خاندان: اصول اور اقدار بدلنے کی ضرورت (1)


zeeshan hashimہم انسان اپنی فطرت اور معاشرت میں صدیوں سے جاری ارتقاء کا حاصل ہیں – ہم جہاں آج ہیں ماضی میں کسی نے اس کی ایسی تصویر کشی نہ کی تھی اور نہ ہم آج مستقبل کی حتمی پیش گوئی اور منظر کشی کر سکتے ہیں – ہمارا وجود ، ذہن و ضمیر ، اور ہمارے اردگرد کی ساری دنیا ارتقا کے اس طویل آزاد اور خودکار نظم جسے انگریزی میں ہم self and spontaneous ordering یا self organization کہتے ہیں سے گزر کر آئی ہے – حال کو ماضی کے کسی واحد کردار (یا ایک خاص گروہ )نے ڈیزائن نہیں کیا اور نہ ہم اپنے مستقبل کو ڈیزائن کرنے کے قابل ہیں – ہم اپنے علم اور استطاعت میں نامکمل ہیں ، وقت اور جگہ کے پابند ہیں ، اسی لئے ہم سب اپنے اپنے نامکمل علم و استطاعت سے اپنے اپنے وقت اور جگہ پر اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جو مجموعی طور پر ہمیں آگے بڑھا رہا ہے ،ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم آج میں جئیں اور اس کے جتن کریں ، مستقبل جب ہے ہی نامعلوم ، تو نامعلوم کے لئے خود کو کیا کھپانا ؟ خاندان کا ادارہ بھی ایک ایسی کہانی سناتا ہے – آئیے اسے وقت اور جگہ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں –

زراعت کے آغاز سے پہلے معاشرت کی اکائی قبیلہ ہوتا تھا ، اس کے سب ارکان برابر تھے ، مشترکہ وراثت کا تصور پایا جاتا تھا – یاد رہے کہ مشترکہ وراثت کا یہ تصور بھی صرف قبیلہ کے مابین تھا ، قبیلہ سے باہر کا آدمی قبیلہ کی جائیداد پر اپنا دعوی اس وقت تک نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ اس سے وہ جائیداد بزور طاقت چھین نہیں لیتا تھا – یہ معاملہ صرف جائیداد (زر زمین خوراک ) تک محدود نہ تھا بلکہ خدا بھی قبیلہ کی ملکیت سمجھے جاتے تھے ، چونکہ ہر قبیلہ کا اپنا خدا ہوتا تھا جو عموما اس قبیلہ کا جد امجد ہوتا تھا – جب کبھی کسی کو کسی سنگین غلطی پر سزا دینا ہوتی تو اسے بجائے قتل کے قبیلہ بدر کر دیا جاتا ، یوں وہ نہ صرف جائیداد سے بے دخل ہو جاتا تھا بلکہ اس خدا کی پرستش سے بھی محروم ہو جاتا تھا جس پر قبیلہ کی مشترکہ اجارہ داری تھی – وہ دربدر بھٹکتا ، جائیداد سے بھی محروم رہتا اور خدا سے بھی – جہاں بھی رہتا دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے رہتا – یہی طرز زندگی اور اسطور اس دور کی اخلاقیات بھی تھی روایت بھی مذہب بھی علم بھی اور اس عہد کے تناظر میں سچائی بھی –

04اس معاشرہ میں عورت کی حیثیت یقینا ممتاز تھی جس کی وجہ بچوں کی پیدائش ہے – بچے خاص طور پر لڑکے مستقبل کے لئے قبیلہ کی طاقت تھے – یہ وقعت دراصل عورت کو نہیں بلکہ بچوں خاص طور پر لڑکوں کو حاصل تھی – اس پیداوار کو حاصل تھی جو عورت پیدا کرتی تھی تاکہ قبیلہ کے وقار اور طاقت میں اضافہ ہو- جو عورت جتنا بڑا کنبہ پیدا کرتی اتنی زیادہ اس کی حیثیت ہوتی – اور جو عورت بانجھ رہ جاتی وہ کمتر ترین سمجھی جاتی تھی – دوسری طرف جنگ کی صورت میں بھی وہ وبال جان تھی جس کے بارے میں خطرہ موجود رہتا تھا کہ دشمن اگر اسے اٹھا لے گا تو اس کا جسمانی استحصال کرے گا –طاقت کا ارتکاز مردوں کی طرف تھا ، جو حفاظت کرتے تھے ، لڑتے تھے ، چراگاہیں اور مال مویشی چھینتے تھے اور عورتوں سے بچے پیدا کرتے تھے -مخالف قبیلے کی عورتوں کو بستر پر لاتے اور مردوں کو غلام بناتے تھے-

زرعی عہد سینٹرل ایشیا خصوصا موجودہ ترک علاقوں کی دریافت ہے – ہندوستان میں پہلا زرعی تمدن میر گڑھ بلوچستان میں پیدا ہوا- زرعی عہد نے خوراک کا مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا تھا کیونکہ اب خوراک کو تلاش کرنے کی نہیں بلکہ خود پیدا کرنے کی ضرورت تھی – انسان نے بڑی حد تک خودکفالت حاصل کر لی تھی – ہم اپنی بقا کی جدوجہد میں کامیاب ہوئے – اسی میر گڑھ کی بستی نے وادی سندھ کی تہذیب کو زندگی دی –- وادی سندھ نے ایران سے آنے والے آرینز کے ساتھ مل کر ہندوستان کو جنم دیا – تہذیبوں کو جنم ہی زرعی عہد سے ملا-

03جب سے زراعت کو آغاز ملا ہے اس وقت سے ہماری ترقی کی شرح میں تیزی میں آئی ہے – زمانہ ماقبل زرعی عہد لاکھوں سالوں پر محیط ہے مگر ہم اس دور کے کسی علمی و تہذیبی کارنامہ سے کم ہی واقف ہیں – جبکہ زرعی عہد اس کے مقابلہ میں انتہائی کم مدتی ہے مگر ہم انگنت ایسی چیزیں گنوا سکتے ہیں جس نے ہمارے علم اور ہماری تہذیب و ثقافت کو چار چاند لگا دیئے – آخر کیوں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زرعی عہد نے ایک طرح سے ہمیں بطور نسل انسانی خوراک کی کمی کے خطرہ سے نکال کر بقا سے روشناس کروایا – آبادی میں ایک دم بہت زیادہ اضافہ ہوا –باہم جنگ پر مائل قبائل کے درمیان امن کی شروعات ہوئی اور شہری ریاستوں کا قیام ممکن ہوا (جن سے بڑی سلطنتیں پیدا ہوئیں )- زراعت سے پیدا ہونے والے سرپلس نے غیر زرعی پیشوں کو جنم دیا اور شہروں کی ثقافت قائم ہوئی ،اور ہمارے قابل اذہان فطرت کی تسخیر کے کاموں میں مصروف ہوئے –

زرعی عہد کے پیداواری عمل میں قبیلہ کی جگہ اب خاندان نے لے لی تھی – اب زمین کی ملکیت یا تو بادشاہ و امراء کے پاس تھی یا اگر نجی جائیداد کا تصور تھا بھی تو جائیداد اب خاندان کی مشترکہ ملکیت تھی – خاندان نے قبیلہ کی جگہ لے لی ،اور جوں جوں زرعی عہد میں جدت آتی گئی خاندان بھی چھوٹا ہوتا گیا جس کی بڑی وجہ طریقہ پیداوار میں جدت تھی – جس کام کو کرنے کے لئے پہلے بیس بندوں کی ضرورت تھی ہل ، پہیہ ، سدھائے ہوئے کھیتی باڑی کے جانوروں کے آنے سے ان کی جگہ کم بندوں کی ضرورت رہ گئی تھی – یوں وسیع خاندان کا ایک دوسرے پر انحصار کم ہوا –

05

گھر کا سربراہ بچوں کا والد ہوتا تھا یا بچوں کا دادا، جو پورے خاندان کا منتظم اور نگران تھا – گھر کی خواتین اور مرد مل کر کام کرتے تھے – یہاں ایک اہم بات یاد رہے کہ عموما گھر میں بچہ کی نگہداشت ماں نہیں دادی کرتی تھی یا آیا کرتی تھی کیونکہ ماں تو اپنے شوہر اور دیگر بچوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہی ہوتی تھی – عورت بطور “فل ٹائم ماں” کا تصور اس وقت عام نہیں تھا –

پہلے صنعتی انقلاب اور زرعی عہد کے درمیان ایک کم مدتی عہد ایسا بھی ہے جس میں زرعی عہد کی زرعی پیداوار اور پیشہ ورانہ (Crafts ) پیداوار میں اضافے ، اور مواصلات میں جدت کے سبب تجارتی عہد جنم پاتا ہے جسے مرچنٹ ازم کہتے ہیں – اس عہد کے بڑے مسکن شہروں میں تھے – یہ ایک دلچسپ عہد تھا جسے عموما ہمارے دیسی طلباء و دانشور نظرانداز کر جاتے ہیں – اس عہد نے صنعتی عہد کی بنیاد رکھی کیونکہ فرد کو جائیداد رکھنے کا حق اقوام مغرب میں اسی عہد میں ملا اور صنعتوں کے قیام کے بنیادی اسباب بھی اسی عہد میں جنم پاتے ہیں- فری مارکیٹ تصور کسی حد تک فری ٹریڈ کے تصور سے ماخوز ہے – اسی عہد نے شہری ریاست میں جمہوریت اور بیوروکریسی کا تصور دیا جو زرعی عہد سے بہت مختلف تھا – شہری ریاستوں کی جمہوریت نے نیشن اسٹیٹ کی جمہوریت کا تصور دیا – جدید مغربی فلسفہ کے بانی اسی عہد کے لوگ ہیں – سائنس نے پورے اعتماد اور حوصلہ سے اسی عہد میں سر اٹھایا – حقیقت یہ ہے کہ دور جدید کا آغاز اسی عہد سے ہے –

06اس عہد میں شہروں میں منڈیاں قائم ہوئیں ، بنک قائم ہوئے ، اور دولت کی ریل پیل شروع ہوئی – شہروں میں وہ خاندان مزید سکڑ گئے جو غیر زرعی پیشے سے منسلک تھے کیونکہ وہ اپنی پیداوار میں ایک دوسرے پر کم انحصار رکھتے تھے ، اب خاندان نام تھا میاں بیوی بچے اور ان کے والدین – ان باقاعدہ رشتوں سے باہر کے لوگ خاندان کا حصہ نہیں تھے – ہر غیر زرعی پیشے کی گلڈز تھیں جو معاشی فیصلوں میں خود مختار تھیں ، آزاد تجارت کرتی تھیں ، شہری انتظام میں مددگار تھیں اور عموما شہری منتظم کے انتخاب میں ہر گلڈ کا سربراہ ووٹ دیتا تھا (گلڈ کے سربراہ کا انتخاب بھی گلڈ کے اراکین کے ووٹوں سے ہوتا تھا )-

دیہات بھی بدلے ، ان میں یہ تبدیلی آئی کہ دیہاتی امراء جو شہروں میں جا کر دنیا بھر سے امپورٹ شدہ چیزیں خریدتے ، جب پیسوں کی کمی ہوتی تو شہری بنکوں سے ادھار لیتے ، اور مزید خرچ کرتے – پیسوں کی کمی کے سبب وہ دیہاتوں میں دو کام کرنے لگے ایک یہ کہ زمین بیچ کر خرچے پورے کرنے لگے – اس وقت حق جائیداد ایک عام فرد کو (جس کا تعلق طبقہ امراء سے نہ تھا) دینا قانونی طور پر آسان نہ تھا – امراء نے اپنی فروخت کو قابل عمل بنانے کے لئے خود ہی پارلیمان اور مقننہ کے دوسرے ذرائع سے یہ قانون پاس کروایا کہ کوئی بھی شہری زمین خرید کر جائیداد رکھنے کا اہل ہے – دوسرا اس دور میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاسفہ نے بھی بھرپور تحریک سے حق جائیداد کا حمایت کی – مغربی لبرل ازم کی تاریخ میں حق جائیداد کی تحریک نقطہ آغاز ہے –

07جوں جوں امراء اپنی فضول خرچیوں کے سبب زمین بیچتے گئے ویسے ویسے کسانوں میں یہ ترغیب و تحریک بڑھتی گئی کہ زیادہ سے زیادہ سرپلس پیدا کریں ، مقررہ مقدار میں جنس لارڈ کے حوالے کرنے کے بعد جو بچ جائے اسے شہری منڈیوں میں بیچ کر اپنے لئے زمین خرید لیں – یوں جیسے جیسے جائیداد کا اشتیاق بڑھا ،ویسے ہی خاندانی ادارے میں تبدیلی آئی – اب کوئی پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اپنی محنت و صلاحیت سے جائیداد خریدے مگر وہ زیادہ حصوں میں تقسیم ہو اس لئے شہروں کی طرح دیہات میں بھی خاندان سکڑ گئے –

دیہاتوں میں دوسری تبدیلی صرف مردوں سے متعلق بھی تھی – امراء نے اعلان کر دیا کہ جو شخص اتنی رقم اگر ہمیں دے دے تو ہم اسے پروانہ آزادی دے دیں گے – اس سبب محنت کی ترغیب میں اضافہ ہوا ، لوگوں نے پیسے بچا کر پروانہ آزادی حاصل کیا اور مزید محنت کر کے جائیداد خریدی اور آزاد شہریت کا آغاز ہوا –

یہاں اہم بات یہ کہ ترغیبات و محرکات کے سبب دیہاتوں میں جتنا پیداواری عمل تیز ہوا ، اتنا ہی شہروں کی منڈیوں میں زیادہ سامان لایا گیا جس کی وجہ سے شہر مزید امیر ہوئے اور اسی شہری معیشت سے صنعتی انقلاب نے جنم لیا –

(جاری ہے)

 


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “خاندان: اصول اور اقدار بدلنے کی ضرورت (1)

Comments are closed.