خواجہ سرا یا کوئی اور مخلوق؟


احسان علی خان

ihsan ali khanمیرے اردو کے استاد جو کہ ایک صحافی بھی ہیں، اکثر اپنے صحافتی کام انجام دینے مختلف علاقوں کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ ایک گاؤں کی تصویر لینے ایک دن جب وہ پہاڑی پر چڑھ رہے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو لڑکے اکیلے بیٹھے دھیمی آواز میں گفتگو کررہے تھے۔ انہیں تعجب ہوا کہ عصر کا وقت ہے، سب لڑکے نیچے گاؤں میں کھیل رہے ہیں، ایسے میں یہ یہاں اکیلے کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے تھوڑی دیر ان سے بات کی تو معلوم ہوا کہ یہ لڑکے خواجہ سرا تھے۔ اسکول ہو یا کوئی دوسری جگہ، ان دونوں کو تنگ کرنے اور ان پر جملے کسنے میں لوگ کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ تنگ آکر دن میں یہ تھوڑی دیر کے لیے لوگوں کے ہجوم سے بچ کر ملتے اور اپنا دکھ درد بانٹتے ۔ ظالم معاشرے سے دور جاکر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنانے سے ان کا بوجھ ہلکا ہوتا اور یوں وقت گزرتا جاتا۔

اب یہ تو رہا ہزاروں معاملات میں سے صرف ایک معاملہ۔ یہ ان خواجہ سراؤں کے مقابلے میں قدرے خوش قسمت تھے جنہیں اپنے گھر والے ہی گھر سے دھکے مار کر نکالتے ہیں اور پھر پوچھتے بھی نہیں۔ چاہے جیے یا مرے۔

پہلے ان لوگوں کو پیدا کیا جاتا ہے، پھر اپنی ہی اولاد کو گھر سے نکالا جاتا ہے اور معاشرے کے جانوروں کے سامنے ڈالا جاتا ہے۔ گھر سے نکالے جانے کے بعد یہ اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور پھر مرتے دم تک ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ خوشی ہو یا غم، یہ ہر موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور خون کے رشتوں سے زیادہ پیار و محبت اور خلوص کے ساتھ رہتے ہیں۔ کماتے بھی ساتھ ہیں اور کھاتے بھی ساتھ ہیں۔

معاشرہ کے لوگ ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں ذرا یہ بھی ملاحظہ کیجیے۔ یہ انہیں خوشی کے مواقع پر بلاتے بھی ہیں، ان کو گالیاں اور اذیت بھی دیتے ہیں۔ یہ جنسی تسکین کے لیے ان کو ترجیح بھی دیتے ہیں اور پھر انہیں فحش بھی تصور کرتے ہیں۔ اب تو بات اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ گالیاں دینے، آوزیں کسنے، اذیت دینے، تنگ کرنے اور تشدد سے جب ان کو تسلی نہیں ہوئی تو باقاعدہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جانے لگا۔ پشاور میں علیشا کو بے دردی سے مارا گیا۔ مارنے سے بڑا ظلم اسپتال انتظامیہ نے کیا جو یہ فیصلہ تک نہیں کر پائی کہ علیشا کو مرد کے وارڈ میں بھیجے یا زنانہ۔ کچھ پڑھے لکھے جاہلوں نے موقع غنیمت جان کر علیشا کے ساتھیوں سے ریٹ بھی پوچھا۔ علیشا نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور نہ ہی کوئی گناہ، اس کا قصور صرف خواجہ سرا ہونا تھا۔ ہم بھی کیا منصفی کرتے ہیں۔ پہلے انہیں روزگار نہ کرنے دو، کاروبار نہ کرنے دو، نوکری کرنے کا تو سوچنے تک نہ دو اور جب یہ مجبوراََ رقص کرنے سے پیٹ پالے تو اپنی غیرت دکھاتے ہوئے ان سے زندگی کا حق تک چھین لیتے ہیں۔

تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کرکے سوچیں، آپ پیدا ہوتے ہیں، دنیا آپ کو خواجہ سرا پکارنے لگتی ہے۔ انسان کا سب سے بڑا سہارا یعنی آپ کے والدین پیدا کرنے کے بعد آپ سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ بہن بھائی، رشتہ دار اور خاندان والے آپ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ بے یارو مددگار آپ باہر کی دنیا میں جاتے ہیں۔ لوگوں کی عجیب نظریں آپ کو گھورتی ہیں۔ کوئی جنسی ہراساں کرتا ہے تو کوئی دعوت گناہ دیتا ہے۔ آپ کو اپنی برادری کے لوگ ملتے ہیں۔ وہ آپ کو جانتے تک نہیں لیکن آپ کو خوش آمدید کہہ کر کھانا دیتے ہیں، رہائش دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر آپ کو پیار دیتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کے لیے کوئی کام کرنا اس معاشرے میں ناممکن ہے۔ آپ رقص کو اپنا پیشہ بناتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگوں کی حیوانیت سامنے آتی ہے اور آپ کو جینے نہیں دیا جاتا۔ ایسی صورت میں کوئی کرے تو کیا کرے؟؟

کوئی ان خواجہ سراؤں کو جو مرضی سمجھے، میں نے تو ان سے اتحاد و اتفاق کا سبق سیکھا ہے۔ یہ سڑکوں پر گھسیٹے جاتے، مارے جاتے اور انہیں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا۔ انہوں نے پختونخوا میں اپنی ایک تنظیم بنائی اور اسی ایک تنظیم کی وجہ سے پولیس، انتظامیہ اور حکومت نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے البتہ کچھ لوگ اب بھی انسان بننے کی زحمت نہیں کر رہے۔

کسی نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ محبت کیا ہے؟ بزرگ نے جواب دیا محبت ایک آگ ہے۔ کوئی کہتا ہے آگ روشنی ہے تو کوئی کہتا ہے یہ تو تپش ہے لیکن صحیح پتہ اسے ہوتا ہے جو اس میں جھلسے۔

ہمیں کیا پتہ ہمارے ہاں خواجہ سرا ہونا کتنی بڑی اذیت ہے۔ ان کے جذبات و احساسات کی صحیح ترجمانی وہی کرسکتا ہے جو خواجہ سرا ہو۔ ہم تو تماشائی ہیں، وہ تماشائی جو صرف اندازے لگانا جانتے ہیں۔

میں اس جہاں میں فقط مسخرے کا آنسو تھا

دکھائی دیتا بھی کیسے تماش بینوں کو


Comments

FB Login Required - comments