منجمد سانپ اور اورلینڈو کی کہانی


adnan-khan-kakar-mukalima-3

کم و بیش ڈھائی ہزار سال گزرے کہ ملک یونان میں ایک قصہ گو پیدا ہوا۔ یہ جو پیاسا کوا، خرگوش اور کچھوا، انگور کھٹے ہیں، لکڑہارا اور کلہاڑی وغیرہ کی حکایات ہیں، سب اسی سے منسوب ہیں۔ ایسوپ کو حکایات کا دیوتا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس نے ایک حکایت بیان کی ہے جو ہمارے الفاظ میں کچھ یوں ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک کسان اپنا دن بھر کا کام کاج ختم کر کے سردی سے کپکپاتا ہوا ہوا گھر واپس جا رہا تھا۔ صبح اس کی بیوی نے اسے گرم چادر کے بغیر ہی کام پر بھیج دیا تھا اور اب وہ ایک نارمل خاوند کی طرح اسے برا بھلا کہتا ہوا گھر کی طرف گامزن تھا۔ ٹھٹھرتا ٹھٹھرتا وہ گھر کے قریب پہنچا تو اسے راستے پر ایک سانپ پڑا ہوا ملا۔ سانپ سرد موسم زمین کے نیچے ہی گزارتے ہیں، مگر یہ کم بخت غالباً محکمہ موسمیات کی پیش گوئی پر یقین کر کے اپنے بل سے باہر نکل آیا تھا اور اب سردی سے نیم مردہ ہوا پڑا تھا۔

جب آدمی خود بھوکا ہو تو پھر ہی اسے دوسرے بھوکے کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی اب کسان خود جما ہوا تھا تو اسے سانپ کی حالت کا خوب احساس تھا۔ اس نے سانپ کو اٹھایا اور اپنے گھر لے گیا۔ اسے انگیٹھی کے پاس رکھا اور اس کے پاس نیم گرم دودھ کا پیالہ رکھ دیا۔

سانپ کو آگ کی تپش پہنچی تو اس کے تن مردہ میں جان پیدا ہوئی۔ اس نے بمشکل سر اٹھایا تو پاس ہی دودھ نظر آیا۔ اس نے حرارت بخش دودھ پیا اور گویا نئی زندگی پائی۔ چست ہو کر اس نے سر اٹھایا تو سامنے ہی کسان بیٹھا مسکرا رہا تھا کہ میاں آج تو ہم نے خوب نیکی کی ہے۔

سانپ نے اسے ڈس لیا اور وہ مر گیا۔ مرتے مرتے بس وہ یہی کہہ پایا کہ میں نے جو بویا وہ میں نے کاٹ لیا کہ ایک بدطینت شخص پر رحم کرنا خود اپنی ذات پر ظلم کرنا ہے۔

4678553اورلینڈو کا واقعہ پڑھا تو یہ کہانی یاد آ گئی۔ جنگ زدہ افغانستان سے جان بچا کر فرار ہونے والا ایک شخص امریکہ میں پناہ لیتا ہے۔ امریکہ اسے امن دیتا ہے، زندگی بسر کرنے کا ویسا ہی موقع دیتا ہے جیسے وہ باقی سب امریکیوں کو دیتا ہے۔ انتیس سال پہلے اس کا امریکہ میں ہی ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے جو کہ متشدد نکلتا ہے۔ اس کے بیوی بچے اسے چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ خود ہم جنس پرست ہوتا ہے۔ ہم جنس پرستوں کی ڈیٹنگ کی ایپلیکشن استعمال کرتا ہے۔ وہ ہم جنس پرستوں کے جس کلب میں اٹھتا بیٹھتا ہے، اسی پر ایک دن حملہ کر دیتا ہے اور انچاس افراد کو مار ڈالتا ہے۔

امریکی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ایسوپ کی کہانیاں لاجواب ہوتی ہیں اور ان میں واقعی صدیوں کی دانش موجود ہے۔

ادھر پاکستان میں ہم بھی ایسی ہی سی سوچ بچار کر رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar