کچھ جا پانی ناول، کیلے اور کچن کے بارے میں


????????????????????????????????????

نشی مورا ایک جاپانی طالب علم تھا جس نے اردو سرٹیفکٹ کورس مکمل کرنے کے لیے شعبۂ اردو میں چند سال قبل داخلہ لیا۔وہ پہلے ہی سے کا فی اردو جانتا تھا،وہ دائتو بنکا یو نیورسٹی میں اردو پڑھ چکا تھا جو ٹوکیو کے قریب ہے۔نشی مورا ہمیشہ اپنے ساتھ دو لغات رکھتا ایک اردو جاپانی لغت ، دوسری جاپانی اردو لغت،جب کبھی کوئی نیا اردو کا لفظ یا محاورہ سنتا فورا اپنے بیگ سے دونوں لغات نکالتا ان دونوں لغات کا مطلب اپنی ڈائری میں لکھ لیتا پھر اس لفظ یا محاورے کا استعمال اپنی گفتگو میں کرتا،جب کبھی کوئی لفظ ، محاورہ یا تاثر ان لغات میں نہیں ملتا تو نشی مورا پریشان ہو جاتااور اپنے اساتذہ سے جا کر درخواست کرتا کہ ان الفاظ کی وضاحت کریں،اردو سے محبت کی وجہ سے اس نے جلد ہی اردو زبان پر عبور حاصل کرلیا اور اپنی تحریروں کو دلچسپ بنا لیا۔نشی مورا اردو میں مختصر کہانیا لکھا کرتا تھا، جب جاپان پاکستان کلچرل ایسوسی ایشن نے سالانہ ہائیکو مشاعرہ یا ہائیکو پڑھنے کا سیشن رکھا تو نشی مورا نے کئی ایک ہائیکو لکھیں اور انتخاب کی منظوری کے لیے اپنے اساتذہ سے مدد لی۔ہائیکو جاپانی صنف شاعری ہے، جاپانی ذہن کو اس کی ثقافت کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا،ہائیکو کی حوصلہ افزائی کرنا آسان نہیں،جاپانی لوگ فطرت سے محبت کرتے ہیں، جو دوسری زبان اور ثقافت میں مضحکہ خیز سمجھی جاتی ہیں۔نشی مورا کی تمام ہائیکو جاپانی معیار کے مطابق تھیں لیکن ہم نے اسے تجویز دی کہ ان میں سے جو ہائیکو پاکستانی معیار کے مطابق نہیں انھیں نکال دیا جائے۔ ان ہائیکو میں سے ایک ’’کتے‘‘ اور اس کی بیوی کے بارے میں تھی۔لیکن اس کی دوسری ہائیکو جس کی ہم نے بہت زیادہ حوصلہ افزائی کی ، اس ہائیکو میں ایک ایسے شخص کی عکاسی کی گئی تھی جو تنہا تھا اور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں تنہائی کے دوران ایک مکھی اس کے ہاتھ پر بیٹھ گئی تو اس نے اس مکھی کو خوش آمدید کہا اور اس مکھی کی قربت میں خوشی محسوس کی اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جاپان میں فطرت کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ نشی مورا نے جاپانی ہائیکو کی وہ شام لوٹ لی۔

ہماری ثقافت میں یہ کچھ عجیب لگتا ہے کہ کیلے اور دوسرے پھلوں اور پھولوں کی محبت میں اپنے آپ کو کیلے کا نام دینا ۔ جب کہ جاپان میں بانانا یوشی موتو مشہور جاپانی مصنف ہیں ان کا اصل نام ماہوکو یوشی موتو ہے لیکن انھوں نے کیلے سے محبت کی وجہ سے یہ نام اپنایا ۔جاپانی لوگ اور ثقافت میں فطری چیزوں کوبڑی اہمیت حاصل ہے ان کی نظر میں سب صورتیں پیاری اور خوبصورت ہیں وہاں مینڈک اور مکھی کو بھی خوبصورت تصور کیا جاتا ہے،فطرت سے محبت اور جمالیاتی احساس کا اظہار جاپانی ادب میں بہترین طریقے سے کیا گیا ہے۔’’کچن‘‘ ایک جاپانی ناول ہے جس کے مصنف بانانا یوشی موتو ہیں جو1988ء میں اس ناول کی اشاعت کے بعد kitchen (1)ایک سنسنی خیز شخصیت بن گئے۔اس ناول کو کئی جاپانی ایوارڈ ملے کئی فلمیں اس ناول پر بنائی گئیں جس نے اسے بہت مشہور کردیا۔ اس ناول کا 1993ء میں میگن بکس نے انگریزی میں ترجمہ کیا جب سے اب تک 35زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ اردو وہ تازہ ترین زبان ہے جس میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔’’کچن‘‘ کا پلاٹ سادہ ہے جو ہمیں جاپانی ذہن کے بارے میں بتاتا ہے اور اسی دوران جدید جاپانی طرز زندگی کی وقت کے ساتھ ساتھ عکاسی کرتا ہے اس ناول کی ہیروئن می کیج سکورائی ایک غمزدہ نوجوان عورت ہے جو اپنی دادی کو کھو چکی ہے وہ باورچی خانے اور کھانا پکانے میں سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے کچن اس کے لیے دنیا کی کھڑکی بن جاتا ہے ۔اس ناول کا 135صفحات کا اردو ترجمہ راحیل پبلی کیشن کراچی سے شائع ہو ا۔اس اردو ترجمے کی زبان انگریزی ترجمے کی طرح سادہ ہے ۔اس ناول کا انگریزی ترجمہ 152صفحات پر مشتمل ہے۔خرم سہیل نے اس ناول کا اردو ترجمہ کیا ہے اور اس کی کہانی کو سادہ اردو میں پیش کیا ہے۔خرم سہیل کراچی کے ایک صحافی ہیں اور کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی ایک کتاب مو سیقی پر ہے اور ایک رضا علی عابدی کی سوانح ہے۔’ ’باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘‘ ادبی شخصیات سے انٹرویو کا مجموعہ ہے جو انھوں نے قلم بند کیا ہے انھوں نے اپنے تجربے سے مکمل فائدہ اٹھایا ہے یہ ترجمہ جاپانی ثقافت اور احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔اس ناول کے دیباچے میں خرم سہیل نے لکھا ہے کہ یہ ناول بتاتا ہے کہ آپ اگر ایک آرٹسٹ ہیں تو کچن آپ کے لیے ایک آرٹ گیلری بن سکتا ہے یہ ناول جدید جاپانی طر ززندگی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

بانانا یوشی موتو کے ناول کے اردو ترجمے پر یہ تبصرہ ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے روزنامہ ڈان کے لئے کیا۔ تبصرے کا ترجمہ ڈاکٹر تہمنیہ عباس نے کیا ہے۔ اصل تحریر کے لئے دیکھئیے:

 

http://epaper.dawn.com/DetailImage.php?StoryImage=16_05_2016_116_008

 

 

 


Comments

FB Login Required - comments