بیگم اختر کی گائیکی میں درد اور تنہائی


ناک میں ہیرے کی چمکتی لونگ، لبوں پہ سنجیدہ مسکراہٹ، ساڑھی میں لپٹا باوقار جسم، غزل، ٹھمری اور دادرا کی تانیں الاپتی، سروں کے دریا میں غرق بھلا کون ملکہ غزل بیگم اختر کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔ جن کی گائیکی میں ایسا جادو تھا۔ کہ اس کا توڑ کوئی نظر نہیں آتا تھا۔

انکے پرستار اس بات پہ متفق ہیں کہ بیگم اختر کی گائیکی کی انفرادیت ان کی پرسوز آواز میں پنہاں تھی۔ گہرے درد اور انمٹ تنہائی کے بطن سے پھوٹتی یہ آواز ان کی ساٹھ سالہ زندگی (سات اکتوبر 1914 سے 30 اکتوبر 1974 )کا نچوڑ ہے۔ جو ان میں اس طرح رچ بس گیا کہ محسوس ہوتا تھا کہ کسی شاعر کا کلام نہیں بلکہ اپنی زندگی کی حکایت کو غزل میں ادا کر رہی ہیں۔
خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے
دردِ غم نے پالا ہے
یا
میرے ہم نفس میرے ہم نوا
مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

اس جیسی اور بہت سی غزلیں ان کی پرسوز آواز میں ڈھلیں تو امر ہو گئیں۔ ان کی زندگی کے مطالعہ سے مجھے اندازہ ہوا کہ ابتداء سانسوں سے زندگی کی انتہا تک ان کے وجود میں درد کا ایسا شجر پروان چڑھابکہ جس کی شاخیں ہمیشہ ہری بھری ہی رہیں اور وہ تنہا ہی اس درد کو پالتی رہیں۔

بیگم اختر کی ایک یادگار تصویر

بیگم اختر کا تعلق فیض آباد (اتر پردیش) کے ایسے گھرانے سے تھا جہاں اولادیں باپ کے ناموں کے بجائے ماؤں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔ ان کی والدہ مشتری بائی خاندانی طوائف اور عمدہ گائیک تھیں۔ لکھنو کے سید گھرانے کے فرزند مشہور جج سید اصغر حسین کا دل جب ان کی خوبصورتی پہ آیا تو نکاح کر کے اپنی دوسری بیوی بنا لیا۔ اور فیض آباد سے لکھنو لے گئے۔ تاہم عدالت میں انصاف دینے والے منصف، اپنی بیوی کو خاندان میں سماجی رتبہ نہ دے سکے۔ سسرالی چپقلش اور رنجشوں کے نتیجہ میں حاملہ مشتری بائی فیض آباد واپس آ گئیں۔ اور دو جڑواں بیٹیوں اختری اور افسری کو جنم دیا۔ (افسری کو اکثر مضامین میں زہرا بھی لکھا گیا ہے)۔ اور اس عرصے میں سید اصغر حسین نے بیوی اور بچیوں کے سلسلے میں بے اعتنائی برتتے ہوئے اپنی محبت اور سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا۔ گو کبھی کبھار بیوی اور بچیوں سے ملنے آ جاتے تھے۔ اس طرح مشتری بائی نے طویل اور صبر آزما جدوجہد سے بچیوں کو پالا۔ اختری کو انہوں نے پیار سے ببی کا نام دیا۔ دونوں بچیاں باپ کے ہوتے ہوئے ان کی شفقت سے محروم تھیں۔ اس طرح ننھی ببّی (اختری)کا پہلا المیہ غربت اور محرومی کی زندگی ہی نہیں باپ سے دوری بھی تھا۔

ان کا دوسرا المیہ چار سالہ جڑواں بہن کی موت کا تجربہ تھا جو زہریلی مٹھائی کے کھانے کے بعد جانبر نہ ہو سکی۔ (قیاس آرائی یہ تھی کہ یہ واقعہ مشتری بائی کے سسرال کی سازش کا نتیجہ تھا۔ )
جب اختری نے سائے کی طرح ساتھ رہنے والی بہن کے متعلق ماں سے پوچھا تو جواب ملا ”وہ اللہ کے گھر ہے“ اس طرح بہن کی موت نے پہلی بار اختری کو مذہب اور خدا کے تصور سے متعارف کروایا جس سے ان کا ناتہ تمام عمر نہ ٹوٹا۔

باوجود تنگدستی کے مشتری بائی نے اپنی بیٹیوں کو مشنری اسکول میں داخل کروایا تھا۔ تاہم چار پانچ جماعتوں کے بعد اختری کو تعلیم سے زیادہ موسیقی سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ گلا سریلا تھا۔ گو مشتری بائی بیٹی کی موسیقی سے زیادہ تعلیم میں دلچسپی رکھتی تھیں لیکن پھر من موجی اور ضدی بھی کو اپنے بھائی کے مشورے پہ موسیقی کی تعلیم شروع کروائی۔
جس کے لیے دوسرے شہروں کی خاک چھانی، پٹنہ کے سارنگی نواز استاد امداد خان، ۔ ”گیا“ کے غلام محمد خان کلکتہ میں پٹیالہ گھرانے کے امداد خاں۔ جو انہیں ”خیال“ سکھاتے۔ بیگم اختر کو کلاسیکی سے زیادہ سادہ موسیقی پسند تھی۔ بقول بیگم اختر کے وہ ہمیں ہمیشہ صبح چار بجے اٹھا دیتے اور ”خیال“ سکھاتے مگر ہمیں غزل اور ٹھمری کے علاوہ کچھ اچھا ہی نہیں لگتا تھا۔ پھر جیت ہماری ہی ہوئی۔ ”

مگر موسیقی کے فن میں جیت کی قیمت کم نہیں تھی۔ کم سن“ ببّی ”کو اپنی تربیت کے دوران ایسے استاد سے سابقہ پڑا جو موسیقی کی دنیا میں تو عزت دار تھے مگر اپنی کم عمر شاگردہ کے کپڑے اٹھا کر اپنا ہاتھ اس کے زانو پہ اس بہانے سے پھیرتے جیسے وہ ان کے جسم کے حصہ پر موسیقی کا کوئی اہم حسی مقام بنانا چاہ رہے ہوں۔ اس قسم کے یا ملتے جلتے واقعات ہمیشہ سے عام رہے ہیں۔ آج“ می ٹو ”کی دنیا میں بہت سی خواتین کو جنسی زیادتی کے متعلق اظہار کا موقع مل رہا ہے۔

حج پر روانہ ہونے سے قبل بیگم اختر

لیکن نوے سال ادھر کم عمر اختری بائی کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایسا واقعہ ہوا کہ جس نے سالوں اسے گنگ اور جذباتی طور پر سن کر دیا۔ ہوا یہ کہ بارہ تیرہ سال کی عمر میں ان کا سابقہ کلاسیکی موسیقی کے پرور اور دلدادہ، بہار کی ریاست کے راجہ سے پالا پڑا۔ جنہوں نے کم سن اختری بائی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ کے بعد وہ لکھنو پہنچا دی گئی۔ جہاں انہوں نے ایک بچی شمیمہ کو جنم دیا۔ غیر شادی شدہ بیٹی کی بدنامی کے ڈر سے مشتری بائی نے نواسی کو بیٹی ظاہر کیا۔ اس طرح ایک ماں پوری زندگی اپنی بیٹی کو بیٹی کہہ کر نہ پکار سکی۔ یہ ان کی زندگی کا بڑا المیہ تھا۔ جس کا ذکر انہوں نے بعد کے برسوں میں اپنی شاگردوں سے کیا۔ جو انہیں“ امی ”کہہ کر پکارتی تھیں۔

اختری بائی فیض آبادی کو اپنی پہلی شاندار عوامی پرفارمنس کا موقعہ 1934 میں کلکتہ میوزک کانفرنس میں ملا جو بہار کے زلزلہ کی امداد کے لئے تھا۔ حسنِ اتفاق سے اس دن بہت سے مشہور فن کاروں کی غیر موجودگی کے سبب ان کے استاد عطا محمد خان نے اپنی شاگردہ سے گانا گانے کی درخواست کی۔ وہ پہلے تو نروس تھیں مگر جب چار غزلیں اور پانچ دادرے ایک ساتھ گائے تو سامعین کی تالیوں نے بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس طرح اس وقت کے مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے کلام
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

کو گانے والی کم سن گلوکارہ محفل کو دیوانہ بنا چکی تھی۔ اس محفل میں مشہور شہنائی نواز بسم اللہ خان، کلکتہ کی بیگم گوہر جان کے علاوہ بلبل ہند سروجنی نائیڈو بھی ممتاز مہمانوں کی صف میں تھیں۔ جنہوں نے کم سن مگر باکمال گلوکاروں کو کھادی کی ریشمی ساڑھی کا تحفہ پیش کر کے اپنی بھرپور پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کے گانوں کی مقبولیت سے متاثر ہو کے گراموفون ریکارڈز کمپنی نے ریکارڈ جاری کیے۔

بیگم اختر شاہد اور سلیم قدوائی کے ساتھ

اب ان کی بھرپور فنی زندگی کا دور شروع ہو چکا تھا۔ انہوں نے تھیٹر اور ہندی فلموں میں اداکاری اور صداکاری شروع کر دی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب فلموں کی ہیروئین گانے بھی خود ہی گایا کرتی تھیں۔ ان فلموں میں مشہور ہدایت کار محبوب اور ست جت رائے کی فلمیں روٹی اور جلسہ گھر بھی شامل ہیں۔ اس طرح تیس کی دھائی اور چالیس کے ابتداء سالوں میں وہ مقبولیت کے بام پر نظر آتی ہیں۔
یہ آزادی سے قبل کا زمانہ تھا۔ جب ریاستوں کے راجے مہاراجے اور نوابین موسیقی کے فن کی سرپرستی کرتے اور گویوں کو دربار میں ملازمت دے کر ان کے فن کو اپنے تصرف میں لاتے۔ اختری بائی کو بھی نواب رام پور، نواب رضا علی نے اپنی دولت کے پنجر؟ میں قید کرنا چاہا مگر وہ تو آزاد روح تھیں۔ جلد ہی ان کی بخشی ہوئی پر تعیش زندگی سے اکتا کر نکل آئیں۔ اور اپنی آزادی کو فوقیت دی۔ وہ صوفی مزاج تھیں اور ان کی آواز عوام کا تحفہ تھی۔ جو خواص کی ذوقِ تسکین تک ہی محدود نہ تھی۔

گو انہیں اب غربت کا سامنا تھا نہ شہرت کی کمی مگر سماجی تحفظ اور سچے پیار کی تلاش ہنوز تھی۔ باپ نے جو سماجی رتبہ کے حامل تھے۔ کبھی بھی اس طرح ان سے تعلق نہ رکھا جس کی وہ متمنی تھیں۔ ان سے کبھی کبھار اعلی اور نفیس قسم کی محفلوں میں ملاقات ہو جاتی لیکن ہر دفعہ ان کی بے اعتنائی کا دکھ کچھ اور بڑھ جاتا۔ سماجی بے وقعتی اور عدم تحفظ کی کیفیت کے اس زمانے میں ان کی ملاقات لکھنوکے ایک مشہور وکیل اشتیاق احمد عباسی سے ہوئی جو اوکسفورڈ سے فارغ التحصیل اور غزلوں کا نفیس ذوق رکھتے تھے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں