جدید نظریہ قومیت اورتصورِ آزادی اور اسلام


irfan shahzadہر حال میں ہر قیمت پر بیرونی، غیر قومی غاصب حکومت سے آزادی حاصل کرنا دینی مطالبہ نہیں۔ یہ مطالبہ جدید نظریہ قومیت کی پیداوار ہے۔ اگر یہ دینی مطالبہ ہوتا تو خدا قرآن میں غلامی کے احکامات نازل نہ کرتا، غلاموں کو آقاؤں کے ساتھ وفاداری کا درس نہ دیتا بلکہ غلامی کے خاتمے کا اعلان کر دیتا۔ جب ایسا کچھ نہیں تو آج کے دور میں بیرونی طاقتوں کے غلبے سے ہر حال میں، ہر قیمت پر آزادی کی جدوجہد، خصوصاً عوام کی جنگِ آزادی جب کہ وہ غیر منظم اور کمزور بھی ہوں کو دینی مطالبہ قرار دینا دین کی غلط تفہیم سے پیدا شدہ تصور ہے ۔

معروضی حقیقت یہ ہے کہ عوام کی جنگِ آزادی ہمیشہ ناکام ہوئی ہے، بہت کم البتہ ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ کامیاب ہوئے ہیں لیکن وہ بھی تب جب وہ کسی ایک رہنما پر متفق ہو گئے ہوں۔ عوامی مسلح جدوجہد جان و مال کے بے حساب نقصانات پر ختم ہوتی ہے، لیکن غاصب طاقت اگر رخصت ہوتی بھی ہے تو اپنی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ کمزوروں کی جدوجہد کی وجہ سے۔ عوام کی ان رائیگاں قربانیوں کو بعد میں لکھی جانے والی تاریخ میں تاریخی حقائق مسخ کر کے وجہ آزادی بتا دیا جاتا ہے۔ برطانیہ ہو یا روس، دونوں اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر اپنے مقبوضہ جات سے رخصت ہوئے تھے، امریکہ کو ویت نام سے میڈیا کی طاقت اور امریکی عوام کی مخالفت نے نکالا تھا، فرض کیجئے کہ میڈیا اگر امریکہ کے مظالم کی رپورٹنگ نہ کر پاتا۔ اور امریکی عوام اصل صورتِ حال سے بے خبر رہتے، تو کیا محض ویت نامیوں کی کمزور سی مزاحمت امریکہ کو ویت نام سے بے دخل کر سکتی تھی؟ کسی بھی عوامی تحریک آزادی کا نام لیجئے، یا تو وہ ناکام ہوئی، اور اگر کامیاب ہوئی بھی تو اس تحریک کا مطالعہ صاف بتاتا ہے کہ اس کے حقیقی عوامل غاصب قوت کی داخلی کمزوریاں تھیں نہ کہ عوام کی جدوجہد۔

بادشاہتوں کے دور میں یوں ہوتا تھا کہ ایک بار کسی بادشاہ کی حکمرانی کہیں قائم ہو جاتی تو عوام اس کے تابع فرمان ہو جاتے تھے۔ اس حکمران سے بس یہی توقع اور امید کی جاتی تھی کہ عدل و انصاف سے حکمرانی کرے، عوام کی بہبود کا بھی خیال رکھے۔ بادشاہت کے نظام میں عوام کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ حکمران ہم قوم ہے یا نہیں۔ ان کی حالت کا انحصار بادشاہ کی طبیعت اور اس کے سلوک پر تھا۔ بادشاہ کا طرزِ حکمرانی اگر اچھا ہوتا تو عوام بغاوت میں دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ ان کو قومیت کی بنیاد پر عادل اور طاقتور بادشاہوں کے خلاف بھڑکانا عموماً آسان نہ تھا۔ بغاوتیں ہوتی بھی تھیں تو وجہ زیادہ تر حکمرانی کی خامیاں ہوتی تھیں نہ کہ قومیت۔ بلکہ ایسا بھی ہوا کہ اپنے ظالم ہم قوم حکمرانوں کے خلاف بیرونی طاقتوں کو آواز دی گئی اور ان کے قبضے کے بعد ان کی اطاعت قبول کر لی گئی۔ روم اور ایران کی بادشاہتوں نے صدیوں غیر اقوام پر حکومت کی۔ خود اسلامی خلافت کے دور میں غیر اقوام نے بالعموم ان کی حکومت کو قبول کئے رکھا۔ برصغیر میں عہد سلاطین اور مغلیہ بادشاہان سب غیر قومی بیرونی حکمران تھے جنھوں نے صدیوں یہاں کی اقوام پر حکومت کی۔ مقامی لوگ بالعموم ان سے خوش بلکہ ان کے وفادار رہے۔ بغاوتیں ہوئیں بھی تو اس کی وجہ قومیت نہیں بلکہ دیگر سیاسی عوامل تھے۔

لیکن جدید نظریہ قومیت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ آزادی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں رکھتا۔ حتیٰ کہ غاصب قوت اگر تمام انسانی حقوق دینے کی ضمانت بھی دے تب بھی اس سے آزادی لینا اور آزادی کے لیے لڑنا ضروری خیال کیا جاتا ہے اور اگر ایسے محکوم لوگ مسلمان ہیں تو حسب توفیق اس جدوجہد آزادی کو دینی فریضہ بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور یوں پھر رائیگاں شہادتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جن کی عظمت بیان کر کر کے مزید رائیگاں شہادتوں کے لیے نسلوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے نمایاں مثال افغانستان کے ‘جہاد’ کی دی جا سکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ روس کو اپنی داخلی کمزوریوں، معیشت کی ناکامی کی وجہ اپنے مقبوضہ جات سے رخصت ہونا پڑا تھا نہ کہ محض مجاہدین کی کارروائیوں کی وجہ سے۔ پھر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بار ہتھیار عوام کے ہاتھ میں دینے کا کیا نتیجہ نکلا کہ ہر گروہ حقِ حکمرانی کا دعوے دار بن کر اٹھا اور آپس میں جو لڑائی شروع ہوئی وہ لاکھوں جانیں لے چکنے کے بعد بھی اب تک جاری ہے۔

ایک جائزے کے مطابق صرف 2014 میں اسرائیل فلسطین تنازع میں 2314 فلسطینیوں کے مقابلے میں صرف 39 اسرائیلی مارے گئے تھے، کشمیر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40،000 اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 80،000 کشمیری جاں بحق ہو چکے ہیں، ان کے مقابلے میں بھارتی آرمی کے ہلاک شدگان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ افغانستان میں افغان ہلاکتوں اور اس کے مقابلے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے تناسب کا فرق اس سے بھی زیادہ ہے، یہی حال دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی ہے جہاں مسلمان کسی جارح یا غاصب طاقت سے برسرپیکار ہیں۔

آزادی کی ایسی جنگیں درحققیت عصبیت کی جنگیں ہیں کہ اصولاً اپنے غیر صالح حکمرانوں کی محکومی تو قبول ہے، لیکن غیر قوم کی صالح حکمرانی بھی قبول نہیں۔ یہ نظریہ کہ کسی قوم پر صرف اس کے ہم قوم ہی حق حکمرانی رکھتے ہیں دور جدید کے نظریہ قومیت سے پیدا ہوا ہے۔ اس معاملے میں تو اس حد تک حساسیت پائی جاتی ہے کہ دہری شہریت کا حامل اپنا ہم قوم بھی بطور حکمران قابل قبول نہیں۔

دینی نقطہ نظر سے دیکھئے تو غاصب کے خلاف وہی ریاست جنگ کر سکتی ہے جس کی زمین پر قبضہ ہوا۔ لیکن اگر ریاست کا نظم اجتماعی یعنی حکومت ہی منتشر ہو گئی ہو تو جب تک کوئی متفقہ نظم اجتماعی قائم نہیں ہو جاتا، جب تک کسی ایک لیڈر یا ایک جماعت پر عوام کی اکثریت اکھٹا نہیں ہو جاتی، اور اس حد تک قوت اکھٹی نہیں ہو جاتی ہے کہ فتح کا غالب امکان موجود ہو، تب تک غاصب کے خلاف لڑنے کا حکم نہیں ہے۔ ان تمام باتوں کا ماخذ قرآن کے واضح احکامات اور ہدایات ہیں، جو یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ سورہ الشوری آیت 42 میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے واحد طرزِ حکمرانی مشاورت ہے:

“اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں”

مشورے میں ظاہر ہے کہ اختلاف رائے کی صورت میں فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے غاصب کے خلاف جدوجہد کے لیے اکثریت کا کسی متفقہ لیڈر یا جماعت کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ جہاں تک دشمن کے مقابلے میں طاقت کے تناسب کا معاملہ ہے تو سورہ الانفال کی آیت 65 اور 66 دیکھیے:

“اے نبی مومنین کو جہاد پر ابھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمہارے سو ہوں گے تو ہزار کافروں پر بھاری ہوں گے یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ بصیرت سے محروم ہیں۔ اب اللہ نے تمہاری ذمہ داری ہلکی کر دی اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ سو تمہارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری ہوں گے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔”

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے صحابہ کو اپنے سے دس گنا بڑے لشکر سے لڑنے کا حکم تھا لیکن بعد میں جب اور لوگ بھی مسلمان ہوئے تو معیارِ ایمان اور تقویٰ پہلے جیسا نہ رہا، نیز نظم و ضبط میں بھی فرق پڑ گیا، تو اللہ نے اس حکم میں نرمی پیدا کر دی۔ چنانچہ اب صرف اپنے سے دوگنا بڑے دشمن سے مقابلہ کرنا ضروری قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دشمن کی تعداد اگر دو گنا سے زیادہ ہو تو جنگ کرنا ضروری نہیں تھا۔

جب صحابہ کو ان کے سند یافتہ ایمان کے باوجود اپنے سے دگنے سے زیادہ دشمن سے لڑنے کا حکم نہ تھا، تو کس اصول کے تحت آج کے مسلمانوں کو اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن سے لڑنے کو کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ ایمان اور تقویٰ کا وہ معیار ممکن نہیں، اور ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے فرق نے جنگ کا منظر نامہ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ دشمن اب گھر بیٹھے میزائل داغ کر پورا شہر تباہ کر دیتا ہے اورمسلمان بندوقیں اٹھائے اسے چیلنج ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔

غاصب حکومت اگر عدل و انصاف اور اچھی طرزِ حکمرانی (good governance) کا مظاہرہ کر رہی ہو، انسانی حقوق دے رہی ہو تو کسی احتجاج کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم، آزادی کے لیے مذاکرات کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔ البتہ غیر عادل غاصب سے صرف پر امن مذاکرات اور پر امن احتجاج ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا کے مترادف ہوگا، جو کہ افضل جہاد ہے۔ عوام کے لیے شریعت نے بس یہی جہاد تجویز کیا ہے۔ اسلام میں مسلح جہاد، ریاست اور حکومت کے بغیر متصور نہیں۔

غاصب اگر ظالم ہو اور مظلوم عوام کو بہتری کی کوئی امید نظر نہ آ رہی ہو تو انہیں ہتھیار اٹھالینے کی بجائے ہجرت کرنے کا حکم ہے۔ اور اگر ہجرت کرنے سے بھی قاصر ہوں نہ تو صبر کے ساتھ کسی بیرونی طاقت کے انتظار کرنے کا حکم ہے جو ان کو اس ظلم و ستم سے نجات دلائے۔ دورِ نبوت میں مکہ میں رسول اللہﷺ کے زیرِ قیادت ایک قابلِ لحاظ جماعت تیار ہو گئی تھی، لیکن مکہ والوں کے سنگین مظالم کے باوجود مسلمانوں کی جماعت کو ہتھیار اٹھانے کی بجائے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا۔ ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ ہجرت ان پر لازمی قرار دی گئی، اور ہجرت نہ کرنا گناہ قرار پایا۔ ملاحظہ کیجیے ررج ذیل آیت:

“جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے (ہجرت فرض ہونے کے باوجود ہجرت نہیں کر رہے تھے) اُن کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے ۔”( سورہ النساء آیت 97)

دوسرا یہ کہ اگر ہجرت نہیں کر سکتے تو صبر کے ساتھ کسی بیرونی طاقت کا انتظار کریں جو انہیں اس ظلم سے نجات دلائے۔ دور رسالت میں یہ بیرونی طاقت ریاستِ مدینہ تھی۔ چنانچہ ریاستِ مدینہ کا یہ فرض قرار دیا گیا کہ اپنے مجبور مسلمان بھائیوں کی مدد کو آئے۔ ارشاد ہوتا ہے:

“آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔”( سورہ النساء، آیت 75)

مسلح جہاد ریاستی نگرانی میں منظم انداز میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد کو تب تک موخر کیا گیا جب تک ریاست مدینہ قائم نہیں ہوگئی۔

ریاست کے تحت منظم مسلح جہاد کے احکامات کو محکوم مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی پر لاگو کرنا سوئے فہم ہے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ ریاستِ مدینہ میں جہاد فرض ہو جانے کے باوجود بھی مکہ میں رہ جانے والے مسلمانوں پر جہاد کی بجائے ہجرت ہی فرض رہی، حتیٰ کہ حضرت ابو بصیرؓ نے مکہ کے مظالم سے تنگ آکر جب نجی طور پر قریش کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کر دیں تو ریاستِ مدینہ نے ان کی حمایت نہیں کی۔ غور فرمائیے کہ جہاد، ریاستِ مدینہ حاصل ہونے کے بعد کیا گیا، نہ کہ ریاست کے حصول کے لیے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نظریہ قومیت کے مطابق ہر حال میں ہر قیمت پر بیرونی غاصب حکومت سے آزادی حاصل کرنا دینی مطالبہ نہیں۔ یہ تصور کہ حق حکمرانی صرف اپنے ہم قوم کو ہی حاصل ہوتا ہے جدید نظریہ قومیت کی پیداوار ہے۔ عوام کا جدوجہد آزادی کے لیے پرامن مذاکرات اور احتجاج تو درست ہے لیکن ان کا ہتھار اٹھا لینا دینی نقطہ نظر سے درست نہیں اور نہ ہی عملاً اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلتا ہے۔ آزادی ایک بہتر انتخاب ہو سکتا ہے اگر قومی صالح قیادت میسر ہو اور غاصب ظالم بھی ہو۔ لیکن ہر حال میں ضروری ہے کہ حکومت یا ریاست پرامن طریقے سے حاصل کی جائے۔ سوائے کہ غاصب حکومت نسل کشی پر اتر آئے۔ اس صورت میں ذاتی دفاع کے طور پر ہتھیار اٹھانے سے اسلام منع نہیں کرتا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “جدید نظریہ قومیت اورتصورِ آزادی اور اسلام

  • 05-07-2016 at 6:08 am
    Permalink

    THX that’s a great answre!

Comments are closed.