ایوانِ زیریں، عورتیں اور جڑی بوٹیاں


naseer nasirپارلیمان میں بحث جاری ہے

کہ عورتوں کو مارنے کا

جائز طریقہ کیا ہے

انہیں ہلکے پھلکے تشدد سے مارا جائے

یا تیزاب پھینک کر

چہرے مسخ کیے جائیں

یا تیل چھڑک کر آگ لگائی جائے

زہر دیا جائے

یا چوہے مار گولیوں سے کام چلایا جائے

یا پنکھوں سے لٹک کر

خود کشی پر مجبور کیا جائے

جنابِ اسپیکر!

دوپٹے کا اس سے اچھا استعمال اور کیا ہو سکتا ہے

خاص طور پر نچلے طبقہ کی عورتوں کے لیے

یہ طریقہ مناسب رہے گا

اس پر انہیں ٹیکس کی چھوٹ دی جا سکتی ہے

کلہاڑی کے وار بھی کارگر ہو سکتے ہیں

اور ٹوکے سے ہاتھ پاؤں بھی کاٹے جا سکتے ہیں

ناک، کان, زبان اور چٹیا کاٹنا تو روزمرہ کی بات ہے

گھریلو چھریوں سے کام چل سکتا ہے

جبکہ بیگمات و خواتینِ فلک کے لیے

خواب آور دوائیں آسان حل ہے

جنابِ والا!

ان کے حاملہ پیٹوں پر

گھونسے اور لاتیں مارنا  ہرگز قابلِ مذمت فعل نہیں

ان کے خلاف اپریشن “ضربِ خفیف” جاری رکھا جائے

اور ضرورت پڑنے پر

“ضربِ شدید” اور “ضربِ لازب” میں بدل دیا جائے

تا کہ آنے والی روحیں

نیل کے ان مٹ دھبوں سے گودی ہوئی ہوں

اس طرح ان کی زمانی شناخت میں

اگلی حکومتوں کو دقت نہیں ہو گی

حق بخشوا کر،

وٹا سٹا، متعہ، کم سنی کی شادیاں

اور ونی کر کے بھی

انہیں جیتے جی مارا جا سکتا ہے

اور کاری قرار دے کر قتل کرنا تو عین غیرت مندی ہے،

ثوابِ دارین ہے

جنابِ عالی! یہ سب چھوٹے چھوٹے حربے ہیں

جن پر یہ خواہ مخواہ واویلا مچاتی رہتی ہیں

حکومت ان کے ٹسووں میں نہ آئے

اور بہادر ضارب کے لیے

خصوصی مراعات اور “نشانِ ضرب” کا اعلان فرمائے

والا نگاہ و عالی مرتبت ممبران!

غور فرمائیں

اس کج مخلوق کے

زیرِ ناف حصوں کو

گرم سلاخوں سے داغا جائے

یا سینے کے ابھاروں کو کاٹ کر پھینک دیا جائے

کپڑے اتار کر

اسے گلیوں میں گھسیٹا جائے

یا تھانوں کچہریوں، کٹہروں میں لایا جائے

آبروریزی کے بعد

سنگسار کیا جائے

یا کوڑے برسائے جائیں

پیدا ہونے پر

زندہ زمین میں گاڑ دیا جائے

یا پیدائش سے پہلے

زیرِ زمین گٹروں میں بہا کر

اس کے لا وجود لوتھڑوں سے چھٹکارا پا لیا جائے

محبت کی پاداش میں

دیواروں میں چن دیا جائے

یا حالتِ بیوگی میں

چتا کی لکڑیوں سے باندھ کر

اس کی بے آواز چیخوں کو خاکستر کر دیا جائے

عالی جاہ!

یہ ایوان عورتوں پر ظلم کے حق میں نہیں

کیوں نہ انہیں محبت کی مار ماری جائے

اور گھر جنت میں

باندیاں بنا کر رکھا جائے

یا سات پردوں میں چھپی حوریں

آخر چادر اور چاردیواری کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے

امید ہے کہ اس انتہائی اہم معاملے پر

ایوانِ بالا میں بھی

حزبِ اختلاف و اقتدار کا اتحاد قائم رہے گا

کیونکہ ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

یہ جڑی بوٹیوں کی طرح اُگ رہی ہیں

انہیں تلف نہ کیا گیا

تو اس پاک صاف سرزمین پر

صالح مردوں کی فصل ختم ہو جائے گی

مادرِ گیتی پر استری راج ہو گا

معمول کے دنوں میں

پاک باز ریش برداروں کے لیے سانس لینا مشکل ہو جائے گا

تاریخ بخیر

جب پھانسی گھاٹ کم پڑ گئے تو

مغل شہزادے حائضہ شہزادیوں کے قریب سے گزار کر

اُن کی بدبو سے ہلاک کیے گئے تھے

ذی وقار ممبران سے درخواست ہے

کہ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور ازواجِ منکوحہ و غیر منکوحہ سمیت

عورتوں کو مارنا ہر مرد کے لیے لازم قرار دیا جائے

اور اس کے لیے جنابِ اسپیکر!

یہ ایوان مردوں کے صوابدیدی اختیارات بڑھانے کی

پُر زور سفارش کرتا ہے

تالیاں ! تالیاں!!

اجلاس ابھی جاری ہے ۔۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments