ٹرمپ اور داعش۔۔۔ ایک ہی سکے کے دو رخ


768اورلانڈو میں 50 افراد کی افسوسناک ہلاکت پر امریکہ اور دنیا بھر سے تعزیت اور افسوس کے پیغامات آ رہے ہیں۔ لیکن امریکہ میں صدارتی دوڑ میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اس سانحہ کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پرحملہ کو بنیاد بنا کر صدر باراک اوباما اور ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کو خاص طور سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اوباما امریکی شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اس حملہ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جس جوش و جذبہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کچھ اسی قسم کا رویہ دولت اسلامیہ کے حامیوں کی طرف سے بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس تنظیم کے کئی ٹوئٹر اکاؤنٹس اور ویب سائٹس پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمر متین نے یہ حملہ اس دہشتگرد گروہ کے کہنے پر کیا تھا۔ تاہم ایف بی آئی ابھی تک ان دعوؤں کی تصدیق کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اگرچہ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ فائرنگ کے دوران جب حملہ آور نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا تھا تو اس نے ایمرجنسی نمبر 911 پر فون کر کے اقرار کیا تھا کہ اس نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔

عمر متین کے والد صدیق میر اور سابقہ بیوی ستارہ یوسفی نے یکساں طور سے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ قاتل مذہبی انتہا پسند تھا یا وہ اس قسم کے خیالات کا اظہار کرتا تھا۔ البتہ ستارہ یوسفی نے بتایا ہے کہ عمر متین جارحانہ رویہ کا حامل تھا اور بعض اوقات لگتا تھا کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ 2009 میں اس کے ساتھ شادی کرنے کے 4 ماہ کے اندر ہی ستارہ کے اہل خاندان اسے عمر کے گھر سے لے گئے تھے، کیونکہ وہ اپنی بیوی پر مسلسل تشدد کرتا تھا۔ عمر متین کے اس رویہ کی تصدیق سکیورٹی کمپنی جی 4 ایس G4S میں اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے بھی کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عمر متین نہایت تند مزاج اور ہم جنس پرستوں کے خلاف شدید جذبات رکھنے کے علاوہ نسل پرستانہ خیالات رکھتا تھا۔ وہ ان خیالات کا کھلم کھلا اظہار کرتا۔ کمپنی کے ذمہ داروں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی، اس لئے اس نے تنگ آ کر کمپنی کی نوکری چھوڑ دی تھی۔ عمر متین جی 4 ایس میں 2007 سے سکیورٹی گارڈ کے طور پر ملازم تھا۔ یہ کمپنی خود کو عالمی سکیورٹی کمپنی کے طور پر متعارف کرواتی ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ عمر متین میں یہ تبدیلی گزشتہ چند برسوں کے دوران نمودار ہوئی تھی کیونکہ 2004 میں اس کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص سمیوئل کنگ نے بتایا ہے کہ وہ خود بھی ہم جنس پرست ہے لیکن اس کی عمر متین سے دوستی تھی اور وہ ہم جنس پرستوں کے خلاف کسی قسم کی نفرت نہیں رکھتا تھا۔ علاقے کے امام سید شفیق رحمان نے بتایا ہے کہ وہ 2003 سے عمر متین اور اس کے خاندان کو جانتے ہیں۔ وہ بچپن میں زندہ دل اور شوخ تھا لیکن عمر کے ساتھ سنجیدہ ہو گیا تھا۔ وہ لوگوں سے گھلتا ملتا نہیں تھا لیکن یہ تصور کرنا بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ اس قسم کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہو سکتا ہے اور درجنوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دے گا۔

عمر متین کے والد صدیق میر کئی دہائی پہلے نیویارک میں آ کر آباد ہو گئے تھے اور بعد میں وہ کیلی فورنیا منتقل ہو گئے۔ ان کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ کبھی اندازہ نہیں کر سکے کہ عمر کے دل میں کس قدر غصہ اور نفرت ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ وہ ہم جنس پرستوں کے خلاف تھا۔ اس کے اس اقدام کی وجہ بھی اس کی یہی نفرت ہو سکتی ہے۔ اس قتل عام کا اسلام یا اس کے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ایف بی آئی نے 2013 سے دو مرتبہ عمر متین کو انتہا پسندانہ خیالات و رابطے رکھنے کے شبہ میں طلب کیا تھا اور اس سے تفتیش کی گئی تھی۔ لیکن اس تفتیش کے دوران کوئی خاص ثبوت سامنے نہیں آ سکا تھا جس کی وجہ سے یہ معاملہ ختم کر دیا گیا تھا۔ آخری وقت میں ابوبکر البغدادی سے وفاداری کے اعلان اور دولت اسلامیہ کی طرف سے عمر متین کے اقدام کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود ایف بی آئی ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کرتی۔ اس معاملہ کی دہشت گردی کے واقعہ کے طور پر تفتیش کی جا رہی ہے لیکن پولیس اس مرحلہ پر یہ طے کرنے سے گریز کر رہی ہے کہ اس کا تعلق کس حد تک اسلامی انتہا پسندی سے تھا اور کیا دولت اسلامیہ کسی طرح اس سانحہ میں ملوث ہو سکتی تھی۔ اس امکان کو البتہ مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ عمر متین گزشتہ کچھ عرصہ میں انٹرنیٹ کے ذریعے انتہا پسندانہ رجحانات کی طرف مائل ہو گیا ہو اور اس نے انتہا پسند گروہوں کے پروپیگنڈا سے اثر قبول کیا ہو۔

امریکہ کی تاریخ کے بدترین فائرنگ کے سانحہ میں ملوث عمر متین کے والد صدیق میر کے بارے میں جو معلومات سامنے آ رہی ہیں، ان سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ خود کو امریکہ نواز اور امریکہ کا دوست و وفادار کہتا ہے لیکن اس نے ڈیورنڈ جرگہ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی تھی جو افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں آباد پشتون لوگوں کی حمایت کرتی تھی۔ وہ افغانستان میں پشتون حکومت کا حامی ہے اور پاکستان کے ساتھ افغان سرحد ڈیورنڈ لائن کو ختم کرنے کا بھی پرجوش تقاضہ کرتا رہا ہے۔ اسی موقف کی وجہ سے وہ اکثر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بھی کرتا رہا ہے۔ وہ یو ٹیوب اور ایک مقامی ٹی وی چینل پر پروگرام کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں اس نے فوجی وردی پہن کر تقریر کی اور خود کو افغان صدر ظاہر کر کے افغان فوج و سکیورٹی فورسز سے صدر اشرف غنی ، سابق صدر حامد کرزئی اور دوسرے لوگوں کا گرفتار کرنے کا ’’حکم‘‘ بھی دیا۔ وہ پشتون کاز کی حمایت کرتے ہوئے افغان طالبان کی حمایت بھی کرتا رہا ہے۔ صدیق میر کے اس طرز عمل سے اس کی ذہنی حالات اور سیاسی خیالات کے بارے میں کئی سوالات سامنے آتے ہیں۔ اورلانڈو سانحہ کی تفتیش کے دوران اس معاملہ پر مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

اس دوران امریکہ کی اسلامی تنظیموں اور فلوریڈا کی مقامی اسلامی تنظیموں نے اس قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان اور خاص طور سے امریکی مسلمان اس قسم کے نفرت انگیز فعل کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ دولت اسلامیہ کے پیش کردہ اسلام کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور انہیں شر پسند اور فساد پیدا کرنے والا گروہ سمجھتے ہیں۔ اسلامی تنظیموں کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ متاثرین سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور حملہ آور کے طرز عمل کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم کسی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتے۔ ہر طرح کے لوگوں کا احترام واجب ہے خواہ ان کا تعلق کسی مذہب ، نسل یا طریقہ کار سے ہو۔ ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں زندگی کو مقدس قرار دیا گیا ہے۔ ہم اس غم اور دکھ کے لمحات میں امریکہ کے سب لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان واضح اور دوٹوک بیانات کے علاوہ مسلمانوں کے نمائندوں نے اورلانڈو میں ہم جنس پرستوں کی تنظیم اور متاثرین کے عزیز و اقارب سے بھی تعزیت اور اظہار ہمدردی کیا ہے۔ ان نمائندوں نے مرنے والوں کی یاد میں منعقد ہونے والی مختلف تقاریب میں بھی حصہ لیا ہے۔

