ایک پاکستانی کا جواب


1-yasir-pirzadaمیں ایک پاکستانی ہوں ، میرے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہے ، سبز پاسپورٹ ہے ، اس پاسپورٹ پر کسی یورپی ملک کا ویزہ لگوانا ہو تو دو مہینے پہلے فارم پُر کرتا ہوں ، کاغذات کا پلندہ ساتھ نتھی کرتا ہوں ، دس قسم کی ضمانتیں سفارت خانے کو مہیا کرتا ہوں کہ میں اپنے ملک میں واپس آؤں گا اور میرا کوئی ارادہ آپ کی جنت میں گھر بنانے کا نہیں ، اس کے بعد  اگر قسمت اچھی ہو توپاسپورٹ پر ویزے کی مہر لگ کر آتی ہے ۔ اپنے ملک میں حال بھی کچھ مختلف نہیں ، ارد گرد لوگو ں کو دیکھتا ہوں جو دو وقت کی روٹی کی خاطر روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں ، اخبارات میں دل دہلا دینے والی خبریں پڑھتا ہوں  ، ماں نے اپنی بیٹی کو زندہ جلا دیا تو کہیں جرگے نے پسند کی شادی میں مدد کرنے پر لڑکی کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی ، لوگوں کو نظام کے خلاف نفرت سے ابلتے ہوئے دیکھتا ہوں ، منافقانہ رویے برداشت کرتا ہوں ، بے ہنگم ٹریفک میں ڈرائیونگ کرتا ہوں ، جگہ جگہ کوڑے کرکٹ  کے ڈھیر دیکھتا ہوں ، پڑھے لکھے عوام  بھی نظم و ضبط اور ڈسپلن سے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں ، لوگ مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں اور باہر گاڑیاں بے ترتیب انداز میں یوں پارک کرتے ہیں کہ سڑک بند ہو جاتی ہے ، سلام پھیر کر فارغ ہوتے ہیں اور جھوٹ کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں ، وعدے کی پاسداری کا ہمیں کوئی لحاظ نہیں  ،بات بات پر جھوٹ بولنا ہماری عادت بن چکی ہے ، پرائیویسی کا یہاں  کوئی تصور نہیں ، پیشہ وارانہ مہارت ختم ہوتی جا رہی ہے اور ہر شعبہ زوال کا شکار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہے خلاصہ ان شکایات کا جو بطور پاکستانی ہمیں اپنے ملک سے ہیں  اور جن کادرد مندانہ  اظہار تارکین وطن بھی اکثر کرتے رہتے ہیں ۔میرے ایک عزیز دوست نےجو  یورپ میں سیٹل ہیں ، پاکستان پہنچ کر  ایسی ہی  شکایات کیں جنہیں میں نے اپنے گزشتہ کالم میں شائع کیا ، بظاہر اُن کے الفاظ تیکھے تھے مگر اصل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرح انہیں بھی اِس بات کا دکھ  تھا کہ آخر پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی طرح مہذب ملک کیوں نہیں بن سکتا!

        یوں توہم بھی آئے روز اپنے ملک کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے مگر جب کوئی باہر سے آ کر ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم برا مان جاتے ہیں اور جواب میں مغربی ممالک کی بے راہ روی اور مادر پدر آزادی پر تنقید کرکے اپنے ہاں پائی جانے والی  اخلاقی پستی کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں یہ جواز  نہیں دوں گا۔ہم میں وہ تمام برائیاں موجود ہیں جن کا ذکر میرے دوست نے کیا مگر یہ تصویر کا ایک رُخ ہے ، تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ  ہم پاکستانی اس نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کی مسلسل کوشش بھی کر رہے ہیں  ، مثلا ًاگر  پاکستان کے کسی بینک میں آپ کے ساتھ مناسب سلوک نہیں ہوا ، اگر آپ کو چینج پورا نہیں دیا گیا ، اگر بینک کے سٹاف نے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہو  تو پاکستان میں بینکنگ محتسب موجود ہے ، آپ اسے شکایات درج کروا سکتے ہیں اور یہ نظام اس قدر موثر ہے کہ زیادہ تر معاملات میں اگر بینک کو ایک چٹھی لکھ کر یہ عندیہ دیا جائے کہ اگر آپ کی شکایت کا ازالہ نہ کیا گیا تو آپ بینکنگ محتسب سے رجوع کریں گے تو بینک آپ کا مسئلہ فورا حل کر دیتا ہے ۔ پاکستان کا بینکنگ نظام دنیا کے بعض ترقی یافتہ ممالک کے نظام سے بھی  بہتر ہے ،موبائل فون پر بل جمع کروانے سے لے کر سکول فیس جمع کروانے تک اور چپے چپے پر اے ٹی ایم سے لے کر آن لائن بینکنگ تک ، یہ تمام جدید سہولتیں اچھے خاصے بڑے ممالک میں بھی یوں میسر نہیں ، کسی مرد عاقل نے اِس دعوے کی تصدیق کرنی ہوتو  فرانس میں تین ماہ گزارے اور وہاں کسی بینک میں کھاتہ کھول کر ان سے بینکنگ کا تجربہ کرے ، طبیعت روشن ہو جائے گی ۔ اور بات صرف بینکوں تک محدود نہیں ، پاکستان میں اب صارف عدالتیں قائم ہیں ، اگر کسی دکاندار نے آپ کو گھٹیا مال فروخت کیا ہے ، رسید دینے سے انکاری ہے ، گارنٹی قبول نہیں کرتا  یا اور کوئی شکایت ہے تو آپ کی داد رسی کے لئے  صارف عدالت موجود ہے، آپ انہیں شکایت کریں ، یہاں بھی اکثر معاملات میں عدالت جانے سے پہلے ہی دکاندار خود آپ کی شکایت کا ازالہ کر دے گا  بشرطیکہ آپ اسے ایک نوٹس کے ذریعے چودہ دن کا وقت دیں ۔اسی طرح پنجاب میں ہیلتھ کئیر کمیشن قائم ہے  ، اگر آپ کو کسی ڈاکٹر یا ہسپتال سے شکایت ہے تو فوراً کمیشن سے رجوع کریں ، کاروائی ہوگی۔نقطہ یہ ہے کہ پاکستان میں خرابیوں سے کسی کو انکار نہیں مگر اس ملک میں کچھ ادارے قائم ہیں جو ان خرابیوں کو درست کر رہے ہیں مگر ہم انہیں آزمائے بغیر ہی پاکستان کو دس میں صفر نمبر دے کر آگے چل پڑتے ہیں جو مناسب نہیں ۔

        بیرون ملک پاکستانی جب یہاں آتے ہیں تو ہمارے ملک کے حالات دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہاں ایک عدد پلاٹ بھی خرید لیتے ہیں ، پاکستان میں پراپرٹی کی قیمتیں اسی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے  باہر ہیں ، سو اگر ہمارے یہ تارکین وطن بھائی یہاں پلاٹ خریدنا بند کر دیں تو ایک عام آدمی کو اپنا مکان بنانے میں خاصی آسانی ہو جائے گی ۔ایسے ہی پاکستانی نژاد برطانوی شہری نے گزشتہ دنوں  ایک پاکستانی سیاست دان  کو لندن میں روک لیا اور اُس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی ، ساتھ ساتھ موصوف یہ بھی بتا رہے  تھے کہ اُ ن کے پاس برٹش پاسپورٹ ہے ،اس قماش کے لا تعدا دلوگ ملک سے باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر غلیظ گالیاں بکتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے جاتے ہیں کہ اس ملک کا کیا بنے گا ! اور  ہمارے یہ بہن بھائی جب پاکستان میں لینڈ کرتے ہیں تو امیگریشن کاؤنٹر پر ویسے قطار نہیں بناتے جیسے یورپی ہوائی اڈوں پر بناتے ہیں ، پاکستان میں ڈرائیونگ کرتے وقت سیٹ بیلٹ نہیں باندھتے  اوریہاں کسی کاروبار پر ٹیکس دینا  انہیں بھی گوارا نہیں  ، گویا وہی  عادات  جو یہاں بسنے والے پاکستانیوں کی ہیں۔ معاف کیجئے شاید میں بھی تارکین وطن پر تنقید کرکے پاکستانیوں کی اخلاقی پستی کا جواز فراہم کررہا ہوں ،مصیبت یہ ہے کہ اِس  اخلاقی زوال کا رونا تو ہم سب ہی روتے ہیں مگر  زوال کی وجہ پر کوئی توجہ نہیں دیتا کہ جب ملک کے بہترین دماغ ہی ملک سے باہر جا کر سیٹل ہو جائیں گے تو پھر باقی ماندہ لوگوں کی اخلاقی تربیت کون کرے گا !میرا دوست اس لحاظ سے مختلف ہے کہ پاکستان آ کر وہ نہ صرف یہاں کے قوانین کی مکمل پاسدار ی کرتا ہے بلکہ خلوص نیت کے ساتھ اِس ملک کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتا ہے  ، ایسے چند لوگ اگر مل جائیں اور اپنی اپنی حیثیت  اور حلقہ احباب میں اخلاقی تربیت کا بیڑہ اٹھا لیں تو کسی نہ کسی سطح پر بہتری کی لہر ضرور آ سکتی ہے ۔مثلا ً جن سکولوں میں ہمارے بچے پڑھتے ہیں ہمیں انہیں پوچھنا چاہیے  کہ ہزاروں روپے فیس کے عوض  انہوں نے   بچے کی اخلاقی تربیت کے ضمن میں کیا کچھ کیا  ؟

        مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور سبز پاسپورٹ ہے ، اِس ملک کی تمام تر خرابیوں کے باوجود میں اور میرے جیسے کروڑوں لوگ یہیں رہنا چاہتے ہیں ، اس بات کی تکلیف البتہ ضرور ہے کہ   جب میں کسی مغربی ملک کا ویزہ اپلائی کرتا ہوں تو اُس وقت سخت  ذلت محسوس ہوتی ہےجب وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں اپنےملک  واپس چلا  جاؤں گا کیونکہ یہ خیال ہی میرے لئے موت سے کم نہیں کہ میں اپنے ملک لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔

 


Comments

FB Login Required - comments