نابینا شہر میں آئینہ : سعادت حسن منٹو


فخرلالہ

fakhar lalaاردو افسانے کی تاریخ کے سب سے متنازعہ اور سب سے مقبول افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو ہر بڑے دماغ کی طرح کافر، فاترالعقل اور فحش جیسے القابات سے نوازا گیامگر آج اردو افسانہ کا جب بھی اور جہاں بھی لیا جاتا ہے وہاں منٹو کا ذکر لازمی سمجھا جاتا ہے مزے کی بات تو یہ کہ جب بھی کسی سے پو چھاجاتا ہے کہ آپ کا سب سے پسندیدہ افسانہ نگار کون ہے توجھٹ سے منٹو کا نام لےتا ہے اب یہ پتا چلانا تو مشکل ہوتا ہے کہ موصوف نے منٹو کا کوئی افسانہ پڑھا بھی ہے کہ نہیں یامنٹو کے علاوہ کسی اور افسانہ نگارسے ”شناسائی“ ہے بھی کہ نہیں۔ عجیب بات ہے منٹو جیسا کافر اور فحش آدمی جس کی غلیظ تحریریں جن میں جنسیات کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا جاتا اور جس کی تحریروں کو پڑھنا شرفاءکو زیب نہیں دیتا، کیسے آج بھی مقبول ترین افسانہ نگار ہے؟ شاید اس لئے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی منٹو کی تحریریں زنگ آلود نہیں ہوئیں آج بھی ہمارا معاشرتی چہرہ ان میں پوری طرح نظر آتا ہے

منٹو اور منٹو کی تحریروں کے بارے عام تاثر یہی ہے کہ یہ صرف معاشرے کے تاریخ پہلوﺅں کو سامنے لاتا اور روشن پہلوﺅں کو یکسر نظر انداز کر دیتاہے اب یہ بے تکہ اعتراض تو ہم ہر طیب پر کر سکتے ہیں کہ اس منحوس کو صرف زخم والی جگہ ہی نظر آتی ہے باقی اتنا خوبصورت جسم نظر ہی نہیں آتا ۔اب اس امر کو ہماری بدقسمتی کہا جائے منٹو کی خوش بختی کہ منٹو کی تحریروں میں جس سیاہ معاشرے کا ذکرہے ہم آج بھی اسی معاشرے میں زندہ ہیں اور جب تک ہمارا معاشرہ تبدیل نہیں ہوتا ہمیں طوعا ً و کرہاً منٹو جیسے ’عریاں نگار‘کی’ غلیظ تحریریں‘ آئینہ دکھاتی رہیںگی۔آئیے منٹو کے چند افسانوںاور اپنے حالات پر نظر ڈالتے ہیںکہ آیا ہم واقعی چاند اور مریخ پر پہنچ گئے ہیں جہاں منٹو جیسا میٹرک پاس بہت چھوٹا نظر آتاہے یا ہم جہالت اور بدتہذیبی کے اسی کنویں میں غرق ہیں جہاں سے منٹو نو گز کا پیر نظر آتا ہے

منٹو کا مشہور افسانہ ” نیا قانون‘ جو شامل ِ نصاب بھی ہے تقریباً ہر اردو پڑھے لکھے شخص نے پڑھ رکھا ہے یہ افسانہ پڑھ کر ہر گز بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ پاکستان بننے سے پہلے غلامی کے دور کا افسانہ ہے بلکہ یہ کہانی اور اس کے کردارہوبہو آ ج کے دور کے ہی ہیںآج بھی بیس کروڑ منگو رات کو آٹھ سے گیارے بجے تک ہر نیوز چینل پر مفت ملنے والی” نشہ آورادویات“ کے زیراثر یہی سوچ کے سوتے ہیں کل جب وہ سو کر اٹھیں گے تو عدل کا نظام قائم ہو چکاہوگا، بدعنوان حکمرانوںاور افسران کی لاشیں چیئرنگ کراس ، کلمہ چوک اور لکشمی چوک پر لٹک رہی ہوں گی ۔ ہر روز صبح اٹھ کر وہ جھوٹی تسلیوں کے تانگے پر سوار ہو کر یہ آس لے کر گھر سے نکلتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ’مقدس آئین‘ میں ہونے والی نت نئی ترامیم اور قوانین کے میٹرنٹی ہوم سے آ ج کو ئی ایسا قانون ضرور جنم لے گاجو ان کو برابرکے شہری، عزت سے جینے اور چین سے مرنے کاحق دے دے گا ۔مگر ہر روز گھر واپسی پر ان کی بے بسی اور نامرادی ان کوطعنے دیتی ہے کہ کوئی نیا قانون نہیں بنا آج وہی پرانا قانون ہے تمہارا نصیب صرف دیسی گوروں پر کڑھنا ، مارکھانااور سزائیں بھگتنا ہے۔۔

اسی طرح ایک افسانہ جو دہلی کی ایک لڑکی نسیم اختر‘ طوائف کا قصہ ہے جو پاکستان بننے کی خوشی میں سرشار دہلی میں اپنا چلتاہو ا دھندہ چھوڑکر پاکستان آجاتی ہے اور لاہور میں ایک مکان لے کرشریفانہ زندگی گزارنا شروع کردیتی ہے مگر بدقسمتی سے ایک بڑھیا کو اپنی ماں بنانے کی بھول کر بیٹھتی ہے اور بالآخر وہ سفاک بڑھیا پھر سے اسے کوٹھے پر لابیٹھنے پر مجبور کر دیتی ہے یہ کہانی کوئی افسانہ لگتی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کروڑوں محبِ وطن پاکستانیوں کی آپ بیتی ہے جوپاکستان کی محبت میں اپنا سب کچھ تیاگ کر آتے ہیںمگر بدلے میں سوائے ذلت اور رسوائی کے کچھ نہیں ملتا۔۔فیض احمد فیض جنھیں دنیا لینن ایوارڈ اور نجانے کس کس اعزاز سے نواز چکی ہے مگر پاکستان میں ان کے لئے حالات اس قدر سنگین کر دیئے گئے کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ڈاکٹر عبدالسلام کی بات کر لیں جنھیں فزکس میں نوبل پرائز مل چکا ہے مگر پاکستان میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ناقابلِ بیان ہے اور حال ہی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر جب قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ سارے کے سارے نسیم اختر ہیں اور ہماری بیوروکریسی، وڈیرہ شاہی اور حکمران اسی سفاک بڑھیا جنتے کے اوتار ہیں جو ہر محبِ وطن پاکستان کے پاﺅں میں رشوت ،بدعنوانی اور اقرباپروری کے گھنگھرو باندھ کر اسے مصلحت کے کوٹھے پر بیٹھنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔

جب ہم پاکستان کے جمہوری نظام کودیکھتے ہیںتو ہمیں منٹو کا افسانہ ’جھمکے‘ یاد آجاتاہے جس میں ایک امیرزاد ہ ایک عورت کو جھمکے دے کر خرید لیتاہے اور وہ عورت اپنے شوہر سے بے وفائی کرکے اس امیر زادے کے پیچھے چل نکلتی ہے اور حسبِ معمول وہ امیرزادہ چند دن بعد ہی اسے لات مار کر نکال باہر کرتا ہے پھر وہ عورت سار ی عمر چند ٹکوں کی خاطر اپنا جسم فروشی کرتی رہتی ہے آخر اپنے حقیقی شوہر چرن جی کوچوان کے تانگے پر آبیٹھتی ہے اور وہ کوچوان اور عورت سمیت تانگہ گہری کھائی میں پھینک دیتاہے ۔ غور کیجئے کہ یہ کہانی بھی ہمارے اردگر د کی نہیں؟ کس طرح ہرچند سال کے بعد کوئی امیرزادہ غریب بستیوں جاتاہے پکی سڑک، سکول، ہسپتال اور نوکریوں کے جھمکے دکھا کر ان کے ضمیر خریدتاہے اور پھر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر انھیں کا خون چوستاہے اور اگر کوئی بات کرے تو وہ لات مارکر نکال باہر کرتے ہیں کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ معاشرے کے اس رنڈی خانے میں ان کی کوئی کمی نہیں جو جھمکے دیکھ کر صدیوں سے بکتی آرہی ہیں اور آگے بھی بکتی رہیں گی۔اوریہ ضمیر فروش بھی کسی ایک جھمکے والے کی لات کھا کر سبق نہیں سیکھتے بلکہ کسی امیرزادے کے پیچھے لگ جاتے ہیں یوں یہ سلسلہ چلتا رہا ہے حتیٰ کہ ایک دن انکی زندگی کا تانگہ ان کوذلت اور محرومی کی اس کھائی میں جا گرتاہے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں ۔

حال ہی میں ایک ٹاک شو میں جس طرح شلوار کا ذکر آیا ہرشخص نے شعوری یا لاشعوری طور پر منٹو کے افسانے کالی شلوار کی سرگوشی ضرور محسو س کی ہوگی

جب ہم منٹو کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں یہ معاشرہ ہمیں انسانی ضمیروں کا قبرستان نظر آنے لگتا ہے ہم جب بھی معاشرے کو منٹو کی نظر سے دیکھیں گے ہمیں ہر تاج محل میں کسی شاہجان کی شاہ خرچیاں دکھائی دیں گی، ہر موٹر وے پر کسی قرض اتارو ملک سنوارو مہمات کا خون تارکول کی شکل میں بہتا دکھائی دے گا، ہمیں ہر انکم سپورٹ پروگرام اور لیپ ٹاپ اسکیم جیسی سیاسی رشوتوں کے پیچھے کسی نائیکہ کی روح کارفرما نظر آئے گی ۔

غرض جب تک انسانوں کے اندر ذلت گناہ سے آشنا ہونے کا جذبہ موجود ہے، جب تک دن میں خاک سے بنے ہوئے انسان موجود ہیں منٹو کی تحریریں زندہ رہیں اور ان تحریروں میں ایک اجلے آئینے کی طرح ہماری بدصورتی نظر آتی رہے گی اور ہم اس آئینہ گر کو گالیاں دیتے رہیں گے ۔


Comments

FB Login Required - comments