل میں بیان کیا تھا۔ ڈاکٹر اختر احسن نے بھی بچوں کی نفسیاتی نشو و نما اور اس میں والدین کے کردار کے ان دیکھے پہلوؤں کو نہ صرف یہ کہ دریافت کیا ہے بلکہ نفسیاتی امراض اور علاج میں ان کی کار فرمائی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ لاکان کے نظریات کے استعمال نے جو مسائل پیدا کیے اس پر یہ طالب علم اپنی گزارشات اجمالی طور پر پیش کر چکا ہے اور انتہائی محدود علم و فہم کی بنیاد پر یہ محسوس کرتا ہے کہ استعمار اور محکوموں کے تعلق کو سمجھنے کے لئے اب ڈاکٹر اختر احسن کے نظریات کا سہارا لے کر معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے شائد اس پیچیدہ تعلق کی تعریف اور اس کے مریضانہ اثرات سے نجات پانے کا کوئی اور راستہ سجھائی دے۔    ڈاکٹر اختر احسن نے بچے اور والدین کے تعلق کے مختلف اسلوب دریافت کے ہیں۔ اس طالب علم نے استعمار اور محکوموں کے تعلق کو سمجھنے کے لئے ان اسالیب سے استفادہ کیا ہے۔ یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔ تاہم استعمار اور محکوموں کے تعلق کے نفسیاتی پہلوؤں کو پاکستانی تناظر میں سمجھنے کی ایک ابتدائی کاوش ہے۔ نہ یہ ضروری ہے اور نہ ایسا کوئی دعویٰ ہے کہ اس تجزیے سے بات صاف اور پیچیدگی دور ہو جائے گی۔ لیکن اس تجزیے سے اس موضوع پر گفتگو کے آغاز کا امکان بہر حال موجود ہے۔

mannoniآئیے اختر احسن صاحب کی تھیوری کو استعمار اور محکوموں کے تعلق کے نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں کو سمجھنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اختر احسن نے بچے اور والدین کے تعلق کے نفسیاتی پہلوؤں پر بات کرتے ہوے جن چھ اسالیب یا میکانزم کی بات کی ہے ان میں پہلا “وابستگی” Attachment ہے۔ ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ برطانوی ماہر نفسیات جان بولبی Bowlby نے بھی “وابستگی” پر اپنے انتہائی اہم نظریات پیش کیے تھے۔ بولبی کی بیان کردہ وابستگی والدین کی قربت کی ایسی خواہش کی نشاندھی کرتی ہے جس کا مقصد عدم تحفظ اور خوف کے احساس سے نجات پانا ہوتا ہے۔ اختر احسن کے نظریے میں بچہ ان طریقوں سے “وابستگی” اختیار کرتا ہے جن کے ذریعے وہ والدین کی تنقید، سزا اور سرزنش سے کامیاب نجات حاصل کرتا ہے۔ بعض بچے احکام کی تعمیل کر کے ایسا کرتے ہیں۔ بعض کھلی بغاوت کر کے، بعض کڑھ کر، بعض دل کے پھپھولے پھوڑ کر، بعض بک جھک کر، بعض جھوٹ بول کر اور بعض والدین کی مرضی اور منشا کے بالکل برعکس کام کر کے مگر زبانی جمع خرچ اور جھوٹی تابعداری کے ذریعے سزا سے بچتے ہیں۔ جس بچے کی جو حکمت عملی کامیاب ہو جائے بچہ زندگی بھر کے لئے اس سے ایسی “وابستگی” اختیار کرتا ہے جس سے الگ ہونا نہایت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس حکمت عملی سے بچے کا لگاؤ ایک جذباتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس حکمت عملی سے علیحدگی اندرونی شکست و ریخت اور سخت تکلیف کا با عث بنتی ہے۔ اس حکمت عملی کے حق اور سچ ہونے پر فرد دلائل کے انبار لگاتا ہے اور اتفاق نہ کرنے والوں کو کج فہم اور کم عقل گردانتا ہے۔ یعنی بچپن میں اختیار کردہ حکمت عملی پر ایقان اکثر افراد کے ساتھ زندگی بھر غیر متزلزل ایمان کی طرح رہتا ہے۔ ایسا ہونے کی دو سامنے کی وجوہات ہیں۔ ایک، اس حکمت عملی سے وابستگی  جذباتی ہوتی ہے اور دوسرے فرد نے اس کی کامیابی کا تجربہ ذاتی طور کیا ہوتا ہے۔

اب والدین کی جگہ استعمار اور بچے کی جگہ محکوموں کو رکھ کر دیکھئے۔ جس طرح والدین بچے کے رویے اور خیالات کے بارے میں صحیح اور غلط کا حکم لگاتے ہیں۔ صحیح اور غلط کی تعریف والدین کی مرضی اور منشا کے مطابق طے ہوتی ہے۔ حسب  منشا بات پر شاباش اور خلاف منشا بات پر سرزنش اور سزا ملتی ہے۔ بالکل اسی طرح استعمار محکوموں کے لئے صحیح غلط اور دوست دشمن کا تعین کرتا ہے۔ والدین کی طرح ان کے رویے کنٹرول کرتا ہے۔ ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلے صادر کرتا ہے۔ کس کو کتنا جیب خرچ دینا ہے کس نے کس شعبے میں ترقی کرنا ہے کس کا مستقبل جمہوریت کے ساتھ باندھنا ہے اور کس کے لئے بادشاہت dr ahsenموزوں ہے۔ والدین کی طرح یہ سب فیصلے استعمار کرتا ہے۔ یہاں تک تو ہم سب کو معلوم ہے لیکن خرابی آگے ہے۔ محکوموں کے مختلف گروہ استعماری کنٹرول سے بچنے کے لئے اپنی اپنی حکمت عملی وضع کرتے ہیں۔ کچھ ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ کچھ استعمار کا مقاطعہ کرتے ہیں۔ اور کچھ استعمار کا بود و باش اختیار کر کے خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ بعض استعمار کی ہر بات کو غلط قرار دے کر اس کی مخالفت کو زندگی کا مقصد ٹھہراتے ہیں۔ اور کچھ استعمار کے مقابلے میں اپنی بےبسی پر ایمان لے آتے ہیں۔

چونکہ استعمار کے ساتھ تنازعات کی صدیوں پر محیط ایک تاریخ ہے اس لئے اس جنگ میں اختیار کردہ طریقوں کی بھی ایک تاریخ ہے۔ ایسے افراد جنہوں نے “غیر” سے جن طریقوں سے کامیاب مقابلہ کیا تاریخ نے ان کو محفوظ رکھا ہے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں نے ایسے ہیروز کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے۔ یہ ہیروز بالعموم بہادر جنگجو ہیں۔ جنہوں نے میدان جنگ میں “غیر” یا استعمار کو شکست دی اور اقتدار حاصل کیا۔ ان ہیروز اور ان کی حکمت عملی (جنگ ) کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ ان کی پیروی میں ان کے طریقے ہی ہمیں اس دور کے استعمار سے مقابلہ کرنے میں رہنمائی اور مدد فراہم کر سکتے ہیں اختر احسن کی اصطلاح میں “وابستگی” کہلاتا ہے۔ مختلف گروہوں کے ہیروز مختلف ہیں چونکہ ہیرو مختلف ہیں اس لئے استعمار سے نبرد آزما ہونے کے طریقوں میں اختلاف کا ہونا لازمی ہوجاتا ہے جو ظاہر ہے استعمار کے فایدے میں جاتا ہے۔ ہیروز اور ان کی حکمت عملی سے وابستگی اختیار کرتے ہوے اس بات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے وقت گزرنے کے بعد آج ان ہیروز اور ان کے اختیار کردہ طریقے کس حد لائق اتباع اور قابل استعمال ہیں۔

غیر یا استعمار کے خلاف آج کا رد عمل غصے پر مبنی ہے۔ غصہ اگر نکالا جا سکے تو غضب اور جارحیت کا سبب بنتا ہے اور اگر نہ نکالا جاسکے تو بےبسی اور بے کسی کا احساس پیدا کرکے اداسی اور مایوسی Apathy کا سبب بنتا ہے۔ صوفیا اور فلاسفہ کی جگہ جنگجوؤں کا ہیرو بننا اور ان کی پیروی میں جنگ و جدال پر آمادگی، پرائیوٹ لشکروں اور تنظیموں کی بڑھتی ہوئی تعداد، دنیا فتح کرنے کے عزائم، جغرافیوں کے کونوں کو تلوار سے سیدھا کرنے کی باتیں، معاشروں میں عدم برداشت، پے در پے ناکامی کے باوجود پر تشدد راستے اختیار کرنے پر اصرار رد عمل کی اسی میکانیت Mechanism کے عملی مظاہر ہیں۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments