رمضان ٹرانسمیشن، منجن اورچورن


نوید ناظم جتوئی

naveed nazim jatoiجو لوگ ٹی وی یا صحافت سے کسی طور پر وابستہ ہیں وہ اچھی طرح “منجن “یا “چورن” کے لفظ سے واقف ہوں گے، اس لفظ نے پاکستانی میڈیا میں کافی “گل “کھلائے ہیں۔

پاکستان میں کیوںکہ بغیر کسی تربیت کے بہت سے لوگ اتفاقی طور پر میڈیا میں آئے تو میڈیا کا حال وہ ہوا جو ہم سب کے سامنے ہے۔ خبر میں چھپی دو نمبری، ہر اینکر خود ساختہ تجزیہ کار، ہر صحافی کے اپنے خفیہ ذرائع، ہیجان انگیزی، بے حسی اور سنسنی پھیلانا یہ چند ایسے کارنامے ہیں جس کی دنیا میں اب تک کوئی میڈیا ہمت کرسکا نہ اتنی جسارت، یہ کارنامہ “سب سے پہلے” آپ تک پاکستانی میڈیا نے پہنچایا۔

ہمارے ملک کے غریب اور مظلوم عوام کے لئے تو ٹاک شوز بھی کسی تفریح سے کم نہیں، ٹاک شوز میں ہونے والی گالم گلوچ، مارکٹائی، پانی پھینکنا، تشدد کی دھمکی دینا، یہ سب عوام کو اتنی آسانی سے کہیں اور نہیں ملتا، یہ ٹاک شوز ہی ہیں جو بائی پاس آپریشن سے لے کر عسکری آپریشن تک، بجٹ سے بچت تک، کرکٹ سے لے کر گرگٹ تک، مولانا کے انٹرویو سے قندیل بلوچ تک چالیس منٹ کے پروگرام میں نہ صرف مختلف موضوعات زیر بحث لاتے ہیں بلکہ دنیا اور آخرت کے تمام مسائل کا حل دے کر پروگرام ختم کرتے ہیں۔ ان ٹاک شوز میں سب آپ کو مل جائے گا۔ پروگرام کے بعد آخر میں سوال یہی ہوتا ہے ۔۔۔ آج کا منجن صحیح رہا؟

ٹاک شوز کے کامیاب چورن کے بعد ایک اور “منجن” کا دور شروع ہوا، وہ تھا مارننگ شوز کا “منجن”۔ جہاں پیٹ کی چربی کم کرنے، مرغن کھانے پکانے، چہرے کو گورا کرنے، پارلر میں سجنے سنوارنے سے لے کر سادگی کی افادیت تک سب کچھ ملتا ہے۔ شادی اور شادی کی تمام رسومات کی تو اتنی مٹی پلید کی گئی کے انسان بے چارہ سوچتا ہی رہے کہ وہ آخر کرئے تو کیا کرئے، جائے تو کہاں جائے؟۔۔ لیکن آپ تمام حضرات بخوبی واقف ہیں کہ وہ بھی چورن تھا، شکر ہے اب اس چورن کے خریدار تھوڑے کم ضرور ہوگئے ہیں، لیکن ختم نہیں ہوئے۔

ان کے علاوہ میڈیا پر موسمی منجن کی بڑی ڈیمانڈ ہوتی ہے، جیسا کہ آج کل رمضان دکان ٹرانسمیشن کی۔ جہاں ہر صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے، بھائی یہ دے دیں ۔۔بھائی وہ دے دیں، بھائی بائیک دے دیں۔۔ بھائی سونا دے دیں۔ ان شوز میں آنے کے لئے آپ کو اپنی عزت نفس گھر رکھ کر آنی لازم ہوتی ہے ورنہ چھینا چھپٹی میں، عجیب سے جنگلیوں والے انداز میں کھانے پینے میں آپ پیچھے رہ جائیں گے۔

اس رمضان ٹرانسمشن کے اتنے دیالو چینلز پر کام کرنے والے بیچارے ملازمیں کی اگر صورتحال دیکھیں تو رونا آجائے، اکثر چینلز اپنے ملازمیں کو صحیح سے چائے پانی نہیں پوچھتے، چائے دیں تو چینی اپنی لانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وقت پر تنخواہیں تو میڈیا انڈسٹری میں ایک بہت بڑی لگژری ہے جو کسی کسی کو ہی نصیب ہے، ہاں رمضان ٹرانسمیشن کرنے کے لئے بڑے ناموں والے اینکرز کے لئے لاکھوں روپے حاضر ہو جائیں گے۔ اس سے ایک بات پھر ثابت ہوئی کہ یہ کام ثواب کی نیت سے نہیں چورن بیچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔

بس ہم سب بھی اس چورن کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ اب ہمیں کوئی اور چورن نہ دے تو ہم خود کسی اور کو چورن دینا شروع کر دیتے ہیں۔ تو بھائی آپ بھی چورن کھائیں اور ہمیں بھی چورن بیچنے دیں۔

____________________________

لکھاری اسی منجن بیچنے والے کار خیر کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments