ذکر فتحیاب علی خان کا


تحقیق و تحریر: حسن جاوید و محسن ذوالفقار

com01فتح یاب علی خان پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا روشن نام ہے کہ جس کے ذکر کے بغیر اس کے کئی باب نا مکمل سمجھے جائیں گے۔ وہ اپنی ساری زندگی اس مملکت خداداد میں عوام کے بنیادی حقوق کے لئے انتھک جدوجہد کرنے والوں کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں۔ ایوب خان کے دور آمریت کا ذکر ہو یا ضیاءالحق کا اندھیرا دور، وہ عوامی حقوق کا مقدمہ لڑنے میں پیش پیش تھے۔ مزدوروں کی کوئی جدوجہد ہو یا ہشت نگر کے کسانوں کی تحریک، فتحیاب ہمیشہ ان محروم لوگوں کی پر زور آواز بنے۔ پاکستانی عوام کے جمہوری حقوق اور حکمرانی کی جدوجہد میں بھی وہ ہر محاذ پر ثابت قدم تھے، عوامی جلسے ہوں یا سیاسی اجلاس، سڑکوں پر جلوس ہوں یا عدالت میں پیشی یا پھر قلم کی طاقت کا استعمال، فتحیاب ہر محاذ پر اپنی بھرپور توانائیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

فتحیاب علی خان کا شمار ان رہنماؤں میں ہے جنہوں نے زمانۂ طالب علمی سے اپنی زندگیاں عوامی حقوق کے لئے وقف کردیں۔ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن بھی بلاشبہ اس بات پر فخر کر سکتی ہے کہ فتحیاب علی خان بھی ان متعدد رہنماؤں میں سے ایک ہیں جن کی سیاسی تربیت این ایس ایف کی صفوں میں ہوئی اور جنہیں بلاشبہ اس دھرتی کے ان ہیرے جواہرات میں شمار کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ہمت، اصول پرستی اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کیں لیکن وہ نہ تو کبھی جھکے، نہ کبھی بکے۔

حیدرآباد دکن میں 1936 میں جنم لینے والے فتحیاب علی خان کم عمری میں ہی اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آئے۔ کراچی سے پہلے شکارپور بھی ان کے خاندان کا مسکن رھا۔ وہ غالباً 1957 میں این ایس ایف کی صفوں میں شامل ہوئے  جو اپنے قیام کے ایک سال کے اندر ہی طالب علموں کی ایک بڑی اور متحرک جماعت بن چکی تھی۔ فتحیاب اس وقت اسلامیہ کالج کراچی میں زیر تعلیم تھے۔ ان کی ذہانت، مکالمے کی خوبصورتی، دلائل کی فراوانی اورتقریری صلاحیتوں نے جلد ہی ان کو این ایس ایف کی اگلی صفوں میں پہنچا دیا۔ وہ این ایس ایف کی جانب سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں نائب صدر کے عہدے پر کامیاب ہوئے ۔ یہ اس وقت کسی طالب علم کے لئے یونین کا سب سے بڑا عہدہ تھا، یونین کا صدر اس وقت تک کالج کا پرنسپل ہوا کرتا تھا۔ اس حیثیت میں این ایس ایف کی ہی جانب سے وہ انٹر کالجئیٹ باڈی کے com02چئیرمین منتخب ہوئے۔ یہ وہی وقت تھا جب این ایس ایف کی جانب سے جبل پور کے مسلم کش فسادات اور کانگو کے عوامی رہنما پیٹرس لوممبا کی امریکی ایجنٹوں کے ہاتھوں شہادت کی مذمت میں جلسے اور جلوس منعقد کئے گئے اور اس کے نتیجے میں 16 فروری 1961 کو این ایس ایف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایوب خانی مارشل لاء اپنے جوبن پہ تھا اور سر اٹھانے کی روش ناقابل معافی، لہٰذہ فتحیاب سمیت این ایس ایف کے دس رہنماؤں کے خلاف مارشل لاء کی عدالت میں مقدمہ چلا جہاں فتحیاب علی خان ملزم نمبر ایک کی حیثیت سے پیش ہوے۔ دس میں سے آٹھ رہنماؤں کو (آغا جعفر اور ایم اے محبوب کے سوا) قید کی سزائیں سنا کر ملتان اور بہاولپور کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاریوں کے وقت سے ہی پورے کراچی میں ان رھنماؤں کی رہائی کے لئے ایک زبردست تحریک شروع ہو چکی تھی جو سزاؤں کے اعلان کے ساتھ ہی شدت اختیار کر گئی۔ مجبوراً چھ ماہ بعد حکومت نے ان آٹھ رہنماؤں کو رہا تو کیا لیکن ساتھ ہی تمام دس رہنماؤں کی شہر بدری کے احکامات جاری کر دئے گۓ۔ ان میں فتحیاب کے علاوہ این ایس ایف کے مرکزی صدر شیر افضل، معراج محمد خان، انور احسن صدیقی، امیر حیدر کاظمی، اقبال میمن، آغا جعفر، جوہر حسین، علی مختار رضوی اور محبوب علی شامل تھے۔

 حبیب جالب نے ان بہادر نوجوانوں کو اپنے مخصوص انداز میں کچھ اس طرح خراج عقیدت پیش کیا

فضا میں جس نے بھی اپنا لہو اچھال دیا

ستمگروں نے اسے شہر سے نکال دیا

یہی تو ہم سے رفیقان شب کو شکوہ ہے

کہ ہم نے صبح کے رستے پہ خود کو ڈال دیا

جلد ہی حکومت کو اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا کہ وہ تحریک جو بڑی حد تک کراچی تک محدود تھی اب ان تمام شہروں تک پہنچ گئی جہاں جہاں یہ نوجوان بھیجے گۓ۔ لہٰذہ طلباء کے مطالبات کی منظوری کے بہانے شہر بدری کے احکامات واپس لے لئے گۓ۔

com(1)اسلامیہ کالج کے بعد فتحیاب کی اگلی منزل کراچی یونیورسٹی تھی۔ جہاں قانون میں تبدیلی کے بعد اب اسٹوڈنٹس یونین کا صدر وائس چانسلر کے بجاۓ ایک طالب علم ہو سکتا تھا۔ این ایس ایف کی طرف سے وہ یونین کی صدارت کے لئے واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے ۔ اس طرح انہیں یونین کے پہلے منتخب صدرہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس دوران نۓ ینیورسٹی آرڈینینس نے طلبا میں بے چینی پھیلا دی۔ وہ این ایس ایف کے دیگر رھنماؤں کے ساتھ اس تحریک میں بھی پیش پیش رہے۔ ستمبر 1962 میں کراچی کے پولو گرؤنڈ میں منعقدہ کنونشن لیگ کے ایک جلسہ کو طلبا نے اپنے احتجاج کا مرکز بنایا، جلسہ چوھدری خلیق الزماں کی صدارت میں تھا اور ذوالفقار علی بھٹو اسٹیج سکریٹری تھے، طلبا نے اسٹیج پر قبضہ کرلیا۔ ریاست کا رد عمل شدید تھا۔ بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کے بعد بارہ طلباء رہ نماؤں بشمول فتحیاب علی خان کو ایک بار پھر شہر بدر کر دیا گیا۔ ان رھنماؤں کو طلبا کے بارہ امام کا خطاب ملا، دیگر گیارہ امام معراج محمد خان، امیر حیدر کاظمی، حسین نقی، واحد بشیر، آغا جعفر، نواز بٹ، خرم مرزا، سید سعید حسن، نفیس صدیقی، علی مختار رضوی اور جوہر حسین تھے۔ تحریک ان کے ہمراہ ایک سے دوسرے سے تیسرے شہر پہنچ کر ایک ملک گیر شکل اختیار گئ۔ روزانہ جلسے جلوس ایک معمول بن گۓ، کراچی میں طلبا نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی۔ بالآخر حکومت نے پسپائی اختیار کی اور لاہور میں نواب کالا باغ کی طلبا رہنماؤں سے ایک ملاقات کے بعد یونیورسٹی آرڈینینس کی تمام متنازعہ شقیں واپس لے لی گئیں تمام گرفتار طلبا رھا ہوئے  اور بارہ امام اپنے پرجوش مقلدین کے پاس واپس کراچی پہنچے۔

وہ 1964 میں ایک بار پھر این ایس ایف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ محترمہ فاطمہ جناح کی قیادت میں جمہوریت کی تحریک میں سرگرم نظر آۓ۔ اس دوران وہ قانون کی تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی اور ملکی سیاست میں داخل ہوئے  اور اپنے نظریات سے وابستگی کا ثبوت مزدوروں کی ایک سیاسی جماعت پاکستان ورکرز پارٹی میں شامل ہو کر دیا جو بعد میں مزدور کسان پارٹی کہلائ، وہ ساری عمر اسی پارٹی کے رہنما اور کارکن رہے۔

مزدور کسان پارٹی کے صف اول کے کارکن اور کئی سال تک اس کے صدر کی حیثیت سے اپنی زندگی کے آخری دن تک وہ مزدوروں اور کسانوں کی اپنے حقوق کے لئے تحریکوں اور ملک میں عوام کے حق حکمرانی کی جدوجہد میں وہ مسلسل شریک رہے

com03۔ ضیاءالحق کے سیاہ دور میں خصوصاً وہ ایک چو مکھی لڑائی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر ایک طرف وہ اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو تحریک براۓ بحالئی جمہوریت MRD کے قیام کے لئے استعمال کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ سڑکوں پر فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں کی قیادت کرتے ہوئے  نظر آتے ہیں اس حقیقت سے بے پرواہ کہ اس جدوجہد کے پھل کسی اور کی جھولی میں گریں گے۔ تیسری جانب ان کا قانونی دماغ فوجی حکومت کی خلاف متعدد آئینی درخواستوں کی پیروی کرتا ہوا نظر آتا ہے تو چوتھی سمت ان کے قلم کی کاٹ ضیاءالحق کی غیر قانونی اور غیر آئینی کارستانیوں کا پردہ چاک کرتی ہے۔ آٹھویں ،غیر آئینی ترمیم، اقلیتوں کے حقوق کی ،غیر قانونی، پامالی اور حدود آرڈیننس کی متنازعہ شقیں ان کے کئی مضامین کا خاص موضوع تھیں۔ جنہوں نے ان کی نگاہ میں 1973 کے غیر متنازع آئین کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ اس کٹھن راستے میں انہوں نے جسمانی اور ذہنی تشدد، قید و بند کی صعوبتیں اور شہر و صوبہ بدری کی پابندیوں کا متعدد بار خندہ پیشانی سے سامنا کیا۔

اگر وہ ذاتی مفادات کی سیاست سے دلچسپی رکھتے تو ملک کی ہر جماعت انہیں کھلے ہاتھوں سے خوش آمدید کہتی مگر انہوں نے اصولوں کی سیاست کرتے ہوئے  اس ظاہراً سیاسی تنہائی کو ترجیح دی جو ہمیں ان جیسے دیگر با ہمت اور با اصول رہنماوں کے یہاں بکثرت نظر آتی ہے۔ ان کی شریک حیات ڈاکٹر معصومہ حسن کے بقول ایسی کسی بھی گفتگو کے جواب میں وہ ہمیشہ یہی کہتے کہ “بھئی میں ایک نظریاتی آدمی ہوں”۔ فتحیاب جیسے با اصول سیاست دانوں کی اس بظاہر سیاسی تنہائی کو ان کی یاد میں منعقد ایک تقریب میں آئی اے رحمٰن نے اپنا موضوع بنایا اور اسے ،مزاحمتی سیاست، کا نہایت موزوں نام دیا۔ انہوں نے ہمیں یاد دلایا کہ پاکستان کی تاریخ کے تمام روشن پہلو اسی مزاحمتی سیاست کا ثمر ہیں۔ انہوں نے بجا طور پہ نشاندہی کی کہ فتحیاب جیسے سیاستدانوں، طالب علموں، وکلاء، صحافیوں اور ادیبوں اور شاعروں نے اس مزاحمتی سیاست کو ہر دور میں جِلا دی جو ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔ فیض احمد فیض، گل خان نصیر، شیخ ایاز، امیر حمزہ شنواری، قلندر محمود، حبیب جالب، احمد فراز، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید وغیرہم نے نہ صرف مزاحمتی سیاست کو عوامی لہجہ دیا بلکہ مزاحمت کی آنچ کو ہوا بھی دی۔ مزاحمتی سیاست کی ان تمام روشن مثالوں کے ہی لئے شاید فیض نے کہا کہ

جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم

مختصر کر چلے درد کے فاصلے

com04اقبال کے مومن کی طرح رزمِ حق و باطل کی یہ فولادی شخصیت ہمیں حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم نظر آتی ہے۔ اسلامیہ کالج کے دنوں سے ان کے ایک دوست اور این ایس ایف کے ایک سابق کارکن راحت سعید کہتے ہیں کہ فتحیاب بڑی مرنجان مرنج شخصیت تھے۔ عوامی اجتماعات میں نہایت بردباراور سنجیدہ، مدلل انداز گفتگو اور دھیما لہجہ ان کا خاصہ تھا لیکن نجی محفل میں نہایت شگفتہ بیان اور حس مزاح کے حامل۔ کوشش کرتے کہ سگریٹ دوستوں کی جیب سے نکلوائی جاۓ جبکہ دوست ان کے پیکٹ کے طلبگار رہتے۔ ان کے لئے ایک یادگاری مضمون میں حارث خالق ایک نجی محفل میں ان کے اور ان کے برادر نسبتی عارف حسن کے درمیان ہونے والی ایک نوک جھونک کا ذکر کرتے ہیں۔ اس موقع پر عارف حسن نے MRD کے ایک اجلاس کے حوالے سے فتحیاب کی جماعت کے حجم پہ ایک پھبتی کسی، جواباً فتحیاب نے ہنستے ہوئے  کہا کہ “آری صحیح کہہ رہا ہے اُس دن تو مجھے اپنی پارٹی کے وفد کے لئے تیسرا فرد بھی نہیں مل رہا تھا”۔

این ایس ایف ڈاؤ میڈیکل کالج کے سابق کارکن رافع ظفر یادوں کے جھروکوں سے ایک منظر کچھ اس طرح دکھاتے ہیں ،2008 کی وہ شام یادگار تھی جب میری فتحیاب علی خان سے آخری ملاقات معراج محمد خان کی رہائش گاہ پر ہوئ۔ معراج حال ہی میں ایک مہلک بیماری سے شفایاب ہوئے  تھے۔ اس موقع پر سن پچاس کی دہائی سے لیکر اس وقت تک کے این ایس ایف کے کارکن موجود تھے۔ یہ بلا شبہ ایک لگن کو جگانے والی شام تھی۔ سب این ایس ایف کے حوالے سے اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ پر نم ان کھوں سےگزرے ہوئے  ساتھیوں کا ذکر، دور جوانی کے خوابوں کا احوال اور جدوجہد میں ساتھ گزرے ہوئے  لمحات کی کہانیاں، ان سب نے ماحول کو عجب رنگ دے دیا تھا،

عوام کے حق حکمرانی اور محروم لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے انتھک جدوجہد کرنے والی یہ ہستی دل کے دورے کے باعث 26 ستمبر 2010 کو ہم سے اچانک جدا ہو گئی

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

قارئین سے خصوصی درخواست: اس مضمون کے لکھاری این ایس ایف کے سابق کارکن ہیں اور این ایس ایف کی تاریخ اجتماعی خود نوشتی کے اصول کے تحت ،سورج پہ کمند، کے عنوان سے رقم کر رہے ہیں۔ اگر این ایس ایف کے حوالے سے آپ اپنی یاد داشتیں یا کوئی دستاویزی ثبوت اس اجتماعی کوشش کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو فیس بک کے صفحے NSF REVISITED پر اسے پوسٹ کر سکتے ہیں یا پھر hasan.jawed@gmail.com پر روانہ کرسکتے ہیں۔ آپکی عنایت مناسب حوالے کے ساتھ شامل کی جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments