لوگ اس گھر سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟


وہ گھر جس کے پاس سے گزرنے سے بھی محلے والے گھبراتے ہیں، یہاں کس نے خود کشی کی تھی؟ جواب جان کر کوئی بھی کانپ اُٹھے

 

بھارت میں توہم پرستی بہت عام ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں، مگر تین ماہ قبل اسی توہم پرستی کے نتیجے میں ایک ایسا المناک واقعہ بھی پیش بھی آ گیا کہ جس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال مل سکے۔ بھاٹیہ چنداوت نامی شخص سمجھنے لگا کہ اس کا آنجہانی والد خواب میں اس کے ساتھ رابطہ کرتا ہے اور اسے ہدایات دیتا ہے۔ انہی خیالی ہدایات پر چلتے چلتے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ سارے خاندان نے اجتماعی خود کشی کر لی۔ چنداوت نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ آنجہانی والد انہیں خودکشی کا پیغام دے رہا ہے، جس کے بعد وہ آئے گا اور اُن سب کو پھر سے زندہ کرے گا۔ سارے خاندان نے اس بات پر یقین کیا اور اپنے ہاتھوں سے گلے میں پھندے ڈال کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس بدقسمت خاندان کا دومنزلہ گھر اب ایک بھوت بنگلے کا روپ اختیار کر گیا ہے۔ یہ گھر آسیب کا مسکن سمجھا جاتا ہے اور براری سنت نگر کے علاقے میں واقع اس عمارت کے قریب سے گزرنے کی بھی کوئی ہمت نہیں کرتا۔ شام ڈھلنے کے بعد تو لوگ اس گھر کی گلی کا رخ کرتے بھی ڈرتے ہیں۔

علاقے میں یہ بات مشہور ہے کہ بھاٹیہ خاندان کی روحیں ان کے گھر میں بھٹکتی پھرتی ہیں۔ کئی لوگوں نے تو رات کی تاریکی میں اس گھر سے آنے والی خوفناک آوازیں سننے کا دعوٰی بھی کیا ہے۔ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ قبل لوگوں نے گھر کی اندرونی طرف دیواروں کے ساتھ لوہے کے 11 پائپ کھڑے دیکھے۔اس گھر میں 11 افرد نے اجتماعی خودکشی کی تھی اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان پائپوں کا بھی کوئی تعلق اس گھر میں پیش آنے والے خوفناک واقعے کے ساتھ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں