خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کی بہبود کا فنڈ


عبد الوہاب

abdul wahabخیبر پختونخوا حکومت نے 505 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں تعلیم، زراعت اور صحت سمیت مواصلات اور کھیل و ثقافت کے لئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ کے مجموعی طور پر اچھا یا برا ہونے پر میں بات نہیں کر سکتا کیونکہ میں کوئی اقتصادیات کا ماہر تو ہوں نہیں۔ حکومت نے اسے صوبے کے لئے مفید جبکہ اپوزیشن نے اسے جعلی، جھوٹ کا پلندہ اور عوام دشمن قرار دیا بلکہ اس دفعہ تو اپوزیشن نے ایک قدم بڑھ کر عدالت جانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔

مگر اس بجٹ کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں خواجہ سراوں کی فنی مہارت کے لئے 20 کروڑ روپے کے فنڈ  مختص کئے گئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی صوبائی حکومت نے ان کے لئے فنڈز مختص کئے ہوں۔ اس کی ایک اہم وجہ کچھ روز قبل خواجہ سرا علیشہ کی ہونے والی موت بھی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لہذا اس داغ کو دھونے کے لئے حکومت نے بلاشبہ ایک مثبت قدم اٹھایا ہے جس کی داد تو دینی ہی پڑے گی کیونکہ خواجہ سرا صرف پختونخوا میں ہی نہیں ہیں بلکہ پورے پاکستان میں تقریباً پانچ لاکھ خواجہ سرا موجود ہیں۔ سندھ بھر میں 13 ہزار 262 خواجہ سرا نادرا کے پاس رجسٹرڈ ہیں جبکہ کراچی میں یہ تعداد ساڑھے سات ہزار ہے۔

سوشل ویلفیئر کے ریکارڈ کے مطابق پنجاب بھر میں  2467  خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 322 کے پاس شناختی کارڈز موجود ہیں جبکہ 2154 کے شناختی کارڈز نہیں بنائے گئے ہے۔

کم از کم کسی صوبائی حکومت نے اس طرف توجہ کرنے کی زحمت تو کی۔ 2009 میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خواجہ سراوں کے حقوق کے حق میں چند اہم فیصلے کیے۔ ان میں شناختی کارڈ میں ان کی جنس کے تعین کا خانہ اور سرکاری ملازمتوں میں ان کے لیے کوٹہ رکھنے اور ووٹ دینے کا حق بھی شامل تھا۔ خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ میں اپنا اندراج ایک تیسری جنس کی حیثیت سے کروانے کا حق 2012 میں ملا۔ جس میں ان کی شناخت ”شیمیل“ کے طور پر کی گئی۔ جس کے بعد سندھ حکومت نے ان کو ملازمتیں مہیا کیں۔ ان میں سے صرف 14 خواجہ سراؤں کو سرکاری نوکریاں دی گئیں جس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کے بعد سندھ حکومت اس مظلوم طبقے کو بھول گئی۔ جبکہ پنجاب میں بھی گڈ گورننس کے دعویدار ایسا کوئی اقدام نہ اٹھا سکے جس کی وجہ سے اس طبقے کو کوئی ریلیف مل سکے۔

 علیشہ کے قتل کے واقعے کے بعد پختونخوا حکومت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کے لئے فنڈ مختص کر کے دوسرے صوبوں کے لئے مشعل راہ بن گئی ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسری صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں معاشرے کی اس تیسری جنس کے حقوق کے لئے کیا کردار ادا کریں گی یا پھر وہ بھی کسی ایسے واقعے کا انتطار کر رہے ہیں جس کے بعد مجبوراََ انہیں کوئی ایسا اقدام اٹھانا ہی پڑے گا۔


Comments

FB Login Required - comments