سوال کی حرمت کا سوال ہے


hamzaحمزہ علی عباسی ان نابغہ روزگار شخصیتوں میں سے ہیں جو صرف اپنے بنیادی پیشے کی وجہ سے ہی شہرت کے حامل نہیں ہوتے بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دوسرے میدانوں کے بھی شاہسوار ہوتے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنی ویڈیوز اور بیانات سے بھی اچھی خاصی شہرت کمائی ہے جو شوبز سے کمائی جانے والی شہرت کا بونس شمار ہوتی ہے۔

شوبز میں ایک اداکار کی حیثیت سے متعدد ڈراموں اور فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے پاکستان میں لاکھوں مداح پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سوشل میڈیا کا بھی بھرپور استعمال کیا، شوبز میں اپنے کردار کے برعکس سوشل میڈیا پر وہ اپنے مذہبی رجحان کی وجہ سے بھی اچھے خاصے مقبول ہیں، مختلف مذہبی معاملات پر اظہار رائے کی وجہ سے وہ خاصی توجہ کا مرکز بنے۔

گذشتہ روز انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک ایسے موضوع پر اظہار خیال کرکے پاکستان بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے کہ جسے ہم بآسانی بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے صورت حال نے ایسا پلٹا کھایا کہ ان کے کل کے مداح، آج نقاد بن چکے ہیں اور کل کے نقاد آج ان کی مدح سرائی میں مشغول ہیں۔ برسبیل تذکرہ ذکر کر دوں کہ راقم کا شمار مؤخر الذکر قبیل میں ہوتا ہے۔

حمزہ علی عباسی صرف ایک سوال کرکے آج پاکستان کی اکثریت کی نظر میں مجرم بن چکے ہیں، یہ صورت حال پاکستان میں عدم برداشت اور عدم رواداری کی بھرپور عکاسی کرتی ہے، اگر ہم سوال اٹھانے کی بھی حوصلہ شکنی کریں گے تو پھر یہ بات طے ہے کہ ہم کبھی بھی شعوری ارتقاء کے مراحل طے نہیں کر پائیں گے، پہلے سے فکری جمود کا شکار قوم مزید ایسے جمود کا شکار ہوگی کہ شائد قیامت کے زلزلے بھی ہمیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پائیں گے۔ جواب سے اختلاف کرنے کا ہر کوئی بنیادی حق رکھتا ہے، لیکن سوال اٹھانے پر اس قدر اضطراب اور اشتعال کوئی مثبت علامت نہیں ہے، یہ سیدھے سبھاؤ شعوری بیماری تو کہلائی جا سکتی ہے کوئی مثبت رویہ ہرگز نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ ”ممکن ہے کہ سوال بہت احمقانہ ہو لیکن جواب فہم انگیز ہونا چاہئے“ سوال کے قیام پر قدغن لگا کر ہم سوائے کسی فہم انگیز حل اور جواب سے محرومی کے اور کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ جبکہ صورت حال یہ ہے کہ حمزہ علی عباسی کا پوچھا گیا سوال نا hamzad418صرف سنجیدہ ہے بلکہ انتہائی اہم بھی ہے۔

میں نے حمزہ علی عباسی کے بیان کے تناظر میں لکھی گئی کئی تحریروں کا جائزہ لیا، ان کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ ایک معاملہ جو ریاستی سطح پر طے ہوگیا ہے، حمزہ علی عباسی کو اسے از سر نو نہیں اٹھانا چاہئے، حمزہ علی عباسی کو صورت حال کا ادراک ہی نہیں ہے، حمزہ علی عباسی کو ایسے سوال اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ، جبکہ حمزہ علی عباسی کے اٹھائے گئے سوال سے دانستہ یا نادانستہ طور پر پہلو تہی کی گئی ہے۔ حمزہ علی عباسی ایک طے شدہ قضیہ کو از سر نو زندہ نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے اس قضیئے کے ایک پہلو کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ ”آیا کسی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو مسلمان یا کافر قرار دے سکے؟“ آج کے اخبارات میں حمزہ علی عباسی کے سوال کے تناظر میں علماء کرام کا دھواں دھار ردّ عمل تو موجود ہے، لیکن میری نطر سے کسی ایک بھی عالم دین کا جواب نہیں گذرا جو سوال کی روح سے مطابقت رکھتا ہو۔

