میڈیا ٹاک شو یا فری سٹائل ریسلنگ


QADIR GHAURIماروی سے لڑائی کے بعد جو شاہد مسعود کے پروگرام میں ہوئی تھی اور کچھ میڈیا کیس کی وجہ سے زیدحامد لال ٹوپی کو میڈیا نے بلانا چھوڑ دیا۔ اب ماروی سے لڑائی کے بعد حمداللّہ  کو بھی بلانا چھوڑدیں گے۔ شاید میں واحد ٹیلی ویژن پروڈیوسر ہوں جس نے آٹھ دس سال کی اپنی ملازمت مین نہ لال ٹوپی کو اپنے کسی ٹاک شو میں بلایا ہے اور نہ حمداللہ کو ۔

تعریف تو بنتی ہے کہ ماروی کے ساتھ بھی کوئی 6 سال سے ٹاک شو نہیں کیا.

شاید میں مردم شناس ہوگیا ہوں۔

لوگ گواہ ہیں کہ میرے پروگرام میں جھگڑے نہیں ہوتے، بات ہوتی ہے.

اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ٹاک شو کی ساری جوڑیاں ریٹنگ کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

فیاض الحسن، صدیق الفاروق، شوکت بسرا کو بلا لو۔ نہیں شوکت بسرا کو چھوڑو، شرمیلا کو رکھ لو، بڑا لڑیں گے۔

فردوس عاشق اعوان اور کشمالہ طارق کو بٹھا دیں۔

شیخ رشید اور حسن نثار کی بازاری زبان کی وجہ سے بہت ریٹنگ ہے، مہینے میں تین چار مرتبہ رکھو۔ ائیرمارشل شاہد، جنرل امجد شعیب کو وسیم اختر یا کسی اور متحدہ کے لڑنے والے بندے کے ساتھ رکھ لیں۔ رانا ثنااللہ کو ادھر مراد سعید کے ساتھ ڈالیں اور عابد شیر علی کو شرجیل میمن کے ساتھ لڑا دیں۔

وینا کو کسی مفتی کے ساتھ رکھ لیں، نہیں نہیں میرا کو رہنے دو، یار اُس کو بولنا نہیں آتا۔

یہ کرتے ہیں پروڈیسر اور کوارڈی نیٹر کیونکہ ان پر اینکر کا پریشر ہوتا ہے اور اینکر پر نیوز ڈائریکٹر کا دباؤ ہوتا ہے اور نیوز ڈائریکٹر پر مالک کا کیونکہ مالک کو اشتہار چاہیے۔ اشتہار سے پیسا آتا ہے، اب کوئی لڑے یا مرے۔ اس کو کیا۔

بہت سے کاروبار کی طرح یہ بھی ایک کاروبار ہے، کوئی سوشل ورک نہیں،

ہم بھی اسی طرح کما کر اپنا گھر چلاتے ہیں اور دو وقت کی روٹی کھاتے ہیں.

اینکرز فائٹ کلب چلانے کے 4، 5 لاکھ  سے 40 ، 50 لاکھ تک تنخواہ لیتا ہے، جبکہ اُسی ادارے میں صحافی کو 1 لاکھ زیادہ سے زیادہ ملتے ہیں اگر وہ بہت ہی زور لگا لے.

پروڈیسر لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان، کوارڈی نیٹر 60 ہزار سے 90 ہزار تک تنخواہ اُٹھاتا ہے.

کیمرامین پانچ ہزار سے ستر ہزار تک، سیٹلائٹ وین آپریٹر 8 ہزار سے 40 ہزار تک، وین ڈرایور 10 ہزار سے 22 ہزار تک، چپراسی 4 ہزار سے 12 ہزار تک،

اور بھی شعبے ہیں جن کی تنخواہ انہی ٹاک شو کی ریٹنگ سے نکلتی ہے.

ایشو بھی کوئی سلجھا ہوا نہیں ہوتا، ہمیشہ غلط اور گھٹیا ایشو پر پروگرام ہوتے ہیں، تعلیم پر ہوں، بجلی پانی پر ہوں، غربت پر ہوں، مھنگائی پر ہوں لیکن نہیں۔  ٹاک شو ہوتے ہیں ٹریکٹر ٹرالی، میسنا، کوئی شرم کوئی حیا جیسے ڈائیلاگ پر، جھوٹے لوگوں کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے، شہباز شریف کے پنکھے پر، مریم، بلاول کی ٹوئٹ پر، مولوی کو ڈیزل بولنے پر، بے بنیاد الزامات پر، افسوس ان لغو موضوعات اور ایشوز پر بندے بھی پھر لڑنے والے چاہیے،

اس پر تاج حیدر، فرحت اللّہ بابر ،راجہ ظفرالحق، حاجی عدیل، خوش بخت شجاعت جیسے سمجھدار سیاست دان تو نہیں چلیں گے،

 میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  نیوز ون کا پروگرام صرف اور صرف جھگڑے اور ریٹنگ کے لیے کیا گیا ہے،اس کو اس کے ساتھ بلا لو، خوب جھگڑا ہو گا۔

وہ دونوں تو دوست ہیں یار چھوڑ مزا نہیں آنا۔۔۔ نہ لڑیں تو اینکر کو پیچھے سے کان میں بولا جاتا ہے، بھائی مزا نہیں آ رہا یار غصہ دلاؤ، ڈنڈا مار دو سر پر. . .

چار جھگڑالو لوگ جمع کرکے کہتے ہیں کہ یہ لڑے کیوں؟ فیاض الحسن کا نام آتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ ماروی اور مولوی کی جوڑی کا سوچتے ہی دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں، ہاہا بہت لڑیں گے.

اس پروگرام کو بنانے والے نادیہ مرزا اور ٹیم بھی دراصل اس گالیوں اور جھگڑے میں برابر کی شریک ہے، جن کا کوئی نام ہی نہیں لے رہا، بلکہ مشہوری ہو رہی ہے، ریٹنگ بڑھ رہی ہے. میرے جیسے بندے نے آج تک نادیہ مرزا کا شو نہیں دیکھا تھا میں نے بھی دیکھا، آپ میں سے بہت سارے لوگوں نے تو نادیہ مرزا کا نام بھی پہلی بار سنا ہو گا، اگر میں غلط ہوں تو ثابت کرو تم اتنے اچھے ہو تو جو پروگرام خراب ہو گیا تھا، وہ رات کو دکھایا کیوں گیا، ریٹنگ کے لیے نا؟

حمداللّہ نے بہت گھٹیا حرکت کی۔ ٹھیک ہے ماروی نے جواب دیے، چلیں دیے لیکن جس میڈیا نے ماحول بنایا، کٹڑ مخالفین کو ایک ساتھ بٹھایا، کیا وہ ذمہ دار نہیں؟


Comments

FB Login Required - comments