امریکی حکام اور مسلمانوں کی طرف سے اورلانڈو سانحہ اور اسلام کو علیحدہ کر کے دیکھنے کے رویہ کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کو جوں ہی یہ علم ہوا کہ حملہ آور کا نام ایک مسلمان نام جیسا ہے، انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں یہ دعویٰ کرنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کارروائی انتہا پسند مسلمانوں نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے یہ اندیشے درست ثابت ہو رہے ہیں کہ اسلامی انتہا پسندی سے امریکہ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر مسلمانوں کی امریکہ داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف اسی طرح امریکہ کے لوگوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ صورتحال کا زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھا کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ صدر باراک اوباما کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ، ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں تو دوسری طرف ہیلری کلنٹن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ تو یہ کہنے کو بھی تیار نہیں کہ یہ سانحہ ’’ریڈیکل اسلام‘‘ کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ جب ٹیلی ویژن انٹرویو کے میزبان نے انہیں بتایا گیا کہ ہیلری کلنٹن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آپ اسے ریڈیکل جہاد ازم کہیں یا ریڈیکل اسلام ۔۔۔۔۔ مجھے کوئی اصطلاح استعمال کرنے میں اعتراض نہیں ہے۔ اصل مقصد انسانوں کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ اس وضاحت پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہیلری یہ اصطلاح استعمال کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں کیونکہ سب لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سانحہ ریڈیکل اسلام کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے یہ عجیب موقف بھی اختیار کیا ہے کہ ملک میں اسلحہ کنٹرول کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ پلس PULSE میں اگر اسلحہ ہوتا تو حملہ آور اتنی آزادی سے لوگوں کو نہ مار سکتا۔ بلکہ اسے خود بھی گولیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔

اس مہم جوئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اوباما اور کلنٹن پر ہی نکتہ چینی نہیں کی بلکہ امریکہ کے مسلمانوں کو بھی براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سب پتہ ہوتا ہے کہ کون شخص کس قسم کی حرکت کرنے والا ہے لیکن وہ پولیس کو اس بارے میں اطلاع دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اسی لئے امریکیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس افسوسناک سانحہ کو مسلسل اپنی سیاسی مہم جوئی کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی مہم کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ جلد ہی امریکن سکیورٹی پر ایک بیان جاری کریں گے۔ یہ بیان اسی قسم کی اسلام دشمن خرافات کا مرقع ہو گا تاکہ مسلمانوں کے خلاف خوف کی فضا پیدا کر کے متوازن اور معتدل ووٹر کو اپنے کیمپ میں شامل کیا جا سکے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ اورلانڈو کے سانحہ کو اسلامی انتہا پسندی سے منسلک کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف عین اسی طرح دولت اسلامیہ بھی اسی تیزی سے اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ داعش کے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ لوگ ہمارے ملکوں سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائیں گے اور استحصالی حکومتوں کی سرپرستی بند نہیں کریں گے تو آپ کے گلی کوچے اس طرح خون سے رنگین ہوتے رہیں گے۔

یہ طے ہونا تو ابھی باقی ہے کہ عمر متین نے کن حالات اور وجوہ کی بنا پر اس قدر گھناؤنا جرم کیا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور داعش جیسے انتہا پسند اپنے اپنے طریقے سے اس سانحہ کو استعمال کر کے یہ واضح کر رہے ہیں کہ انتہا پسندی کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کر کے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹرمپ اور داعش یکساں طور سے اس کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اب امریکی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان انتہا پسندوں کے جال میں پھنستے ہیں یا ہوشمندی سے ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جو سب لوگوں کو یکساں طور سے زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali