بیٹیاں رحمت یا زحمت


بیٹیاں اللہ کی رحمت ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر افسردہ ہوتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ بعض اوقات بچی کی پیدائش پر شوہر اپنی بیوی پر اور گھر کے دیگر افراد بھی عورت پر ناراض ہوتے ہیں، حالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہر افراد اس بات سے بہت اچھی طرح واقف ہے کے بیٹیاں اور بیٹے دونوں ہی اللہ کی دین ہیں۔ انسان کا اس میں کوئی عمل داخل نہیں۔ لڑکیوں کو کم تر سمجھنا ہمارے معاشرے کی کم علمی ہے۔

اکثر بیٹا پیدا ہونے پر لوگ خوش اس لیے ہوتے ہیں کہ بڑا ہو کر دولت کما کر لائے گا وارث بنے گا جبکہ لڑکی وارث نہیں بن سکتی لیکن ایک لڑکی ہی سب سے زیادہ اپنے والدین کو سمجھتی ہے اوران کا خیال دکھتی ہے۔ رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ جن کے ہاں تین بیٹیاں ہوں والدین ان کی اچھی تربیت کے ساتھ شادی کرا دیں تو ان والدین پر جنت واجب ہے۔ لڑکیاں والدین کے لیے دوزخ کی آگ سے بچاؤ کی ڈھال ہیں۔ اس حدیث مبارکہ میں بیٹیوں اور بہنوں کی حسن تربیت اور تہذیب کی تعلیم دی گئی ہے اور اس شخص کو جنت کی بشارت ہے جو بیٹیوں یا بہنوں کا کفیل ہو اور پھر ان کے حقوق ادا کرے اللہ تعالٰی کے نزدیک ایسے کفیل خواہ وہ بھائی ہوں یا باپ درجہ بہت بلند ہے۔

اسلام سے پہلے بیٹی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ عورت کوحقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن جب اسلام کا نزول ہوا توعورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہاں تک کہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصے کا حقدار بھی ٹھرایا۔ ہمارے ہاں بیٹی کے پیدا ہوتے ہی والدین اپنے اوپر بوجھ محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں حلانکہ حضرت محمد ﷺنے فرمایا کہ جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ اے لڑکی! تو زمین پر اتر میں تیرے باپ کی مدد کروں گا۔

بیٹیوں کی پیدائش پر اسی طرح خوش ہونا چائیے جس طرح ایک لڑکے کی پیدائش کے وقت ہوتے ہیں۔ نہ صرف اچھی تربیت بلکے اس کے ساتھ ساتھ اں ہیں تعلیم بھی دی جائے۔ بیٹیوں کے لئے بھی تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی بیٹے کے لئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر عورت کو تعلیم سے دور رکھا جائے گا تو جہالت نسلوں تک سفر کرے گی۔ حضرت محمد مصطفی ﷺنے فرمایا کہ ”ایک باپ اپنی بیٹی کو تعلیم سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں دے سکتا“۔ آج ہر شعبے میں بیٹیاں بڑھ چڑھ کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ استاد، ڈاکٹر، انجنیئر، بینکر سے لے کر جہاز تک اڑا رہی ہیں۔ وقت آنے پر یہ بیٹی بیٹا بن کر بھی دکھاتی ہے۔ بڑھاپے میں بیٹا تو والدین کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے مگر بیٹی کبھی بھی اپنے والدین کو تنہا نہیں چھوڑتی۔

بیٹے قسمت سے ہوتے ہیں اور بیٹیاں خوش قسمتی سے لیکن ہمارے ہاں اس خوش قسمتی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور حدیث میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی والوں کو خوش خبری دیتے ہوئے فرمایا: جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے، تو خدا اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں کہ ”اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو“۔ وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں ”یہ کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے، جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا، قیامت تک خدا کی مدد اس کے شاملِ حال رہے گی“۔ اگر آج آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق بیٹی کی تربیت کی توکل یہ بیٹی آپ کے لیے جنت ہوگی۔ یاد رکھیے بیٹی سے محبت سنتِ رسولؐ، اور اس کی پیدائش پر غم کرنا کافروں کا طریقہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں