فیس بک اور پاکستانی معاشرہ


khurram suhailپاکستان میں ٹیکنالوجی کے ظہورنےمعاشرے کے کئی روپ ہم پر منکشف کیے۔متعددنفسیاتی اوراخلاقی پہلو وں کو واضح کیا،فیس بک نے اس کارِ خیر میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔فیس بک اورہمارے معاشرے کے خدوخال تقریباً ایک جیسے ہیں،جس طرح ہم معاشرے میں مراسم نبھاتے ہیں،ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہوتے ہیں ،خوشی کے موقع پر اظہار مسرت ہوتاہے،وغیرہ وغیرہ، اسی طرح فیس بک پر بھی ہم اپنے جذبات کااظہار اسی طرح کرتے ہیں،حتی کہ ہم عملی زندگی میں جس طرح جھوٹ بولتے ہیں،کینہ پروری کرتے ہیں،دوسروں کی زندگی میں غیرضروری طورپرمداخلت کرتے ہیں اورحسدکی آگ میں بھی جلتے ہیں۔فیس بک پر بھی ان تمام احساسات کو دیکھاجاسکتاہے۔عملی زندگی اور فیس بک کی زندگی میں اتنا فرق ہے کہ عام زندگی میں جھوٹ بولنے اوردھوکہ دینے کے لیے ذرامحنت کرنا پڑتی ہے ،مگر فیس بک پرایسے کام بھی بڑی سہولت سے کرلیے جاتے ہیں۔پاکستان میں معاشرتی رویوں کے عکاس کا سب سے بہترین آئینہ یہ سوشل ویب سائٹ ہے۔

فیس بک کی مقبولیت کی بڑی وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ یہ آپ کی انا اورخودپرستی کو تسکین دیتی ہے۔اپنے بارے میں بات کرناسب کو اچھا لگتاہے ،آپ خود بھی اپنی باتیں کرتے ہیں اوردوسرے بھی آپ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔آئینہ سے بات کرنے کی عادت فیس بک پر متنقل ہوگئی ہے۔مردحضرات اپنی عمر اورذوق کے مطابق اظہارخیال کرتے ہیں ،خواتین اپنے حسن کے نشتر چلانے کے لیے اس کااستعمال بخوبی کرتی ہیں،کبھی کبھار ذہانت کوثابت کرنے کے لیے بھی فیس بک کاسہارالیتی ہیں۔مجموعی حیثیت میں دیکھاجائے تو ذاتی اورپیشہ ورانہ دونوں پہلوئوں سے فیس بک کااستعمال پاکستان میں ایک عام ذریعہ کے طورپر سامنے آیا ہے۔

فیس بک کی محبتیں بھی بہت مشہور ہیں،ان میں سے اکثریت خوبصورت دھوکے ثابت ہوتے ہیں،لیکن کبھی کبھار عہدجدید کاکوئی ہیررانجھا بھی اس راستے پر آنکلتا ہے۔محبت میں سب سے مشکل شے محبوب سے فاصلہ ہوتاہے ،فیس بک نے اس فاصلے کو بھی ختم کردیا ، محبوب چاہے ،گھرکے باورچی خانے میں برتن دھورہی ہو ، مگر فیس بک پر آن لائن دکھائی دیتی ہے اورگفتگو سے ایسا اظہار ہوتاہے،جیسے جین آسٹن کوپڑھتے ہوئے چائے کی چسکیاں لے رہی ہے۔فیس بک کے دھوکے اورلڑائیاں بھی اسی نوعیت کی ہیں۔ فیس بک پر کسی خاص موضوع کوئی بحث چھڑجائے تو شرکا اس میں اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کرتے ہیں،اس ماحول میں یہ بھی بھی پتہ چلتا ہے ،کس شخص میں کتنی صلاحیت ہے ، اگر موضوع بہت متنازعہ ہے ،یا اس کی نوعیت جھگڑے میں تبدیل ہوگئی ہے توبہت سارے عقل مند خاموشی سے اس متحرک سرگرمی پہ نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں ، مگر وہ اس کو لائک کرکے یاکمنٹس دے کر اپنے ہونے کااحساس نہیں دلاتے،ایسے بزدلوں سے فیس بک بھری پڑی ہے ۔فیس بک پر ایک قسم ایسے بابوں کی بھی ہے ،جو خواتین یا اپنے مخالفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوتے ہیں خواہ مخواہ ہیں،ان کو ہر بات سے سازش کی بو محسوس ہوتی ہے۔

خواتین میں بزدلی کی ایک علامت ،ہر چند کہ انہوں نے اس کیفیت کانام احتیاط رکھا ہوا ہے،وہ یہ کہ پروفائل میں اپنی تصویر استعمال نہیں کرتیں۔اس کی دیگر بھی کئی وجوہات ہیں ، وہ لڑکیاں جن کی نین نقش کم خوبصورت ہیں ، وہ پرہیز کرتی ہیں یا خوبصورت چہروں والی تصاویر کے پیچھے خود کو چھپاتی ہیں،کچھ لڑکیوں صرف دوسروں کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں،اپنے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتیں،اس وجہ سے بھی اپنے آپ کو سات پردوں میں چھپاکررکھنا چاہتی ہیں۔اسی فضا میں کچھ ایسی لڑکیاں بھی ہیں،جو اپنی تمام قسم کی نشست و برخاست کو فیس بک پر اپ لوڈ کرنا اپنی ذمے داری سمجھتی ہیں،مگران لڑکیوں کے ساتھ وہ والے مسائل نہیں ہوتے،جن کاتذکرہ اوپر کیاگیاہے۔یہ لڑکیاں عوامی تعلقات کی ماہر ہوتی ہیں،اس لیے یہ ہروہ شخص ،جس سے ان کوکسی طرح کابھی کوئی کام ہوسکتا ہے ،وہ چاہے فوری طورپرہویامستقبل میں،یہ ہراس شخص سے رابطے میں رہنا پسند کرتی ہیں۔فیس بک پرایسی لڑکیوں کوبہت کامیابیاں ملتی ہیں،لائک اورکمٹس بھی ملتے ہیں۔پاکستانی معاشرے کے ٹھرکی پن کا کھلااظہار فیس بک پر دیکھاجاسکتاہے۔

فیس بک نے سب سے بڑی ایجاد جو کی ہے،وہ غیرعلمی رویوں کے ماہر دانشور ہیں،وہ شاعر،ادیب،فلسفی اوردیگر صورتوں میں آپ کے سامنے آسکتے ہیں۔ان میں سے کچھ نیم صحافی اورادھورے دانشورتوایسے بھی ہیں،جو اپنی تحریر لکھنے کے بعد ٹیگ کرتے ہیں ،اس پر اگرآپ کوئی ردعمل نہ دیں توپھر آپ کو اپنی وہی تحریر ان بوکس کرتے ہیں،آپ نے اگر اس پر بھی کوئی حوصلہ افزائی نہ کی ،توپھروہ ان بوکس میں شکایت بھی کریں گے ،اسی پر بس نہیں اگر آپ نے ان سے جان چھڑائی،تووہ برامان جاتے ہیں اوریہ کہہ کر آپ کو ان فرینڈ کردیتے ہیں کہ میں تو آپ کو بہت معقول آدمی سمجھتا تھا ،مگر آپ تو بہت جاہل نکلے۔مطلب اگر آپ نے اس کی علمیت کے دیوتا کی پوجا نہ کی،توآپ کا شمار جہلا میں ہوگا۔اس طرح کے کئی دیگر مسائل سے بھی فیس بک کا استعمال کنندہ مصائب کا شکار رہتا ہے ۔

فیس بک پر آپ کو دوستی کی درخواستیں بھیجنے والوں کی بھی ایک طویل فہرست ملےگی اوراگرآپ کی ڈی پی پر تصویر لڑکی ہے ،اس کے لیے ذاتی طورپر مونث ہونا ضروری نہیں ،تو بھی آپ کے ہاں بہت بھیڑلگی رہے گی۔آپ کو پوچھے بغیر گروپس میں شامل کرنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد دکھائی دے گی،آپ کو آئن لائن دیکھ کر بہت سارے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں آپ فارغ ہیں ،وہ آپ سے بات چیت شروع کردیں گے،کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں،جو آپ کی پروفائل بھی پوری طرح نہیں دیکھتے یا پڑھتے اوران بوکس میں بقلم خود پوچھتے ہیں کہ آپ کون ہیں ؟ آپ کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔آپ کو پتہ بھی نہیں چلتااوراآپ سے دوسرے لوگ ٹائم پاس کرکے نکل لیتے ہیں۔

فیس بک نمودونمائش کے اژدھے کی شکل اختیار کرتاجارہا ہے،کچھ لوگ کہیں جائیں تو وہ بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ گئے تھے ،یا موجود ہیں ، مگر اس سے زیادہ کہیں تعداد ان لوگوں کی ہے ،جو سرے سے کہیں گئے ہی نہیں ہوتے،مگر وہ بیچارے بھی اس دوڑ میں ہانپ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ ان کی کیامصروفیات ہیں۔فیس بک پر ایسے لوگوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے،جن کے پیشہ ورانہ تعارف میں ایسے حوالےملتے ہیں،جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا،یا وہ تعلق ٹوٹ چکا ہوتاہے،مگر منٹ منٹ پر اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے والے اس معلومات میں کوئی ردوبدل نہیں کرتے۔فیس بک کی حب الوطنی،مذہبی نیک نامی،روشن خیالی کے چراغ بھی روشن دکھائی دتے ہیں،مگر اس میں کتنی حقیقت ہوتی ہے،اس بارے میں کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا۔

فیس بک اور ہمارامعاشرہ ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرنے میں معاون ہے،اس لیے دونوں کی خوب نبھی ہوئی ہے۔اس خرابے میں معدودے چند اچھی چیزیں بھی ہیں، آن لائن کتابیں ،ادبی سرگرمیوں کی خبریں اورفنون لطیفہ سے متعلق کافی کچھ پڑھنے اوردیکھنے کو مل جاتاہے۔خبروں کی ترسیل کا بھی ایک بڑا ذریعہ فیس بک ہے ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فیس بک کے ذریعے وہ لوگ جو آپ سے دور ہیں،یاجن سے آپ کی ملاقات نہیں ہوپاتی،ان کی زندگی میں کیامصروفیات ہیں،فیس بک ان کو بہت اچھے طریقے سے دکھاتاہے۔ایک دوسرے کی زندگی میں جھانکنے کے لیے فیس بک ایک کھڑکی کی مانند ہے،جس میں سے دوسری طرف کا منظر تودکھائی دیتاہے،مگر کبھی کبھی گرم ہوا کے تھپیڑے بھی آپ محسوس کرسکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “فیس بک اور پاکستانی معاشرہ

  • 15-06-2016 at 11:29 pm
    Permalink

    گریٹ : یہ کیا کمال کا عنوان دیا ہے ۔

    ادھورے دانشور

Comments are closed.