محترمہ حفصہ نور کے جواب میں


rabia Fatimaگزشتہ دنوں ایک کالم نظر سے گذرا جس میں محترمہ حفصہ نور صاحبہ نے پاکستانی معاشرے پر ”ملا کے جبر و استبداد“ کو آشکار کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کے جملہ مسائل کا حل صرف یہ ہے کہ ملّا کو اس کے اسلام سمیت دیس نکالا دے دیا جائے تو یہ ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گا، کیونکہ یہاں انسانیت کی فلاح اور قیامِ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ملّا اور ان کا اسلام ہے۔

موصوفہ نے اسلام کی یورپی طرز پہ نشاة ثانیہ پر زور دیا ہے تو عرض ہے کہ نشاة ثانیہ سے پہلے یورپ کی جہالت اور گمراہی کا احوال اظہر من الشمس ہے، لیکن ظہوراسلام سے لے کر اسلامی سلطنتو ں میں حقیقی اسلام کی موجودگی تک کا دور مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں سائنس کے آسمان پر بو علی سینا، الزہراوی، الخوارزمی، ابن فرناس، جابر بن حیان اور ان جیسے لا تعداد ستارے سورج کی سی آب و تاب سے چمک رہے تھے، اور فقہ میں امام ابو حنیفہ ؒ، امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ جیسے نابغوں نے نام پیدا کیا۔ ایسے مذہب کو نشاة ثانیہ کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے جس کے اثرات سے ایک ایسی جاہل، وحشی قوم کہ جس میں ماں بہن کی تمیز روا نہیں رکھی جاتی تھی، بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا تھااور غلاموں کی حالت جانوروں سے بدتر تھی، اس معاشرے کو اس طرح بدل دیا کہ بلال حبشی ؓ اسلامی تاریخ کا ایک ان مٹ اور لازوال کردار بن کر ابھرے اور نبی پاک ﷺ کی آل پاک کا سلسلہ آپ کی بیٹی حضرت بی بی فاطمہ ؓ سے چلا، ہے کہیں دنیا میں ایسی مثال؟

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات میں عورت پر ”ہلکے تشدد“ کے لفظ کے استعمال پر بغیر تحقیق کے ہنگامہ آرائی کرنا سراسر نا انصافی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ”واضربوھن“ کا لفظ کسی ملّا کی اختراع نہیں بلکہ قرآنی آیت کا حصہ ہے جس کا حوالہ متن یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ میں اللہ پاک نے عورت کو شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے مال و دولت اور عزت و ناموس کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری سے آگاہ کیا ہے، اور اس سے انحراف کی صورت میں تین حل بیان کئے گئے ہیں کہ پہلے شوہر سمجھائے، پھر بستر الگ کر دے اور پھر بھی نہ مانے تو اسے مارے، اور مارنے کی حد حدیث شریف کے مطابق مسواک جیسی ہلکی چیز سے علامتی طور پر سزا دینا ہے تاکہ اس کی عزت نفس مجروح ہو اور وہ اپنی اصلاح احوال کرے ۔ اب آپ ہی مجھے بتائیں کہ اس سب میں کہاں عورت کو انسانیت کے درجے سے گرانے کی کوشش کی گئی ہے؟ محترمہ اگر آپ میاں بیوی کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جس قدر عورت سے حسنِ سلوک، محبت، پیار اور عزت دینے کی ترغیب اسلام مردوں کو دیتا ہے اس کی دنیا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔

جہاں تک عورت کو تیزاب سے جلانے اور غیرت کے نام پر قتل کو خدا کا فرض قرار دینے کا تعلق ہے تو اسلام میں ایسی کسی جہالت کا کوئی تصور نہیں۔ ان کا اسلام کی تعلیمات کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق جوڑنا کھلی بددیانتی یا جہالت کے سوا اور کچھ نہیں ۔

فاضل کالم نگار نے ایک بہت ہی عجیب فلسفہ بیان کیا ہے کہ مرد اور عورت کو بھیڑ بکریوں کی طرح جدا کرنے سے صرف شہوت کے جنون کے ساتھ ذہنی بیمار ہی تخلیق کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات انہوں نے شاید بیان کرنا مناسب نہیں سمجھی کہ مر د اور عو رت کے کتوں کی طرح کھلم کھلا اختلاط سے پیدا ہونے والے ’فرشتے ‘لادین ریاستوں میں بکثرت پائے جاتے ہیں جہاں اساتذہ کے طالبعلموں کے ساتھ جنسی تعلقات کی کہانیاں آئے روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔

موصوفہ نے ایک اور بڑی’ قابلِ تقلید ‘مثال پیش کی ہے کہ مغرب نے عورت کی عزت و تکریم کے لئے’ میریٹل ریپ ‘کا قانون پاس کیا ہے ۔ توعرض یہ ہے کہ قرآن و سنت میں جہاں بیوی پر شوہر کی اطاعت فرض ہے وہیں بیوی کی بیماری یا ذہنی آمادگی نہ ہونے کی صورت میں اس کے جذبات کا احترام کرنا بھی شوہر پر اتنا ہی فرض ہے ۔ اب اگر ہمارے معاشرے میں یہ نہیں ہوتا تو اس کی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے نہ کہ ملّا اور اسلام!

ایک اور اہم ترین نقطہ جو اکثر ’روشن خیال‘ لوگوں کو چبھنے والا نشتر ہے کہ عصمت دری کے واقعے پر چار گواہ درکار ہیں ۔ اگر ہم اسلامی قوانین کا مطالعہ کریں تو حقائق اس ضمن میں پھیلائے گئے پروپیگنڈے کے بالکل بر عکس ہیں۔ اسلامی احکامات کے مطابق اگر کوئی بھی شخص اٹھ کر کسی پر زنا کا الزام لگائے یا شوہر بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو صرف ان صورتوں میں اسے ثابت کرنے کے لئے چار عاقل، بالغ، نیک مرد درکار ہوتے ہیں جو کہ ظاہر ہے ایک مشکل ترین شرط ہے۔ اس کا مقصد محض انسانوں کا تحفظ ہے کہ اس طرح کی غلطی اگر کسی سے سرزد ہو جائے تو اسے ثابت کرنا ایک مشکل امر بنا دیا گیا اور اس طرح سے کسی بھی پاکباز مرد یا عورت پر الزام تراشی کو ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ زنا بالجبر کی صورت میں اگر عورت یا لڑکی اپنے مجرموں کو پہچان لیتی ہے تو صرف اور صرف اس اکیلی عورت کی گواہی اس مرد کو سزا دلوانے کے لئے کافی ہے اور اس طرح کا ایک واقعہ سیرت نبوی ﷺمیں مذکور بھی ہے۔

فاضل مصنفہ نے اپنے کالم میں ”الباکستان‘اصطلاح استعمال کی‘، جسے پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی کہ اخلاقی انحطاط کا شکارہمارا معاشرہ تو ’پاکستان‘ کہلانے کا بھی مستحق نہیں ہے، کجا کہ الباکستان! کیا یہ ایک اسلامی معاشرے کی تصویرہے کہ جہاں یونیورسٹی کی لڑکیاں اپنے کپڑے فخریہ آلودہ کر کے اپنے Sanitary Pads کی سرعام نمائش کریں، جہاں کی سپر ماڈلز اور فلمی اداکارائیں سرحد پار جا کر فحاشی اور عریانی کی ساری حدود پار کرتی ہوں، جہاں سرکاری ٹی وی چینل پر”اسلام “جو کہ صرف نیوز کاسٹر کے ”دوپٹے کی پنوں“ میں اٹکا ہوا تھا، اتنا سا اسلام بھی اتار کر پھینک دیا گیا ہو، جہاں وفاقی شرعی عدالت کے ’احکامات‘ کے باوجود سود کا کاروبار حکومتی سرپرستی میں پھل پھول رہا ہو، جہاں کے ڈراموں میں دیور بھابھی، سالی بہنوئی، پھوپھا بھتیجی، خالو بھانجی غرضیکہ کسی حرمت والے رشتے کی حرمت کو برقرار نہ رکھا جاتا ہو!

عرض یہ ہے کہ محترمہ آپ کی بیان کردہ معاشرتی برائیوں اور کج رویوں کی وجہ صرف اسلامی تعلیمات سے دوری اور جاہلانہ قسم کے علاقائی رسوم و رواج ہیں۔ ہم اگر من حیث القوم قرآن پاک کو بطورِ ضابطہ حیات اور حدیث اور سیرت کو بطور نمونہ اپنا لیں تو یہ سب برائیاں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ لہٰذا اسلام جیسے زندہ جاوید مذہب کو کسی قسم کی نشاة ثانیہ کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس کی سہولت یا پسند کی خاطر قرآنی احکامات اور آیات کریمہ کو تبدیل کیا جائے تو یہ خواب گزشتہ چودہ سو سال سے یہود و نصاریٰ بھی دیکھ رہے ہیں اورانشاءاللہ کسی کا ایسا خواب پورانہیں ہو گا۔ میرا مشورہ ہے کہ ’ملّا کی اجارہ داری ‘ ختم کرنے کے لئے آپ خود کو اور اپنے بچوں کو قرآن پاک کے علم سے روشناس کرائیں تاکہ آپ کو اسلامی احکامات سمجھنے کے لئے کسی دوسرے کی محتاجی کی ضرورت نہ رہے اور نہ ہی کوئی دین کے نام پر آپ کا استحصال کر سکے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “محترمہ حفصہ نور کے جواب میں

  • 16-06-2016 at 12:00 am
    Permalink

    Naseem Hijazi naya edition

  • 16-06-2016 at 8:48 am
    Permalink

    محترمہ بخاری صاحبہ نے سیلف میڈ اسلام کو بیان کیا ہے، ہر پیراگراف ہی قابل گرفت ہے۔
    1- محترمہ نے ایک طرف سنہری دور کے سائنسدانوں کا تذکرہ کیا اور دوسری جانب جلیل القدر فقہاء کا، ذرا تحقیق کیجئے گا کہ ” بو علی سینا، الزہراوی، الخوارزمی، ابن فرناس، جابر بن حیان“ کے بارے میں فقہاء کرام نے کیا کیا فتاویٰ صادر کئے اور ان ”مسلمان سائنسدانوں“ پر ان فتووں کی وجہ سے کیسی کیس قیامتیں ٹوٹیں۔
    2- دوسروں کو اسلامی تعلیمات سے بیگانہ قرار دے کر محترمہ خود فرما رہی ہیں کہ ” اسلامی احکامات کے مطابق اگر کوئی بھی شخص اٹھ کر کسی پر زنا کا الزام لگائے یا شوہر بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو صرف ان صورتوں میں اسے ثابت کرنے کے لئے چار عاقل، بالغ، نیک مرد درکار ہوتے ہیں“ محترمہ ! آپ کو خود اسلامی تعلیمات کے مطالعے کی اشد ضرورت ہے، شوہر اگر بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو اس سے چار گواہوں کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس معاملے میں لعان کا حکم ہے، سورہ نور کی آیت نمبر 4 اور 5 اچھی طرح ملاحظہ فرما لیجئے۔
    3- محترمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دعوے ” قرآن و سنت میں جہاں بیوی پر شوہر کی اطاعت فرض ہے وہیں بیوی کی بیماری یا ذہنی آمادگی نہ ہونے کی صورت میں اس کے جذبات کا احترام کرنا بھی شوہر پر اتنا ہی فرض ہے“ کی دلیل اور حوالہ پیش کرین۔ جبکہ حدیث میں تو شوہر کے بلانے پر انکار کر مرتکب بیوی پر ساری رات فرشتوں کی طرف سے لعنت کا ذکر ہے، نیز دیگر احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر بیوی اونٹ پر سوار ہو یا تندور پر روٹیاں لگا رہی ہو اس حالت میں بھی شوہر بیوی کو مجامعت کیلئے طلب کرے تو عورت کو انکار روا نہیں ہے۔

  • 16-06-2016 at 10:19 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر۔

    محترم عاصم بخشی اِس محفل کے اہم رکن ہیں، جن کی مدلّل اور سنجیدہ تحریریں علمی ذوق کی تسکین کا سامان پیدا کرتی ہیں۔

    ایک حالیہ مضمون میں اَنہوں نے لبرل طبقے کے لیے قطب یسار اور لبرل مخالف طبقے کے لیے قطب یمین کی اصطلاحات استعمال کیں۔

    لبرل (قطب یسار) طبقے کے رویوں میں بھی لا تعداد سقم موجود ہیں۔ گو وہ بھی قطب یمین طب کی طرح پارسائی کے دعویدار ہیں۔

    شائستگی مکالمے کو مثبت انداز مین آگے بڑھاتی ہے جبکہ طعن تشنیع مقدمے کو کمزور کر دیتا ہے۔
    قطب یسار کے پاس وجاہت مسعود جیسے اعتدال پسند لوگ کی کمی ہے۔

    قطب یسار کے متشددّ لوگ بھی تلخ نوائی سے ( جو کہ ناقابل برداشت حد تک ہوتی ہے) مکالمہ کرتے ہیں۔ اِن کا نظریہ یہ ہے کہ مذہب اور مذہبی لوگوں کا تمسخر ہی ان کے مقدمے کو عوام الناس میں مقبول بنا سکتا ہے۔

  • 16-06-2016 at 10:21 am
    Permalink

    متن کے جملے کی اصلاح:

    قطب یسار طبقے کے رویوں میں بھی لا تعداد سقم موجود ہیں۔ گو وہ بھی قطب یمین طبقے کی طرح پارسائی کے دعویدار ہیں۔

  • 17-06-2016 at 12:15 am
    Permalink

    محترمہ مضمون نگار کا پورا مضمون پڑھ کر میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اس میں ان کا زیادہ قصور نہیں ہے۔ جو کچھ ہمارے سلیبس میں یا مدرسوں اور نام نہاد دینی تعلیم کے اداروں میں تاریخ اور اسلام کے نام پہ ہمارے اذہان میں تقریباً ڈیڑھ عشرے تک ٹھونس دیا جاتا ہے، اس سے ہٹ کر سوچنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔
    لیکن اس ذہنی کیفیت کو سمجھنا زیادہ مشکل اس لئے نہیں ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی دور میں ایسی ہی کیفیت اور سوچ کا شکار رہے ہیں۔

  • 17-06-2016 at 5:22 pm
    Permalink

    یک نہ شد دو شد- ایک عاصم بخشی کو پڑھنا مشکل تھا اب یہ محترمہ بھی آ گئیں میدان میں- و یسے مسواک سے منٹوکا ایک افسا نہ یاد آگیا اس میں بھی کسی مسواک وغیرہ کا ذکرہے-

    “صفائی کے گواہ صرف دو تھے-خان بہادر کی بیوی اور ایک ڈاکٹر- ڈاکٹر نے کہا کے خان بہادر اس قابل ہی نہیں کہ کسی عورت سے ایسا رشتہ قائم کر سکے-شاداں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ نابالغ تھی-اس کی بیوی نے اس کی تصدیق کی-
    خان بہادر محمد اسلم بری ہو گئے– مقدمے میں انہیں بہت کوفت اُٹھانی پڑی- بری ہو کر جب گھر آئے تو ان کی زندگی کے معمول میں کوئی فرق نہ آیا- ایک صرف انہوں نے مسواک کا استعمال چھوڑ دیا- ”

    (شاداں ــــــــــ سعادت حسن منٹو)

Comments are closed.