چھوڑیں صاحب، جناح کو کیا پتہ


hashirہر شاخ پر الو بیٹھا ہو یا ہر چوراہے پر منصف، دونوں صورتوں میں انجام کی نقش گری کچھ مشکل نہیں ہے۔ جذباتیت کا ڈھول گلے میں لٹکائے مداری گلیوں میں رقصاں ہیں اور دانشمندی اپنی منقار چھپائے کہیں گم ہے۔

یہ طے ہے کہ ہر کسی نے آٹھویں جماعت کی اسلامیات کی کتاب پڑھ رکھی ہے۔ مولوی خادم حسین کے خطبے سنے ہوئے ہیں۔ اسلام کا قلعہ، عشق رسول، ختم نبوت، اسلامی جمہوریہ پاکستان، قرارداد مقاصد اور تکفیر وغیرہ جیسی اصطلاحات کو مدھانی سے گھما گھما کر اور ان کا مکھن بنا بنا کر قوم کو لگانے کا ہنر بھی سیکھا ہوا ہے پر افسوس کہانی یہاں تک ہی ہے۔ اپنے کو عبقری سمجھنے والے ان محافظان ملت کو ہر حمزہ علی عباسی کو مراثی اورہر فرنود عالم کو گمراہ کا طعنہ مارنے سے بہتر اگر کوئی بات لگتی ہے تو وہ ملامتی پردے میں لپٹے اپنے تقوے کی تشہیر ہے۔

حکایت اتنی بڑھا ڈالی ہے کہ جواب دینے والا بھی کافر ٹہرتا ہے اور تنقید کرنے والا بھی۔ مذہبیت کے ہاتھ میں بھونپو کے ساتھ تیغ برہنہ بھی ہو اور لائسنس ٹو کل بھی تو کون احمق عریاں کو مستور اور کریہہ المنظر کو فردوس بر روئے زمین است نہیں کہے گا۔ سچ سننے کے لیے کانوں کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ہونا چاہئے۔ یہاں تو فتوی سازوں کی آنکھیں آہن پوش ہیں۔ دماغ دولے شاہی شکنجوں میں کسے ہیں اور کانوں میں پگھلی ہوئی عقیدت کا سیسہ پڑا ہے۔

تقدیس کا دعوی تو چھوٹی چیز ہے ادھر تو ہر چھت پر ایک چھوٹا سا خدا چڑھا ہوا ہے جو دلوں میں بھی جھانک لیتا ہے۔ نیتیں بھی پرکھ لیتا ہے اور عقیدوں کو اپنی ترازو میں اپنے باٹوں کے ساتھ تول بھی لیتا ہے۔ ان خداوندان ارض سے کون الجھے۔ اور کیسے الجھے۔ حیراں ہوں ان کا مشاہدہ ہے کس حساب میں۔

ٹھیک کہتے ہوں گے بھائی کہ ریاست کا مذہب ہو سکتا ہے۔ ہم ہی جاہل ہیں جو ساری عمر مقدس کتابوں کو غلط پڑھتے رہے۔ ساری عبادتیں، ساری نصیحتیں، ساری شکایتیں، ساری ہدایتیں فرد کے لئے تھوڑی تھیں۔ آپس میں حق بات کی تلقین، نیک عمل کی تاکید، خسارے کا ڈر، پرسش اعمال، سوچنے کی تاکید، یہ دین کا سارا گوشوارہ فرد کا تھوڑی تھا، یہ تو ریاست کا تھا۔ اب ریاست اگر کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو سکتی ہے یا بپتسمہ لے کر مسیحی بن سکتی ہے یا قشقہ کھینچ کر تلک دھاری سادھو بن سکتی ہے تو یہیں تک کیوں رکیں۔ ریاست کی شادی بھی تو ہو سکے گی۔ بعض جگہ ایک، بعض جگہ چار۔ ویسے ریاست شوہر ہوگی یا بیوی۔ اس پر فقہی رائے لے لی جائے تو اچھا ہے۔ یوں بھی ہماری ریاست چین کے نکاح میں ہے پر امریکہ سے رجوع کرنے کا امکان قائم رکھتے ہوئے۔ قوام تو ہم کبھی رہے نہیں، اس لئے شاید ہماری جنسی ہئیت کے مذہبی تعین کے بعد یہ سارا سلسلہ حرام ٹہرے۔ ویسے ریاست کو سنگسار کریں گے کیسے۔ خیر ان دور کی کوڑیوں کو چھوڑیں۔ پہلے تو ریاست کو نماز پڑھائیں، روزے رکھوائیے۔ استطاعت ہو تو پوری ریاست کو حج پر بھجوانے کا انتظام کریں۔ اچھا اگر کل خدانخواستہ ریاست مرتد ہو گئی تو کیا ہو گا۔ خاص طور پر ٹوگو، یوگنڈا اور آئیوری کوسٹ جیسے ملکوں کا۔ ہر سال آبادی کا تناسب الٹا سیدھا ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی سرکاری مذہب کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اب ریاست کا چونکہ مذہب ہو سکتا ہے اس لئے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ دائیں ٹانگ کو عیسائی قرار دے دیں اور بائیں شانے کو مسلمان۔ اور اگر ایسا ہو تو ارتداد کے جرم میں صرف ٹانگ کاٹی جائے گی یا علماء کوئی گنجائش پیدا کریں گے۔ ریاست کو مردہ کب قرار دیا جائے گا۔ جنگ کے بعد یا جب اکثریت کا دماغ کام کرنا چھوڑ دے گا۔ دوسری صورت میں تو کئی دہائیوں سے ہمارا مردہ خراب ہو رہا ہے۔ جنازہ پڑھائیں۔ مٹی ڈالیں اور کام مکائیں۔ پر ریاست سے منکر نکیر کیا پوچھیں گے۔ ریاست کی قبر کا باغ بنے گا یا ریاست کی ناک میں کالے بچھو گھسیں گے۔ یہ ذرا مشکل سوال ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں بہت سے نابغے مل جائیں گے جنہوں نے حیات بعدالممات کا گائیڈڈ ٹور لیا ہوا ہے اور باقاعدہ سفر نامے چھپوائے ہوئے ہیں۔ ان سے پوچھ لیں گے۔ ریاست کو ہلکا پھلکا تشدد کرنے کی اجازت ہو گی یا ہماری صورت میں ایران، بھارت، افغانستان اور امریکی ڈرونز کا ہلکا پھلکا تشدد سہہ کر صبر کرنے کی تلقین بہتر رہے گی۔ اس پر بھی کچھ طے ہو ہی جائے گا۔ آخر کو دین مکمل ضابطہ حیات ہے۔

ریاست افراد سے ہی بنتی ہے۔ چاند پر اسی لئے کوئی ریاست نہیں تو اگر ریاست کا مذہب ہو گا تو پھر ہر فرد کا وہی مذہب ہو گا۔ آدھا ادھورا مذہب کس کام کا۔ ریاست ایک مذہب طے کرے اور باقیوں کو دیس نکالا۔ یہ کلیہ اچھا ہے۔ دنیا میں اس سے آشتی ہو گی۔ ساری ریاست ایک سو ہو کر اپنے اجزاء یعنی افراد کی بہبود کے کام کرے گی۔ اختلاف کی اول تو گنجائش بچے گی نہیں اور جو دو چار ناسور جسمانی صحت کے لئے خطرہ ہوں گے ان کے لئے جراح کا نشتر تو ہے ہی۔

اگر آپ کا خیال ہے کہ میرا دماغ چل گیا ہے اور میں اناپ شناپ بک رہا ہوں تو آپ کا خیال بالکل ٹھیک ہے۔ اس قسم کی لغو باتیں کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ جو میں سچ مچ کہنا چاہتا ہوں وہ اس لیے نہیں کہتا کہ نہ میرا نام منصور ہے اور نہ مجھے دست قاتل کے شایان ہونے میں کوئی دلچسپی ہے۔ تو جو دانشوران ملت کہتے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ ریاست تو چھوڑئے میرے خیال سے تو ہیڈ کانسٹیبل سے اوپر کے ہر افسر کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کے بارے میں نہ صرف یہ فتویٰ دے سکے کہ وہ اپنا مذہب کیا بتا سکتے ہیں بلکہ لوگوں کو اس بات کی اجازت بھی سرکاری اور ریاستی عمال سے لینی چاہئے کہ وہ اپنا نام بوٹا خان یا کوکو کرینہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ بھی اجتماعی سطح پر ہونا چاہئے کہ نیکر پہننے کی اجازت چوالیس ڈگری سنٹی گریڈ سے کم پر نہیں ملے گی۔ اور یہ امر تو انتہائی اہم ہے کہ کون اپنے آپ کو عورت سمجھ سکتا ہے اور کس کو مرد کہلانے کا اختیار ہو گا۔ کون ذہین کہلائے گا اور کون غبی۔ کون کس کھیل کو پسند کر سکے گا۔ کس کو کون سا کھانا کھانے کا اختیار ہو گا۔ کس کو کون سا رنگ پسند ہو گا اور کون بولے گا اور کون صرف سنے گا۔ پی ٹی آئی کا سپورٹر پی ایم ایل ن کی تعریف ریاست کی اجازت سے کرے گا۔ گوشت خور کون ہو گا اور سبزی خور کسے کہتے ہیں۔ اس کا سرٹیفیکیٹ نادرا سے ملے گا۔ اگر آپ بالی ووڈ کو لالی ووڈ پر ترجیح دیں گے تو یہ فیصلہ ریاست کرے گی کہ اس پر آپ کا شناختی کارڈ منسوخ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ فیصلہ بھی ریاست کرے گی کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں یا سچ۔ سلطان باہو آج ہوتے تو یہ نہ کہہ پاتے کہ کون دلاں دیاں جانے ہو۔۔ ظاہر ہے ریاست کی روحانی قوت ان پر آشکار نہ تھی تبھی ایسی باتیں لکھ ماریں

ایک صاحب ہوتے تھے محمد علی جناح۔ ہمارے متقی کالم نگار کبھی کبھی ان کا نام استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے 11 اگست 1947 کو اپنے سرکاری ( سیاسی نہیں) خطاب میں پالیسی بیان میں کہا تھا

“اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔‘‘

اسی طرح کی ایک اور بات مئی 1944 میں انہوں نے کہی تھی کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے اور یہ حق اس سے ایک منتخب اسمبلی بھی نہیں چھین سکتی۔

لیکن چھوڑئے صاحب جناح کو کیا پتہ – احراری ان کے موقف پر انہیں کافر اعظم کہتے تھے۔ ٹھیک کہتے تھے۔ آج کا پاکستان مودودیوں، نورانیوں، اوریاؤں اور قادریوں کا پاکستان ہے۔ پاکستان کیسا ہونا چاہئے۔ مذہب کی روح کیا ہے۔ جناح کو، آپ کو، ہمیں کیا پتہ۔ سوشل میڈیا پر قاری حنیف، جناب عامر خاکوانی اور انصار عباسی موجود ہیں۔ روز ہم جاہلوں کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جلسوں جلوسوں میں حافظ سعید، ابوالخیر زبیر، منور حسن، سمیع الحق اور فضل الرحمان جیسے لوگ ہمارے مفاد عظیم کے لئے ایک تھیو کریسی تعمیر کر رہے ہیں۔ ہم ہی ناشکرے ہیں۔ لیکن انہیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ ہدایت دینے والا ہے، نہیں تو نئے غازی تو تیار ہیں ہی۔ ایسے نہیں تو ویسے۔ ہم سدھر ہی جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad