کچی آبادی میں بسنے والا ایک شخص


میرے پاس کیا تھا؟ ایک کچا، ٹوٹا سا گھر تھا۔ ایسا گھر جس کے اندر سے دن میں سورج صاف دکھائی دیتا تھا اور رات میں چاند بھی ایسے دکھتا تھا جیسے وہ اس گھر کو ہی چاندنی دے رہا ہو۔ ہمیں باقیوں کے مقابلے میں یہ آسانی میسر تھی کہ اگر کہیں موسم کا پتا لگانا ہوتا تو گھر سے اٹھ کے باہر نہیں جانا پڑتا تھا ہم گھر کے اندر سے ہی آسمان کو دیکھ لیتے تھے۔ بالکل ایسے ہی گھر ہمارے ساتھ ہمارے اپنوں کے گھر تھے۔ ہمیں کوئی پریشانی نہ تھی بلکہ ہمیں فخر تھا کہ اس پاک زمین نے ایک چھوٹا سا حصہ ہمیں بھی دیا ہے رہنے کو اور خدا کے بھی شکر گزار تھے۔

اس جدید دور میں بھی ہمارے پاس ٹی وی نہیں تھا۔ ساتھ ہی ایک پڑوسی نے ٹی وی لایا۔ ہم اس چھوٹی بستی کے سبھی چھوٹے لوگ اس پڑوسی کے گھر میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگے۔ یعنی دن میں ایک بار کوئی نیوز چینل دیکھتے۔ آہستہ آہستہ ہمیں یہ معلوم پڑا کہ یہ جو ہماری ضرورتیں ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے اس پاک زمین پر وہ بڑے لوگ ہیں جو ایوانوں میں بیٹھتے ہیں۔ اس سرزمین کے حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس کے باشندوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کریں۔

اس نئی حکومت کو حکومت میں دو ماہ ہو چکے تھے لیکن کوئی بات نہ بنی۔ چونکہ ہمیں حکومت کے بارے میں ٹھیک طرح سے کچھ معلوم نہ تھا تو ہم یہی خیال کرتے رہے کہ نئی حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہو گی کہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کیسے کی جائیں۔

ایک دن ایک پڑوسی میرے گھر آیا اور کہنے لگا کہ حکومت نے کام شروع کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ اور کئی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات گرا دی ہے۔ مجھے ایک تو تجاوزات کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اور دوسری کہ قانونی اور غیر قانونی تعمیرات کی، خیر پوچھنے پہ سمجھ آئی کہ تجاوزات کیا چیز ہے۔ حکومت غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا کام تو بالکل درست کر رہی ہے لیکن ہم نے کون سی غیر قانونی تعمیرات کی ہیں جو ہمیں پریشانی ہو۔

پھر یہ بات بھی سننے میں آئی کے حکومت کچی آبادیوں کو ختم کر رہی ہے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ حکومت اب ہماری طرف بھی متوجہ ہوئی ہماری کچے مکانوں کو گرا کر نئے مکان بنا کے دے گی۔ اگلے دن ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ ہمارے سامنے ہمارے وہ کچے مکان گرا دیے گئے جو تھوڑا بہت ضرورت کا سامان تھا وہ بھی وہی دفن کر لیا گیا۔

ہمیں اس حال میں ان لوگوں سے گلہ کر کے بھی کیا حاصل ہونا ہے۔ بس اب ہم بے گھر و بے سرو سامان ہیں اور اپنے خدا پر ہی چھوڑتے ہیں کہ وہ ہمیں اس دنیا میں کیسے اور کب تک زندہ رکھتا ہے۔
( پناہ کوئی نہ دے مجھ کو، کس کے در جاؤں؟
ترا کرم جو ہو مجھ پر تو میں بھی گھر جاؤں )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں