رمضان ٹرانسمیشن یا تنازعات کی دکانداری؟


kashif naseerکہتے ہیں کہ جواب اہم نہیں ہوتے، سوالات انہیں اہم بناتے ہیں ۔ کونسا سوال کس طرح ، کس وقت پر اور کن حالات میں پوچھا جائے اہل علم اسےایک باقاعدہ سائنس قرار دیتے ہیں۔ یوں کسی بھی صحت مند مکالمے کے لئے میزبان کا موضوع پر دسترس رکھنا اور سوالات پوچھنے کی سائنس سے مکمل واقف ہونا ناگزیر ہے۔ ایک لائق میزبان جہاں نامعقول سوالات کے ذریعے مہمان اور ناظرین کا وقت ضائع نہیں کرتا وہیں بحث کو بھی تعمیری سمت پر گامزن رکھتا ہے۔ گو یہ درست ہے کہ سوالات سوچ کے نئے دریچے کھولتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ سوال فتنے اور فساد کے دروازے بن جاتے ہیں، ایک لائق میزبان اس پہلو کو بھی ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے یہاں ضیا محی الدین، طارق عزیز، حمایت علی شاعر، قریش پوری، مستنصر حسین تاڑر، انور مقصود، نعیم بخاری اور معین اختر ایسے میزبان ہوا کرتے تھے، آج کل بدقسمتی سے یہ شعبہ عامر لیاقت، جنید جمشید، وسیم بادامی، فہد مصطفی، حمزہ علی عباسی، مایا خان، شائستہ واحدی اور ساحر لودھی کے حوالے ہے۔

گزشتہ روز کسی ٹی وی پروگرام میں اداکار حمزہ علی عباسی نے کچھ ایسے متنازع سوالات چھیڑے جن کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر ایک فتنہ کھڑا ہوگیا ہے۔ میری ذاتی رائے میں تو موصوف کو کسی مذہبی پروگرام کی میزبانی کرنی ہی نہیں چاہئے تھی لیکن اگر پھر بھی انہیں یہ شوق چڑھ ہی گیا تھا توقاعدے کے مطابق اپنی ریسرچ ٹیم پر انحصار کرنا چاہئے تھا۔ کچھ لوگ متعرض ہیں کہ بس سوال ہی تو کیا تھا، انہیں اندازہ نہیں کہ سوال کس قدر نازک، بے موقع اور غیرضروری تھا۔ پھر سوال، سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے جبکہ موصوف کا انداز سوالیہ نہ تھا بلکہ وہ اپنی پہلے سے قائم شدہ رائے کی تصدیق یا تردید کا تقاضہ کر رہے تھے۔ سونے پر سہاگہ دونوں مولوی حضرات بھی تھے، جنہیں نا جانے کہاں سے ڈھونڈ کر لایا گیا تھا۔ جو جواب ایک عام سا تعلیم یافتہ نوجوان بھی باآسانی دے سکتا تھا، وہ ان سے بن کر نہ دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سحر و افطار ٹرانسمیشن کی خرافات نے جہاں سنجیدہ علمائے دین کو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے وہیں شہرت اور چانس کے بھوکے کٹ ملاؤں کی لاٹری نکل آئی ہے۔

سوال تھا کہ ریاست کیسے کسی شخص یا جماعت کو کافر قرار دے سکتی ہے۔ میرا سائل سے جوابی سوال ہے کہ کونسی ریاست، سیکولر یا مذہبی؟ یقینا ایک سیکولر ریاست فلسفیانہ اور قانونی دونوں حوالوں سے اپنے شہریوں کے عقائد پر حکم لگانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ لیکن کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست ہے؟ 1973 کے متفقہ دستور میں ہم اپنے اس فیصلے کا حتمی اعادہ کر چکے ہیں کہ پاکستان قرآن و سنت کی بالادستی پر یقین رکھنے والی ایک خالص مذہبی جمہوریہ ہوگی۔ بطور مذہبی ریاست اسلامی جمہوریہ کی قانونی ضرورت، ذمہ داری اور مجبوری ہے کہ “مسلم ” اور “غیر مسلم” کی تعریف واضح کرے ۔ قانونی ضرورت یوں ہے کہ اسلامی ریاست مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیت کے لئے کچھ حقوق و فرائض رکھتی اور بیان کرتی ہے، تعریف طے نہ ہو نے کی صورت میں ان کی ادائیگی کیسے ممکن ہو گی۔ زکوۃ کس سے لی جائے گی ؟ اس سے آگے نکاح و طلاق، رضاعت و ولدیت ، تجہیز و تدفین اور جائیداد و وراثت ایسے معاملات میں پیدا ہونے والے تنازعات میں مسلم قوانین کس پر لاگو ہوں گے اور کون اس سے بر ی الذمہ ہو گا۔ اسی طرح قرآن کریم نے حدود اور فقہ نے تعزیر کے قوانین مقرر کر رکھے ہیں، ان قوانین کو کس پر نافذ کیا جائے گا اور کسے اس سے استشنا ہو گا۔ ذمہ داری یوں ہے کہ اسلامی جمہوریہ اس بات پر مامور ہے کہ حق کی اشاعت اور باطل کی سرکوبی کرے۔  اُولیِ الامر پر لازم ہے کہ وہ فتنے کے سرکوبی کرے، اچھائی کا حکم اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکے۔ مجبوری یہ ہے کہ قانون سازی کے عمل میں شریعت کا ماخذ طے اور واضح ہونا ناگزیر ہے۔

میرے مطابق تو یہ سوال ہی سراسر مغالطے اور غلط فہمی کا شکار تھا۔ جواب سے پہلے ہی سائل نے یہ فیصلہ سنا دیا گیا کہ اسلام اور کفر کا فیصلہ کرنا علمائے دین کی ذمہ داری ہے۔ حالانکہ علمائے دین کسی بھی اسلامی نظام حکومت میں فیصلے کا حق نہیں رکھتے، وہ صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ حکم، امر یا اختیار صرف  اُولیِ الامر کے لئے مخصوص ہے۔ جواب سے قطع نظر اصل مسئلہ اس حل شدہ نازک مسئلے پر رمضان ٹرانسمیشن ایسے غیرسنجید ہ شوز میں سوال چھیڑنا ہے۔ فرض کریں کہ جواب میں کوئی مولوی بھی سائل کی طرح بے باک ہوجاتا ہے اور قادیانی تصورات کے باب میں زندیق اور مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیتا تو اسکا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ یقینا علمی و فکری مباحثے اچھی بات ہیں بشرطیکہ علمی لوگ ہی مخصوص ماحول اسے برپا کریں ۔ مختصر یہ کہ اس تنازع نے سحر و افطار ٹرانسمیشن کے نام پر چلنے والی طوفان بدتمیزی کے ایک اور مضر پہلو کو بھی واضع کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پیمرا رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس دکانداری کے خلاف حتمی ایکشن لے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “رمضان ٹرانسمیشن یا تنازعات کی دکانداری؟

  • 15-06-2016 at 8:54 pm
    Permalink

    Well Done Kashif

Comments are closed.