پالیسی کے تضادات میں جکڑی ریاست


mujahid hussain01پاک امریکہ تعلقات نوے کی دہائی سے بھی بدتر صورت حال کا شکار ہیں اور امریکہ واضح طور پر اپنا جھکاو پاکستان کے روایتی حریف بھارت کی طرف منتقل کرتا نظر آرہا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی حالت ان دنوں ایک گمنام ادارے کی سی ہے جو کھل کر یہ بتانے سے بھی قاصر ہے کہ آخر کیا ہوا کہ امریکہ جیسا ہمارا مہربان دوست اب مزید دوست نہیں رہا۔ دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دوٹوک الفاظ میں امریکی مذاکراتی وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں چھپے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو نشانہ بنائے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف دفاع پاکستان کونسل نے ملک بھر میں احتجاجی جلسے منعقد کر کے واضح طور پر پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوٹوک بات کی جائے اور ائر چیف کو حکم دیا جائے کہ وہ امریکی ڈرون مار گرائیں۔ آئی ایس پی آر اور دفاع پاکستان کونسل کے بیانات میں مشترک بات یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں کررہے ہیں جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ضرب عضب کی متوقع کامیابیاں متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستان کی فوج دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کو اس جنگ میں ساتھی تسلیم کیا جاتا ہے جب کہ دوسری طرف دفاع پاکستان کونسل میں شامل تقریباً تمام مذہبی گروہوں کو عالمی سطح پر دہشت گرد یا دہشت گردوں کے ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل میں کم از کم دو ایسے مذہبی رہنما موجود ہیں جن کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ دہشت گرد قرار دے کر اُن کے سروں کی قیمت مقرر کرچکی ہے جب کہ دوسرے گروہوں کو عالمی سطح پر دہشت گردی کی حمایت کی بنا پر پابندیوں کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے اور دفاع پاکستان کونسل کے بیانات میں مماثلت بین الاقوامی سطح پر اس شک اور ابہام میں اضافہ کرتی ہے کہ ایک طرف پاکستان کی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساری دنیا کے ساتھ کھڑی ہے اور دوسری طرف ایسے گروہوں کو روکنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی جنہیں عالمی سطح پر دہشت گردوں کے پشت پناہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا خوفناک تضاد ہے جو پاکستان کے تعارف کو بین الاقوامی سطح پر دھندلا سکتا ہے اور ریاست پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو بے اثر بنا سکتا ہے۔

افغانستان میں جاری عشروں پر محیط جنگ،بھارتی کشمیر میں حریت پسندوں کی مسلح کارروائیاں اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گرد و فرقہ پرست تنظیموں کے حوالے سے ہمیں شدید نوعیت کی تضاد بیانی اورابہام سے واسطہ پڑا ہے۔ کبھی یہ تمام عسکریت پسند پاکستان کی دفاعی دیوار قرار دئیے جاتے ہیں اور الیاس کشمیری جیسے دہشت گرد کو پاکستان کا آرمی چیف اور صدر مملکت نقد انعام دیتا ہے اور اگلے روز پاکستان بھر کے اخبارات اس کے قصیدے شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد یہی الیاس کشمیری پاکستانی فوج پر حملے شروع کر دیتا ہے اور پشاور سے لے کر کراچی تک افواج پاکستان کے مراکز کو نشانہ بناتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ الیاس کشمیری کی ہلاکت بھی امریکی ڈرون کے ہاتھوں ہوتی ہے، جس کو ہم اپنی سلامتی کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔ لیکن واضح رہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل کسی مذہبی جماعت یا گروہ نے الیاس کشمیری کو دہشت گرد نہیں کہا نہ ہی اس کے خلاف کوئی فتوی آیا جب کہ جن دنوں وہ پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنا رہا تھا دفاع پاکستان کونسل کے تمام رہنماوں کی زبانیں گنگ تھیں۔ ایسی ہی صورت حال ملا فضل اللہ کے حوالے سے بھی رہی ہے اور پاکستان کے جغادری قلم بردار ملا فضل اللہ کو حقیقی مجاہد اسلام قرار دیتے رہے ہیں۔ مقام حیرت تو یہ ہے کہ جن دنوں لشکر جھنگوی اور پنجابی طالبان کا مشترکہ لیڈر قاری عصمت اللہ معاویہ پاکستانی فوجیوں کے گلے کاٹ رہا تھا، موجودہ وزیراعظم کا ایک تقریر نویس عصمت اللہ معاویہ کی جہادی کتاب”آتش و آہن“ کا دیباچہ لکھ رہا تھا۔ دیباچے کا ایک ہی جملہ یہاں نقل کرنا کافی ہے”قاری عصمت اللہ اسلام اور پاکستان کا حقیقی مجاہد ہے جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اسلام اور پاکستان کی حفاظت کی قسم کھائی ہے“حد تو یہ ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے شائع کردہ رسائل و جرائد آج بھی پاکستان اور پاکستانی افواج کے دشمن دہشت گردوں کی مدع سرائی میں مشغول ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کو دوغلے کردار کے حامل ملک جیسے القابات سے یاد کیا جارہا ہے اور بلوچستان میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت اور افغانستان میں پاکستان کے موجودہ کردار کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کے پاس ملا اختر منصور کی پاکستانی حدود میں ہلاکت کے بارے میں کہنے کو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کو چالاکی کے ساتھ دوبارہ پانامہ لیکس کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ ملا اختر منصور کی بلوچستان میں ہلاکت، پاکستان کی بیرونی دنیا میں داو پر لگی ہوئی ساکھ، بھارتی وزیراعظم کی سفارتی کامیابیوں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کو موضوع بحث نہ بنایا جاسکے۔

ایسے لگتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار شاید دفاع پاکستان اور دفاع پاکستان کونسل میں فرق تلاش کرنے کے قابل نہیں اور انہی دھڑوں سے پاکستان کے حقیقی دفاع کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں جنہوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا کرنے میں اپنا بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ اگر حقیقی طور پر ایسا ہی ہے تو پھر یہ ایک ایسی ’مہلک واپسی‘ ہے جو ریاست پاکستان کو عالمی تنہائی کی عمیق گہرائیوں میں پھینک دے گی جس کا آج کی مربوط دنیا میں تصور بھی بھیانک ہے۔ اگر اندرونی طور پر یہ سوچ لیا گیا ہے کہ ہم ایک ریاست کے طور پر اپنے ہی بطن سے پھوٹنے والی دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے محفوظ ہوچکے ہیں تو یہ مزید پریشان کن لمحہ ہوگا کیوں کہ ابھی تک ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ریاست دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرچکی ہے۔ دہشت گرد گروہ اور اُن کے سہولت کار پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں صرف اُن میں سے وہ ابھی تک ہتھے چڑھے ہیں جو ’ڈسپلن‘ سے باہر رہنے کی ضد پر اڑے ہوئے تھے۔

اگر موجودہ حالات کی سیدھی تشریح کا خدشہ مول لیا جائے تو آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ بیرونی دنیا ہمارے روایتی تضادات سے اُکتا چکی ہے۔ ہم اندرونی دہشت گردوں سے ’منتخب‘ جنگیں لڑتے رہے ہیں جس نے ہمارا بیرونی تاثر مزید بگاڑ دیا ہے کیوں کہ ہم اندرونی طور پر اُس گرفت کو عملی شکل نہیں دے سکے جس کا مطالبہ بیرونی دنیا ہم سے کرتی ہے۔ ہم اُس وقت سر تسلیم خم کردیتے ہیں جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے اندرونی معاملات کس حد تک بگاڑ کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہم تابڑ توڑ وعدے وعید کرتے ہیں لیکن عملی طور پردو رخ اختیار کرتے ہیں اور پھر خود ہی پھنس جاتے ہیں۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں لیکن ایک دن اُمور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز دنیا کو بتاتے ہیں کہ طالبان قیادت مذاکرات میں شامل ہوگی کیوں کہ اُن کے تمام اہل خانہ اور رشتہ دار ہمارے مہمان ہیں۔ ہم ضرب عضب کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں اور اُن کے تمام سہولت کاروں کو ختم کردیا گیا ہے لیکن دہشت گرد اپنے سہولت کاروں سمیت ہم سب کو روزانہ نظر آتے اور ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ ہم نے جہاں تمام اندرونی دہشت گرد ختم کر دئیے ہیں وہاں ملک کے تمام تعلیمی ادارے دہشت گردوں کی سنگین دھمکیوں کے بعد فوری طور پر بند کر دئیے ہیں اور ناگزیر امتحانات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اندرونی دہشت گرد ختم کردئیے گئے ہیں لیکن تمام بڑے شہروں کی سیکورٹی سرخ لائن تک بڑھا دی گئی ہے۔ تضادات کو اگر قومی مفاد کے تحت کوئی دوسرا نام دے دیا جائے تو بہتر ہو گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پالیسی کے تضادات میں جکڑی ریاست

  • 15-06-2016 at 11:27 am
    Permalink

    اگر موجودہ حالات کی سیدھی تشریح کا خدشہ مول لیا جائے تو آسانی سے کہا جاسکتا ہے کہ بیرونی دنیا ہمارے روایتی تضادات سے اُکتا چکی ہے

Comments are closed.