کس ڈھنگ سے اچھوں کو برا کہتے ہیں


naseerتیرے محبوب کو کسی اور محبوب پر کیا فضیلت حاصل ہے، اے عورتوں میں سب سے جمیلہ؟

اس کا سر سونے کا ہے اور اس کی پیچ در پیچ زلفیں کوے سی کالی ہیں اور اس کی باہیں سونے کے دستے ہیں جن میں ہیرے جڑے ہوں۔ اور اس کا جسم ہاتھی دانت کا بنا ہے جس پر جواہرات سجے ہیں۔ یروشلم کی بیٹیو، میرا محبوب بہت پیارا اور شیریں ہے۔

غزل الغزلات، عہد نامہ قدیم

رنگ و نسل کی طرح مذہبی فضیلتیں بھی بڑائی اور برتری کے احساسات پر مشتمل ہیں جن کا اظہار اکثر ناروائی اور نا زیبائی کی شکل میں کیا جاتا ہے لیکن ان فضیلتوں کے حق میں دلائل اور ثبوت نا پختہ اور خام ہوتے ہیں۔ نا پختگی اور خامی کیا، سرے سے دلائل اور ثبوت ہی نہیں ہوتے۔ غزل الغزلات کی چرواہی کی طرح تمناوں اور امیدوں پر مبنی دعوے ہوتے ہیں جن کا حقائق سے تعلق نہیں ہوتا۔ استعارہ و کنایہ کی اک دنیا جس کے شعر وسخن میں بہت امکانات ہوتے ہیں لیکن عقل و دانش ان امکانات پر خندہ زن ہی رہتے ہیں۔ اب سونے سے بنے سر اور ہاتھی دانت سے  بنے جسم تجربہ گاہ میں لے جائیں، ایک سوئی چبھی، تو بلبلا اٹھیں گے یا پھر زندگی سے خالی مجسمے جن کی فضیلتیں فنکارانہ صلاحیتوں سے متعلق تو ہو سکتی ہیں لیکن سانسوں کی مالا ان فضیلتوں کی تردید کر دیتی ہے۔جس طرح یہ محبوب میوزیم کی چیز ہے، اسی طرح عقیدے کی بنیاد پر انسانی برتری ایک بیتے ہوئے زمانے کا افسانہ ہے۔

لیکن برتری کے اسی بیتے ہوئے افسانے پر پاکستان میں قانون سازی کی گئی ہے۔ دنیا کے اور بہت ملکوں میں بھی یہ افسانوی قانون سازی موجود ہے اور کاروباریوں نے جب سے خرد دشمنی اور سطحی جذبات کو فروغ دیا ہے، تب سے جمہوری جنتوں میں بھی یہ افسانوی قانون سازی لوٹ آئی ہے۔  لیکن افسانہ تو افسانہ ہی ہوتا ہے اور افسانوی قانون سازی انسانی عقل اور انسانی عقل کی کامیا بیوں کی تردید ہی کرتی ہے۔

پاکستان کے آئین میں یہ افسانوی قانون سازی جگہ جگہ موجود ہے۔ کہیں غیر مسلم اعلی حکومتی عہدوں کے اہل نہیں ہیں، کہیں آئین کفر و اسلام کا فیصلہ کرتا ہے، کہیں مسلمانوں کے لیے خصوصی انتظامات کے احکامات ہیں۔ کہیں قوانین کو اسلامی قوانین کے مطابق بنانے پر اصرار ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے آئینی ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں لیکن جب یہ پوچھیں کہ تیرے محبوب کو کسی دوسرے محبوب پر کیا فوقیت حاصل ہے تو زمینی حقائق سے دور روحانی شاعری میں پناہ لی جاتی ہے۔

مسلمان فاتحین اور مسلمان ولیوں کے قصے تو مسلمانوں کی برتری کا ثبوت تو نہیں ہیں؟ ایسے فاتحین اور ایسے ولی تو تمام دوسرے مذاہب میں موجود ہیں؟

خاص امت ہونے کا دعوی بھی دوسرے مذاہب میں موجود ہے اور اس طرح کے دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی معیار قائم ہی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دنیا بھر کے زندہ اور مرے ہوئے لوگوں سے گفت شنید ہو ہی نہیں سکتی کہ ان کی مدد سے معیار متعین کیا جا سکے۔

اگر آپ کے پاس اگر مسلمانوں کی دوسرے انسانوں سے برتری کا کوئی ثبوت ہے تو ہمیں بتائیں۔ مسلمان بھی دوسرے انسانوں کی مانند ہیں، نہ کوئی کہتری اور نہ کوئی برتری، اس لیے مسلمانوں کی برتری کے لیے قانون سازی کا کوئی جواز موجود نہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف امتیازی قانون سازی کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔

لیکن اس طرح کی فضیلتوں کا احساس اور ان پر مبنی قانون سازی امتیازات کی پرورش کرتی ہے۔کہیں لوگ جلائے جاتے ہیں، کہیں مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیے جاتے ہیں، کہیں مسجدیں گرائی جاتی ہیں، کہیں مندر توڑے جاتے ہیں اور کہیں بڑے پیمانے پر نسل کشی کی جاتی ہے۔ اگر تشدد کرنے  کی صلاحیت ہی فضیلت ہے تو تشدد کے خلاف دلائل اپنی تابندگی کھو بیٹھتے ہیں۔

اسی لیے سیانوں نے مذہب کو ریاستی امور سے جدا کر دیا تھا، پتا نہیں آپ کو کیوں یہ سادہ سی بات نہیں سمجھ آتی ہے یا سمجھ آتی ہے لیکن پارسائی کی سرخوشی میں ہیں اور غور و فکر کی صلاحیتیں کھو بیٹھے ہیں اور انسانی ہمدردی سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔

 جانے کیا بات ہے؟


Comments

FB Login Required - comments