امریکہ ایک مطلب پرست دوست ہے؟


\"bilal قیام پاکستان کے بعد وسائل کی عدم دستیابی کی اڑچن سے نمٹنے کے لیئے یہ ترکیب آزمائی گئی کہ کیوں نہ کیمونزم کی لال بتی جلا کر خطرے کی گھنٹی بجائی جائے تاکہ امریکہ پاکستان کو اپنے سایہ عاطفیت میں لینے پر راضی ہو جائے۔ گورنر جنرل قائد اعظم نے اپنے نمائندہ خصوصی میر لائق علی کو امریکہ روانہ کیا تاکہ وہ تزویراتی گہرائی کا چورن بیچ کر امریکہ سے دو بلین ڈالر کا قرض حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ امریکہ میں پاکستان کے پہلے سفیر اے ایچ اصفہانی اور قائداعظم کے نمائندہ خصوصی میر لائق علی نے امریکی حکام کو بتایا کہ روس اس خطے کے لیئے بہت بڑا خطرہ ہے، بھارت ممکنہ طور پر اشتراکی بلاک میں جا سکتا ہے مگر مسلمان تو کیمونسٹوں سے ہاتھ ملانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کا ماسکو میں سفیر ہے اور روس کا دہلی میں سفارتخانہ ہے مگر نہ تو پاکستان کا ماسکو میں سفارتخانہ ہے اور نہ ہی روس نے کراچی میں کسی کو سفیر بنا کر بھیجا ہے۔ فروری 1948ء میں Paul H Alling پہلے امریکی سفیر کی حیثیت سے کراچی آئے تو قائد اعظم نے یہ کہہ کر ان خدشات کی توثیق کی کہ ان کی اطلاعات کے مطابق قلات اور گلگت میں روسی ایجنٹ موجود ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے باضابطہ طور پر جو میمورنڈم ارسال کیا گیا اس میں 2بلین ڈالر کا بریک اپ بھی دیا گیا کہ 700 ملین صنعتی ترقی کے لیئے، 700 ملین زرعی ترقی کے لیئے جبکہ 510 ملین افواج پاکستان کے لیئے درکار ہیں۔ ڈی کلاسیفائڈ امریکی دستاویزات کے مطابق امریکی حکام نے یہ چورن خریدنے سے معذرت کر لی۔ امریکی حکام سے ملاقات کے دوران جب کورا جواب ملا تو پاکستانی نمائندے نے فوراً پانسہ پلٹا اور کہا، عالم پناہ! قرضہ نہ سہی مگر یوں خالی ہاتھ تو نہ بھیجیں۔ اور کچھ نہیں تو مہاجرین کے لیئے رضائیاں اور دوائیاں ہی دیدیں۔ پاکستان میں 3 ملین مہاجرین بے یار و مددگار ہیں ان کے لیئے فی کس 15 ڈالر کے حساب سے  45 ملین ڈالر کا قرضہ ہی دیدیں تو آپ کا احسان ہو گا۔ امریکی حکام نے اس درخواست پر بھی کوئی مثبت جواب نہ دیا اور یہ کہ کر ٹرخا دیا کہ ہم دیکھیں گے کہ آپ کے لیئے کیا کر سکتے ہیں۔

امریکی حکام کی سرد مہری دیکھتے ہوئے قائد اعظم نے مسلم لیگی رہنما فیروز خان نون کو یہ ٹاسک دیا کہ وہ مسلم ممالک کا ہنگامی دورہ کریں اور امداد کے لیئے جھولی پھیلائیں۔ فیروز خان نون ترکی گئے او ر افواج پاکستان کے لیئے اسلحہ مانگا مگر ایسا کورا جواب ملا کہ وہ باقی سب کام چھوڑ کر انقرہ میں امریکی سفارتخانے جا پہنچے اور امریکی سفیر سے درخواست کی کہ جس طرح آپ نے ترکی کا ہاتھ تھاما ہے، ہماری بھی انگلی پکڑیں، ہم ان سے کہیں زیادہ اچھے بچے ثابت ہونگے۔ قائد اعظم کے سانحہ ارتحال کے بعد لیاقت علی خان نے یہ چورن ایک نئے انداز میں بیچنے کی کوشش کی۔ وزیر خارجہ ظفراللہ خان اور وزیر خزانہ غلام محمد کی سر توڑ کوششوں کے باوجود امریکی حکام کو قائل نہ کیا جا سکا۔ امریکی بے رخی کا رنج تو تھا ہی مگر جب پاکستان کو نظر انداز کر کے نہرو کو دورہ امریکہ کی دعوت دی گئی تو بہت برا لگا۔ جھٹ پٹ روسی حکام سے ساز باز کر کے دورہ ماسکو کا دعوت نامہ حاصل کیا گیا اور 8جون کو اعلان کر دیا گیا کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دورہ روس کی دعوت قبول کر لی ہے۔ 7ستمبر 1949ء کو پاکستانی سفیر اصفہانی نے لیاقت علی خان کو خط لکھا:”جناب وزیر اعظم ! آپ کی طرف سے دورہ ماسکو تو ہماری حکمت عملی میں ترپ کا پتہ ثابت ہوا۔ چند ماہ پہلے تک امریکی حکام ہمیں محض شیریں الفاظ پر ٹرخا رہے تھے اور ہماری حیثیت اس اچھے بچے کی سی تھی جس نے کیمونزم کی گیند سے نہ کھیلنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ امریکی حکام کا خیال تھا یہ اچھا بچہ مر جائے گا مگر کیمونسٹوں سے بات چیت نہیں کرے گا۔۔۔ “5 اکتوبر کو جواہر لال نہرو امریکہ پہنچے، 7 نومبر کو امریکی حکام نے لیاقت علی خان کو امریکہ بلائے جانے کے لیئے گرین سگنل دیا اور 9 نومبر کو حکومت پاکستان نے دورہ ماسکو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسی بارے میں: ۔  اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔۔۔

لیاقت علی خان کے بعد غلام محمد نے باگ ڈور سنبھالی، اس کے بعد اسکندر مرزا تخت نشین ہوئے اور پھر ایوب خان برسر اقتدار آئے مگر تزویراتی گہرائی اور روسی جارحیت کے خلاف اگاڑی ریاست کے طور پر پاکستان کا مجوزہ کردار ہی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون قرار پائے۔ پاکستان کی حیثیت اس عاشق کی تھی جو اپنی محبوبہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیئے کبھی اپنی نسیں کاٹنے لگتا، کبھی کھمبے سے لٹک جاتا تو کبھی کسی اونچی عمارت کی چھت سے چھلانگ لگانے کی دھمکیاں دینے لگتا۔ آخر کار امریکہ نامی قاتل حسینہ کا دل پسیج گیا اور اس نے اپنے اس دیوانے کو شطرنج کے مہرے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی نیشنل اسکیورٹی کونسل نے تجاویز دیں ”موجودہ پاکستانی حکومت کی اس وقت تک حمایت کی جائے جب تک یہ امریکہ نواز رہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہاں کیمونسٹوں کی کٹھ پتلی حکومت نہ بننے پائے۔ جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسیاں آگے بڑھانے کے لیئے پاکستان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ کیمونزم کے خلاف مشترکہ محاذ میں پاکستان کے مرکزی کردار کو یقینی بنایا جائے۔ “ 25 فروری 1954ء کو امریکی صدر آئزن ہاور نے 171 ملین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا جو آئندہ چار سال کے دوران قسط وار ملنا تھی۔ اس امداد کے عوض پاکستان نہ صرف  SEATO اور بغداد پیکٹ کا حصہ بنا بلکہ روس کی جاسوسی کی لیئے امریکہ کو ہوائی اڈے بھی فراہم کیئے گئے۔ ان دنوں سی آئی اے نے U2 کے نام سے ایسے ڈرون طیارے بنائے جو جنگی جہازوں اور اینٹی ایئر کرافٹ کی زد میں آئے بغیر اہم مقامات کی تصویریں بنا سکتے تھے اور ایک مرتبہ اڑان بھرنے کے بعد مسلسل ساڑھے سات گھنٹے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان طیاروں کے لیئے پشاور میں بڈابیر کا ہوائی اڈا امریکہ کو دیا گیا۔ نائن الیون کے بعد یہی کام پرویز مشرف نے کیا۔ شمسی جیکب آباد اور پسنی ایئر بیس امریکہ کے حوالے کردیئے گئے تاکہ امریکی ڈرون اپنا کام کر سکیں۔

اسی بارے میں: ۔  اسحاق ڈار کی فقید المثال غریب دوستی

پاک امریکہ تعلقات کی یہ عشقیہ داستان اس لیئے یاد آئی کہ چند روز قبل پاکستان کے مشیر خارجہ طارق فاطمی سے منسوب یہ بیان شائع ہوا کہ امریکہ مطلب پرست دوست ہے۔ تعجب ہے، کیا کوئی غیر مطلب پرست دوست بھی ہوتا ہے؟ ویسے میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر روس نہ ہوتا تو ہماری خارجہ پالیسی کا کیا بنتا ؟روس نہ ہوتا تو ہم امریکہ کی گود میں بیٹھنے میں ہرگز کامیاب نہ ہوتے، روس نہ ہوتا تو افغانستان پر حملہ نہ ہوتا، پہلے ضیاءالحق اور پھر پرویز مشرف کے دور میں ڈالروں کی بارش نہ ہوتی، روس نہ ہوتا تو طالبان نہ ہوتے، امریکی ڈرون حملے بھی نہ ہوتے تو پھر کیا ہوتا؟ ہمارا چورن تو مارکیٹ میں پٹ جاتا، ایسی صورت میں ہم کیا بیچتے؟ میرے خیال میں تو یہ تصور ہی محال ہے۔ یہ سوچ کر ہی میرا دماغ ماﺅف ہو رہا ہے کہ اگر روس نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔ تو کیا ہوتا؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