حمزہ علی عباسی صاحب ! آپ کا سوال ہے کہ ”کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو مسلمان یا کافر قرار دے سکے“؟ آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ واضح ہونا بہت ضروری ہے کہ آپ کے سوال میں مذکور ریاست سے کون سی ریاست مراد ہے ؟

hamza37ویسے تو دنیا میں مختلف اعتبار سے ریاست کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن آپ کا سوال ریاست کی اس تقسیم سے متعلق ہے جس کا تعلق سیکولرازم اور تھیوکریسی سے ہے۔ اگر تحریر کو مختصر کیا جائے تو میں پہلے سیکولر ریاست کے حوالے سے آپ کے سوال کا جواب عرض کر دوں کہ کوئی سیکولر ریاست اپنا یہ حق اور دائرہ اثر نہیں سمجھتی کہ وہ ریاست کے کسی فرد کے بارے میں ایسا کوئی فیصلہ کرے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ سیکولر ریاست میں تمام افراد یکساں حقوق کے حامل ہوتے ہیں، ریاست کا کاروبار عوام کو تحفظ، انصاف، تعلیم، روزگار، طبی سہولیات، فراہم کرنے سے متعلق ہے، ان کی فلاح و بہبود کے بہتر مواقع اختیار کرنے سے ہے۔ سیکولر ریاست عوام کو عقیدے کے ترازو میں نہیں تولتی۔ عقیدے انسانوں کے ہوتے ہیں، ریاست کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ ریاست کا مذہب ہونا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے ایورسٹ پہاڑ ہندو ہے، اور K2 مسلمان، بحیرہ عرب مسلمان ہے اور بحر ہند ہندو۔

اگر آپ کے سوال کا تعلق مذہبی ریاست سے ہے تو جواب ہے کہ جی ہاں، مذہبی ریاست، انسان کی زندگی میں اس قدر گہرائی تک مداخلت کا حق رکھتی ہے کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ نا صرف اپنی رعایا بلکہ بوقت ضرورت خارج از اقلیم لوگوں کو بھی کافر قرار دے سکتی ہے۔ مذہبی ریاست عقیدے کی بنیاد پر رعایا میں تفریق کا حق رکھتی ہے (یہ الگ بحث کہ ایسا ہونا چاہئے یا نہیں، لیکن بہرحال مذہبی ریاست کے اس حق کو چیلنج کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے) پاکستان بھی آئینی طور پر ایک مذہبی ریاست ہے۔ پاکستان، ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے، اگرچہ آج 69 سال گذر جانے کے باوجود ہم مسلمان کی تعریف کا حدود اربعہ متعین نہیں کر پائے ہیں، لیکن جس قدر ہم مسلمان ہیں اس قدر مسلمانی کے اجتماعی نرغے میں ابھی تک صرف احمدی ہی آ پائے ہیں۔ مزید کوششیں جاری ہیں، ”مایوسی کفر ہے“ ہمارے پسندیدہ اور مقبول ترین اقوال زریں میں سے ایک ہے۔

حمزہ علی عباسی صاحب ! اگر آپ واقعی دل سے یہی چاہتے ہیں کہ ریاست میں تمام تر عوام کے یکساں حقوق ہوں، عوام کے درمیان عقیدے کی بنیاد پر کسی قسم کی کوئی تفریق روا نہ رکھی جائے تو آپ کی مغضوب علیہ سیکولر ریاست میں تو ایسا ممکن ہے لیکن آپ کی ممدوح مذہبی ریاست میں ایسا ممکن نہیں۔ کبھی موقع ملے تو غیر جانب داری سے دنیا کی مذہبی اور سیکولر ریاستوں میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے موازنے پر ضرور تحقیق کیجئے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سوال کی حرمت کا سوال ہے

  • 14-06-2016 at 3:59 pm
    Permalink

    حمزہ کی جرات کو سلام، لیکن سنا ہے قادریوں کا ایک گروہ بھی اسکی تلاش میں ہے

Comments are closed.