معروف داستان گو دانش حسین سے خصوصی مکالمہ


س۔ آپ نے بھارت سے اردو ادب کی ایک ناپید صنف داستان گوئی کو زندہ کیا اور اب دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں داستان گوئی کا استعارہ بن گئے تو اس کا آغاز کب اور کیسے کیا؟

ج۔ اچھا مجھے بہت خوشی ہے کہ میں جب یہاں پاکستان آتا ہوں اور جب آپ لوگ مجھے متعارف کراتے ہیں تو آپ لوگ بھارت کہہ کر متعارف کراتے ہیں کیونکہ ہندوستان میں تو مجھے لفظ بھارت سننے کو نہیں ملتا وہاں تو ہندوستان ہی کہا جاتا ہے۔ تو میں جب بھارت سنتا ہوں تو میرے اندر کی جو روح ہے وہ بھارتی روح جاگ جاتی ہے بہت بہت شکریہ اس استقبال کے لئے۔ دوسرا سوال آپ کا تھا داستان گوئی کے ذیل میں تو اب میں کیا بتاؤں مثلاً مجھے ہر چیز پسند ہے تو الگ الگ کیا بتاؤں۔

س۔ ہمارا مطلب یہ تھا کہ آپ نے داستان گوئی کو منتخب کیا یا داستان گوئی نے آپ کو؟

ج۔ داستان گوئی کو میں نے منتحب نہیں کیا داستان گوئی نے مجھے منتحب کر لیا۔ یہ منٹو صاحب والی بات ہے وہ افسانے کو نہیں سوچتے بلکہ افسانہ ان کو سوچتا ہے۔ تنویر حبیب صاحب ہندوستان کے ایک بہت بڑے تھیٹر کے ڈائریکٹر تھے میں ان کے طائفہ میں اداکاری کیا کرتا تھا اور ان کا ایک بہت مشہور و معروف ناٹک ہے ”آگرہ بازار تک“ جو نظیر اکبر آبادی کے اوپر ہے تو اس میں ایک کردار ادا کیا کرتا تھا اور اسی دور میں جب داستان گوئی جب Revive ہوئی ایک طرح سے جو محمود فاروقی نے کی۔ جو میرے بہت ایک اچھے دوست اور داستان گوئی کے ڈائریکٹر ہیں۔

وہ 2005ء کا دور تھا جب اردو کے بہت بڑے نقاد اور سکالر شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی مدد سے اور ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے داستان گوئی کی نشست دوبارہ شروع کی اور ابھی ان کو مشکل سے چار پانچ مہینے ہی ہوئے تھے داستان گوئی شروع کیے ہوئے اور اس وقت ان کے جو پارٹنر تھے ہمانشو تیاگی وہ ہمارے دوست تھے جو ”آگرہ بازار تک“ میں بھی کام کرتے تھے اور ایک کردار ادا کرتے تھے تو وہ اتفاق تھا کہ دہرہ دون میں ایک وراثت فیسٹیول ہو رہا تھا تھیٹر کا۔

 وہاں پر حبیب صاحب ”آگرہ بازار تک“ اپنا ناٹک کر رہے تھے اور محمود وہاں پر داستان گوئی کرنے آئے تھے اور انہوں نے مجھے ناٹک میں رول ادا کرتے دیکھا۔ میں نے انہیں داستان گوئی کرتے ہوئے دیکھا اور میں ان سے بہت محظوظ ہوا وہ پتہ نہیں کتنے محظوظ ہوئے یا نہیں ہوئے لیکن بعد میں تین چار مہینے کے بعد ان کا ہندوستان کے ایک اخبار میں ایک بڑا لمبا سا انٹرویو داستان گوئی کو Revive کرنے کے حوالے سے شائع ہوا تو میں نے ان کو فون کیا اورمبارک باد دی تو اس وقت انہوں نے کہا کہ کہ یار میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ آؤ۔ اس مہم میں میرے ساتھ کام کرو اور میں گیا اور کوئی پندرہ دن کے بعد ہم نے مارچ 2006ء میں پہلی بار اپنی پرفارمنس ساتھ میں دی اور بس اٹک گئے ہم اس کے بعد اور آج تک کر ہی رہے ہیں۔

س۔ تو اس حوالے سے آپ کی پاکستان آمد کا سلسلے کا کب آغاز ہوا؟

ج۔ پاکستان میں پرفارم کرنے سب سے پہلی بار 2006ء میں آیا تھا پیرزادہ فیسٹیول ہوا کرتا تھا لاہور میں اس میں ایک ناٹک کرنے کے لئے آیا تھا۔ لیکن داستان گوئی میں سب سے پہلے کرنے آیا تھا 2007ء میں۔ اس وقت یہاں پر ایک تنظیم ہے The Citizen Foundation کے نام سے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا کچھ فنڈز ریزنگ کے لئیا ور انہوں نے دو شوز کراچی میں دو شوز لاہور میں اور ایک شو اسلام آباد میں کروایا تھا تو وہ پہلی بار تھا کہ ہم داستان گوئی کو لے کر مکمل طریقے سے پاکستان آئے تھیا ور ہم نے یہاں پر داستان گوئی کے شوز کیے تھے یہاں کے عوام جو ہیں پہلی بار داستان گوئی سے ان کا تعارف ہوا تھا۔

 آشنا ہوئے تھیا ور بہت مزا آیا بہت لوگوں نے ہمیں بڑا سراہا اور بڑا لطف لیا۔ انتظار حسین مرحوم نے دیکھی داستان گوئی۔ انہوں نے باقاعدہ Dawn میں اس کے بارے میں لکھا اور آپ کے دیگر اخبارات نے بھی اس کے بارے میں لکھا تو وہ ایک سلسلہ تھا لیکن وہ 2007ء کے بعد وہ پھر ایک طرح سے رابطہ ٹوٹ گیا اور ہم پھر دوبارہ اگلے چار سال تک پاکستان نہیں آئے۔ اب تک ہم ہندوستان کے علاوہ سری لنکا، افغانستان، متحدہ عرب امارات، کینیڈا اورامریکہ میں پرفارم کر چکے ہم بیچ میں ہر جگہ پرفارم کر رہے تھے لیکن پاکستان آنے کا دوبارہ سلسلہ بن نہیں پا رہا تھا پھر 2010ء کے آخر میں یہ ہوا کہ 2011ء میں فیض صاحب کا صدسالہ یومِ جشنِ پیدائش آ رہا تھا تو ظاہر سی بات ہے کہ فیض صاحب ہم میں بھی بڑے مقبول ہیں ہمیں بھی پسند ہیں تو اس وقت ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ فیض صاحب پر کچھ تیار کیا جائے داستان نما اور ہندوستان میں ایک بہت بڑے تھیٹر ڈائریکٹر اور سر گرم کارکن تھے صفدر ہاشمی کے نام سے تو وہ 1989 میں غازی آباد کے پاس احتجاج کر رہے تھے تو پولیس کے ایک لاٹھی چارج میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

 تو اس کے بعد سے ان کے ا نتقال کے بعد ایک ٹرسٹ بنایا گیا ”صہمٹ“ صفدر ہاشمی میموریل ٹرسٹ اور وہ ہر سال یکم جنوری کو ان کے یومِ وفات پر ایک جلسہ کرتے ہیں۔ وہ دن بھر کا جلسہ ہوتا ہے طرح طرح کے آرٹسٹ آتے ہیں اور وہ آدھا گھنٹہ، پون گھنٹہ اور گھنٹہ بھر کچھ پروگرام کر کے چلے جاتے ہیں تو صفدر ہاشمی میموریل ٹرسٹ والوں نے ہم سے کہا کہ بھئی اس سال 2011ء جو ہے یہ فیض صاحب کا سال ہے تو آپ دونوں کچھ فیض صاحب پر پیش کیجیئے تو ہم نے ایک گھنٹے کا پروگرام بنایا فیض صاحب پر اور ہم وہاں گئے اور اتفاق سے جب ہم اسے پیش کر رہے تھے تو وہاں پر فیض صاحب کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی بھی موجود تھیں۔ حالانکہ منیزہ ہاشمی صاحبہ سے میری ملاقات 2006ء میں بھی ہوئی تھی پر پھر کوئی ایسا سلسلہ نہیں بنا لیکن جب وہ اُس دن وہاں آئیں تو وہ بہت محظوظ ہوئیں۔

اُن پر بڑا اثر ہوا اور انہوں نے اسی وقت بولا کہ اس کو تو مجھے پاکستان لے جانا ہے اور اس کے ایک مہینے بعد ہم پھر دلی میں فیض صاحب پر ایک پروگرام کر رہے تھیا ُس میں کرامت علی صاحب موجود تھے جو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن کے ڈائریکٹر ہیں اوران پر بھی بڑا اثر ہوا اور انہوں نے بھی کہا کہ ہاں یار اس کو پاکستان لے کر جانا ہے تو پھر 2011ء میں اتفاق سے دونوں نے ہمیں بلایا۔ کرامت صاحب نے ہمیں کراچی میں پرفارم کرنے کے لئے بلایا اور منیزہ آپا نے لاہور میں پرفارم کرنے کے لئے بلایا اور اس کے بعد سے یہ جو سلسلہ ہمارا شروع ہوا تو ماشاءاللٰہ ہر سال اب تو ہم پہنچتے ہیں اور اتنا لوگوں کو تنگ کر چکے ہیں داستانوں سے کہ مجھے نہیں لگتا کہ آئندہ وہ ہمیں ضرور بلائیں گے یہاں پر۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 34 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz