قبائلی مائنڈ سیٹ یا مذہبی مائنڈ سیٹ


نصیب کاکڑ

\"naseeb\"ٹی وی چینل پر دنیا بھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ لیکن نازیبا الفاظ کا استعمال بہت کم ممالک میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک جس میں آئے روز نیم دانشور اور نیم سیاستدان ٹی وی چینلز کے شوز، پریس کانفرنسز اور جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کے خلاف غیراخلاقی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اور گالیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ بعض سیاسی پارٹیوں کے لیڈرز سے تو اس کے کارکن بھی نازیبا الفاظ کا استعمال سیکھ لیتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف اس سے بدترین زبان کا استعمال کرتے ہیں۔

 ایسا ایک واقعہ گذشتہ روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر پیش آیا جس میں ایک شو کے مہمانوں کے درمیان تلخ کلامی، لڑائی اور گالی گلوچ میں تبدیل ہو گئی۔ اس شو میں جے۔ یو۔ آئی (ف) کے حافظ حمداللہ اور سول سوسائٹی ایکٹوسٹ ماروی سرمد کے مابین تلخ کلامی ہوئی جس میں حافظ صاحب نے انتہائی غلط الفاظ ماروی سرمد کے لئے کہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے اس واقعے کی مذمت کی۔ خاص طور پر سیکولر اور پراگریسیو طبقے نے اس کی شدید مذمت کی۔ سول سوسائٹی نے غم و غصے کا اظہارکیا۔

 سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ تو نہیں تھا، ماضی میں ایسے بہت واقعات پیش آئے ہیں بلکہ حال ہی میں ایسے واقعات سب نے دیکھے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا شروع کب ہوا، کیوں ہوا، کیسے ہوا اور کس نے بنیادیں رکھیں؟ کون لوگ ہیں یہ اور ان کو اختیار کس نے دیا ہے۔ کون اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور کیا یہ ایک مخصوص سوچ کے لوگ ہیں۔ اگر ان سوالوں پر غور و فکر کیا جائے تو اگر حل نہ بھی ملے مگر جواب ضرور مل جائے گا۔

اس واقعہ کے بعد جے۔ یو۔ ائی ( ف ) کے ترجمان جان اچکزئی نے اس گند کو چھپانے کے لیے ایک اور بے بنیاد اور انتہائی غلط بات کی۔ جان اچکزئی صاحب نے کہا کہ حافظ صاحب کا لہجہ قبائیلی تھا۔ کیا جان صاحب بتا سکتے ہے کہ کس علاقے میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے۔ آپ اپنی غلطی چھپانے کیلئے قبائلی لہجے کو گالی دے رہے ہیں۔ جان اچکزئی صاحب نے ٹوئٹر پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انہوں نے قبائیلی مائنڈ سیٹ قرار دے دیا۔

 وہ کیوں ایسا نہیں کریں گے کہ قبائیلی لوگ تو ہر وقت ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے کام آئے ہیں۔ ان کی پارٹیوں کے ذریعے کبھی غیرت تو کبھی اسلام کے نام پر استعمال ہوئے ہیں۔ اور آج جب اس مذہبی پارٹی کے ایک فرد نے اپنا اصل چہرہ دکھایا تو جان اچکزئی کو یاد آیا کہ یہ نام آج بھی کام آسکتا ہے۔ حالانکہ جان اچکزئی صاحب خود بھی ایک قبائلی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ خود اس طرح کی سوچ اور لہجے کے مالک ہوں اور جب حافظ حمداللہ نے نازیبا زبان استعمال کی تو ان کو لگا کہ یہ قبائلی مائنڈ سیٹ ہےک. وہ شاید بھول گئے کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی آزادی سے اختلاف تو دراصل مذہبی مائنڈ سیٹ ہے جو کہ شروع دن سے اس ملک میں مختلف ذریعوں سے اگے بڑھ رہی ہے۔

 سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سوچ کو قبائلی علاقوں میں داخل کس نے کیا اور وہ بھی مذہبی جماعتوں کے ذریعے۔ قبائیلی علاقوں میں تو باچاخان کی تحریک میں اس وقت سینکڑوں عورتیں شامل تھیں اور باچا خان اس تحریک کو عورتوں کے بغیر نامکمل سمجھتے تھے۔ پھر جان صاحب اور ان کی پارٹی کس سوچ کی بات کر رہے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کی اپنی سوچ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