محمد علی کلے اور امریکہ سے سیکھیں


saleem malikستر کی دہائی کے وسط میں میرے گاؤں میں بس چند ریڈیو سیٹ تھے اور بس اس کے علاوہ میڈیا کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کبھی کوئی اخبار نہیں آتا تھا۔ مگر اس وقت بھی محمد علی کلے (ہم کلے کی بجائے کلّا بولتے تھے) میرے گاؤں اور سکول میں انتہائی مشہور، مقبول اور اہم نام تھا۔ اتنا زبان زد عام نام کہ ہم سارے نوجوان لڑکے انہیں ایک پاکستانی ہی سمجھتے تھے۔ مجھے کوئی تیرہ چودہ سال کی عمر میں جب پتا چلا کہ محمد علی کلے (کلّا) ایک پاکستانی نہیں بلکہ امریکی شہری ہیں تو میں حیران رہ گیا اور یہ بات ماننے کو میرا دل بھی نہیں کر رہا تھا۔

اتنی بےپناہ آفاقی مقبولیت، لامحدود قابلیّت اور شان و شوکت محمد علی کلے کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ مگر بات یہاں مکمل نہیں ہوتی۔ یہ صلاحیتیں تو اور بھی بہت سے لوگوں کے حصے میں آئی ہیں۔ کچھ اور بھی ہے جو محمد علی کلے کی وفات کی خبر سن کر کروڑوں دل پسیج گئے اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ کچھ اور بھی ہے جس کی وجہ سے محمد علی کلے محض ایک سپورٹنگ ہیرو نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ بڑا آدمی یعنی “محمد علی کلے دی گریٹ” ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو غور طلب ہے اور ہمیں اس کا کھوج لگانے کی اشد ضرورت ہے۔

جتنی بے پناہ قابلیت، مقبولیت اور شان و شوکت محمد علی کلے کے حصے میں آئی ان میں اسی پیمانے پر یا شاید اس سے کہیں بڑھ کر عاجزی، انکساری اور انسان دوستی بھی تھی۔ اسی عاجزی، انکساری اور انسان دوستی کے تحت وہ اپنی ذات اور مرتبے کو بھرپور طریقے سے کام میں لائے اور انسانیت کی تحریک کو بڑھاوا دیا۔ یہ عاجری، انکساری اور انسان دوستی ہی وہ چیز ہے جو ہمیں محمد علی کلے کے کردار سے سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے ہاں یہ سب سیکھنے کے مواقع مفقود ہو گئے ہیں۔ ہمیں تو ہر وقت غرور کرنا، جھوٹ بولنا اور بدلہ لینا سکھایا جاتا ہے اور ہم حقیقت اور سچائی سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم حقیقی نیکی اور امن سے ناواقف ہیں۔

Boxer Laila Ali poses with her father, former heavyweight champion Muhammad Ali, after she defeated Suzy Taylor in two rounds at the Aladdin Casino in Las Vegas, Nevada, August 17, 2002 (Photo By Scott Halleran/Getty Images)

ہمارے سکول، مدرسے، مسجدیں، میڈیا، سیاسی پارٹیاں، ریاست، فارن پالیسی اور تھڑے ہمیں جھوٹ، غرور اور دوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرنا سکھاتے ہیں۔ ہماری جھوٹی انا کو ہوا دیتے ہیں اور ہم معاف کرنے کی بجائے بدلے کی آگ میں جلتے ہیں۔ جیسے ہم راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں ایسے ہی ہم راتوں رات ہیرو بھی بننا چاہتے ہیں۔ ہم شاید واحد قوم ہیں کہ جرم کر کے بھی ہیرو بن جاتے ہیں۔ جس کے لئے جہاد، بدلے کی آگ اور غیرت سے متعلق جرائم کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم لیلیٰ علی اور ثانیہ مرزا کی کھیل میں کارکردگی کی بجائے ان کے کپڑوں کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور ہمارے علماء ان پر فتویٰ جڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں قانون توڑنا بھی فخر کی بات ہے۔ لاکھوں روپے رشوت دے کر بیٹا تھانیدار یا نائب تحصیلدار کے عہدے پر لگوانے پر لوگوں کو اتراتے تو آپ نے ضرور دیکھا ہو گا۔ لوگ اس بات کو چھپاتے اس لئے نہیں کیونکہ رشوت اور سفارش یہاں بے عزتی کا باعث نہیں ہیں۔ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ ہمارے شرفاء کے لئے قانون کا سہارا لینا، قطار میں لگنا یا اپنی باری کا انتظار کرنا بے عزتی ہے۔ بے عزتی ریپ ہونے والی عورت اور اس کے خاندان کی ہوتی ہے اور ریپ کرنے والے یا اس کے خاندان کو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ ایسا ماحول انکسار، عاجزی اور انسان دوستی سکھانے کے لئے سازگار نہیں ہے۔

نتیجہ یہ کہ ہمارے عام نوجوان یا ہیروز تمام تر پروفیشنل صلاحیتوں کے باوجود عظمت سے عاری ہوتے ہیں۔ یہ عظمت عاجزی، انکساری اور انسان دوستی سے آتی ہے جو کہ ہمارے نوجوانوں کو سکھائی نہیں جا رہی۔ ہمیں محمد علی کلے اور امریکی معاشرے سے یہی سیکھنا ہے۔

muhammad-ali-1محمد علی کلے نے عیسائیت چھوڑی جو کہ امریکہ میں ایک بھاری اکثریت کا مذہب ہے۔ اور اپنی مرضی کا مذہب یعنی اسلام قبول کیا۔ اس نے اپنے ملک امریکہ کی ویتنام کے خلاف جنگ میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ یہ بہت ہی غیر معمولی باتیں تھیں۔ امریکی معاشرے اور ریاست کو بھی دیکھو کہ محمد علی کی اس حکم عدولی کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اسے غدار نہیں قرار دیا۔ محمد علی کا مستقبل ختم نہیں ہوا۔ اس کا کھیل تھوڑے وقفے کے بعد پھر جاری ہو گیا، وہ ورلڈ چیمپین بھی بنا اور لوگوں کے دلوں پر بھی راج کیا۔ ہمارے معاشرے میں اس کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ اس کی مثالیں ہیں۔ وہ دنیا میں ہیرو اور ہمارے لئے غدار ہیں۔ لوگ کتنی دلیری سے ٹی وی پر بیٹھ کر انہیں غدار قرار دیتے ہیں۔ ان کے خلاف کتابیں لکھتے ہیں۔

کاش کہ ہماری ریاست، ہمارا مذہبی رہنما، اور ہمارا میڈیا ہمارے نوجوانوں کے لئے انکسار، عاجزی اور انسانیت دوستی سیکھنے کے مواقع پیدا کرے۔ کاش کہ یہ سب ہمیں بتائیں کہ قدرتی طور پر سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں اور کوئی قوم بھی کسی دوسری قوم سے زیادہ دلیر یا غیرت مند نہیں ہوتی۔ اسی طرح ہم نہ کسی سے کم تر ہیں نہ کسی سے بڑھ کر۔ اور یہ کہ کچھ قوموں نے اپنی محنت اور ایمانداری سے اپنا رہن سہن ہم سے بہتر کر لیا اور ہم بھی محنت، دیانتداری، انسان دوستی اور بھائی چارے کے سنہری اصولوں کے ذریعے اپنی زندگی بہتر کر پائیں گے۔

جب ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کی بنیاد سچ پر رکھیں گے تو ہم بھی انکساری، عاجزی اور انسانیت دوستی سیکھ لیں گے اور ترقی یافتہ قوموں میں نہ صرف شامل ہو جائیں گے بلکہ ایک مثبت کردار بھی ادا کر پائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 70 posts and counting.See all posts by salim-malik