مولانا سمیع الحق کے کمرے سے کیا ملا؟


راولپنڈی میں مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ اکوڑہ خٹک میں ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔

راولپنڈی میں مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ایئر پورٹ میں درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مولانا پر حملہ شام 6:30 بجے ہوا ۔ ایف آئی آر کے مطابق مولانا سمیع الحق کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے گئے۔

مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق آبپارہ میں احتجاج کے لیے چارسدہ سے آئے تھے ۔ ایف آئی آر کے مطابق مولانا کے بیٹے حامد الحق نے کہا ہے کہ مولانا کا پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتے ہوں یہ غیر شرعی ہے ۔

دوسری جانب پولیس نے مولانا سمیع الحق کے دو ملازمین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی ہے۔ حراست میں لئے گئے ملازمین میں محافظ اور سیکرٹری ہیں جن کو ابتدائی بیان کے بعد اکوڑہ خٹک جا کر نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ دونوں ملازمین سے مولانا سمیع الحق پر ہونے والے حملے کے حوالے سے تفصیلات لی گئی ہیں ۔

بحریہ ٹاؤن میں مولانا سمیع الحق کے قتل کی تفتیش انسداد دہشت گردی محکمہ کے افسران کر رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اہم معلومات حاصل کر لیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق نے 6 بج کر 40 منٹ پر سوسائٹی کی سیکورٹی کو فون کیا تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی حالت میں مولانا سمیع الحق نے سوسائٹی کی سیکورٹی کو خود فون کیا جس کے بعد ان کے گھر ایمبولینس پہنچائی گئی ۔

تفتیش کاروں کے حوالے سے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گھر سے اسپتال منتقلی کے دوران مولانا سمیع الحق زندہ تھے لیکن زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ اسپتال کے دروازے پر ہی موت کے منہ میں چلے گئے ۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا سمیع الحق نے ایمبولینس کے عملے کو قاتلوں کے بارے میں بتایا۔

بعض ذرائع نے میڈیا کو یہ خبر بھی دی ہے کہ مولانا کے کمرے سے ملنے والے دو گلاسوں میں ممنوعہ مشروب تھا۔ جائے وقوعہ کا جائزہ لینے والے ایک تفتیش کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کسی پڑوسی کو علم ہی نہیں کہ اس گھر میں مولانا سمیع الحق کی رہائش تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مولانا کا پوسٹ مارٹم نہ کرنے کی وجہ ممنوعہ مشروب ہو سکتا ہے ۔

جنازے کے موقع پر خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل یونٹ نے کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے ۔ اے آئی جی بی ڈی یو شفقت ملک کے مطابق بی ڈی یو سکواڈ نے چاروں اطراف کو چیک کیا اور جنازہ کے آخر تک ڈیوٹی پر مامور رہے ۔

(بشکریہ پاکستان 24)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں