ہماری مسلمانی اور خواجہ سرا


Aamir-Hazarviکل ضلع مانسہرہ کے خواجہ سراوں نے پریس کانفرنس کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ خواجہ سراوں کو براہ راست سننے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے ایسا موقع کبھی نہیں ملا تھا۔ خواجہ سراوں کی پریس کانفرنس نوحہ تھی۔ صرف نوحہ ہی نہیں ہمارے منہ پہ طمانچہ بھی تھی۔ خواجہ سرا اپنی حفاظت کا رونا رو رہے تھے کہہ رہے تھے، ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے، ریاست روٹی دینے میں تو ناکام رہی، ہمیں تحفظ ہی دے دے۔

خواجہ سراوں کے گرو نے بتایا کہ شام کا وقت تھا ہم افطاری کے بعد اپنے حجرے میں تھے کہ چند نوجوان آئے جنہوں نے جسم کی آگ بجھانے کے لیے ہمارے ایک خواجہ سرا کو اکسانا شروع کیا۔ چاند عرف کاشی نے کہا۔ رمضان کا مہینہ ہے۔ اس مہینے تو ہمیں رب کو راضی کرنے دو۔ آخر کچھ تو خدا ہمارا بھی لگتا ہے۔ ہمارے دل میں بھی ایمان کی چنگاری ہے۔ اسے شعلہ بننے دو۔ روٹھے ہوئے رب کو راضی کرنے دو۔ گیارہ مہینوں کے گناہوں کا بوجھ اتارنے دو۔ اس کی شان کریمی کا لطف لینے دو۔ جبینوں میں تڑپتے سجدے زمین کے اس حصے تک آنے دو جہاں ہمارے گناہ پڑے ہیں۔ زمین کو گواہ بننے دو تا کہ یہ قیامت والے دن کہہ سکے کہ خواجہ سرا فقر مٹانے کے لیے کفر تک نہیں گئے۔ انہوں نے فقط جسم بیچا ہے، ایمان نہیں بیچا۔ جی ہاں جسم بیچا ہے لیکن خدا نہیں بیچا۔

افسوس سب باتیں بیکار گئیں نوجوان شہوت کی آگ میں جھلس رہے تھے انہوں نے عاجزانہ انکار کو قبول نہیں کیا اور پسٹل نکال کے فائرنگ شروع کر دی۔ جس سے shemaleprotestmansehraکاشی زخمی ہوگیا۔ مجرم ابھی تک دندنا رہے ہیں پولیس مجرموں کو گرفتار نہیں کر رہی۔ ہماری چھت کے نیچے ہم پہ ظلم ہوا لیکن کوئی ساتھ دینے کو تیار نہیں، کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں، کوئی کندھے سے کندھا ملا کے چلنے کو تیار نہیں۔ وہ لوگ جو ہمارے تھرکتے جسموں پہ سکے ڈال کے خوش ہوتے تھے آج ان کے نمبر بھی بند ہیں۔ ہمیں بتایا جائے ہم انصاف لینے کہاں جائیں؟ عدالت جاتے ہیں تو جج کہتے ہیں صلح کر لو۔ یہ عدالتیں کس کام کی ہیں یہ انتظامیہ کس کام کی ہے۔ یہ حکومت کس کام کی ہے۔ یہ ریاست کس کام کی ہے۔ جو ریاست اپنے خواجہ سراوں کو روٹی نہ دے سکے اس ریاست کے باقی رہنے کاجواز کیا ہے؟ وہ بول رہا تھا، ہم سن رہے تھے۔ وہ بول رہا تھا کہ لب خاموش تھے۔ اس کے بولنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا۔

اس نے سانس لیا تو ایک صحافی نے سوال کیا آپ کوئی کام کیوں نہیں کرتے۔ خواجہ سرا نے جواب دیا جسم بیچتے ہیں نا۔ یہ کام ہے ہمارا۔ جب اس نے یہ جواب دیا تو اہل ایمان کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات ابھرے۔ قریب تھا کہ بات بڑھتی، سوال اٹھتے وہ خود ہی بول پڑا۔ جسم بیچنا تو نظر آتا ہے لیکن پیٹ نظر نہیں آتا۔ ہم کیا کریں یہ معاشرہ ہمیں قبول ہی نہیں کرتا۔ ہم بازار سے گزریں تو لوگ آنکھوں سے اشارے کرتے ہیں۔ گھر جائیں تو جسم خریدنے آجاتے ہیں۔ یہ جسم خریدنے والے کلمہ پڑھتے ہیں کہو نا ان سے کہ ہمیں کاروبار بنا کے دیں۔ کبھی نہیں دیں گے۔ یہ ہمیں ناپاک سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیں کھلونا سمجھتے ہیں۔ وہ رکا اور پھر ایک دلچسپ بات کہی جس پہ آج تک ہم نے سوچا بھی نہ تھا۔ اس نے کہا کہ میں جسم بیچنے کے بعد بھی ثواب کماتا ہوں۔ ہم حیران کہ وہ کیسے۔ اس نے کچھ خواجہ سراوں کی طرف اشارہ کیا کہ ان کا حسن ختم ہو چکا ہے ان کا شباب بڑھاپے میں ڈھل چکا ہے ان کی اولاد بھی نہیں، ماں باپ بھی نہیں۔ اگر ہوتے بھی تو انہوں نےقبول نہیں کرنا تھا۔ اس لیے کہ انہیں بچپن میں قبول نہیں کیا گیا اب کون کرتا۔ یہ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ ان کی کفالت میں کرتا ہوں۔ بتاو مجھے ثواب ملتاہے یا نہیں۔ اب سب خاموش۔

transgender-rally-expressپھر اس نے کہا جمعہ کے دن مولوی ہمارے خلاف بات کرتے ہیں۔ مولوی کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے مانسہرہ ناپاک ہو گیا ہے۔ جنہوں نے ہمیں ناپاک کیا، ان پہ تو بات کوئی نہیں کرتا، ہمیں برا کہا جاتا ہے۔ مولوی صاحب کے پیچھے کھڑے ہونے والے نمازی ہی ہمارے خریدار ہیں۔ وہ پیسہ مسجد میں لگائیں تو نیک۔ اور ہم جسم بیچ کے اپنا اور اپنے بوڑھوں کا پیٹ پالیں تو گناہگار کیوں۔ اس نے بہت باتیں کیں جنہوں نے افسردہ کیا مجھے لگا یہ طبقہ سب سے زیادہ مظلوم ہے خواجہ سراوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے رب کے ہاں کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ میں اور تو کچھ نہیں لکھتا، اتنا ضرور لکھتا ہوں کہ خواجہ سرا جسم بیچنے کے باوجود مجھے ولی نظرآئے، شکر ہے کہ فقر نے انہیں کافر نہیں ہونے دیا۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ریاست کو انہیں ان کے حقوق دینے چاہیں۔ سرمایہ داروں کو اپنا مال ان پہ خرچ کرنا چاہیے اور مولویوں کو فتوے لگانے کی بجائے انہیں دعوت دینی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ اللہ اکبر کی صدا ان کے حجروں تک بھی جاتی ہے۔ ریاست۔ سرمایہ دار۔ اورداعی جب اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگ جائیں گے تو کوئی بھی جسم نہیں بیچے گا کوئی کسی کی مجبوری سے فاِئدہ نہیں اٹھائے گا پھر کوئی کاشی گولی سے زخمی نہیں ہوگا پھر کہیں سے فتوی نہیں لگے گا پھر انکے جسم پہ سکے نہیں ڈالے جائیں گے لیکن کب ایسا ہوگا جب ہم خواب غفلت سے بیدار ہوں گے اور تیسری جنس کو بھی خدا کی تخلیق جانیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments