ہماری خارجہ پالیسی میں کیا خرابی ہے؟


aimal khanپاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے حال ہی میں سینٹ کی دفاع اور خارجہ کمیٹیوں کو مشیر خارجہ اور وزارت دفاع اور خارجہ کے سیکریٹریوں کی بریفنگ کی روداد پڑھ کر یہی سمجھ آتی ہے کہ ہنوز دلی دور است۔ ہمارا زاویہ درست ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

صورتحال کی بہتری کے لئے سرکاری بیگانگی اور بے حسی دیکھ کر جلتے ہوئے روم میں نیرو کا بانسری بجانا یاد آتا ہے۔ پاکستان کے اردگرد علاقائی اور عالمی تزویراتی تبدیلیوں کا دور ہے۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا چار باتوں پر تقریبا اتفاق ہے۔ ایک تو پاکستان کی خارجہ پالیسی تاریخ کی بد ترین ناکامی کا شکار ھے۔ ہماری سفارتی تنہائی بڑھ رہی ہے ۔ چین کو چھوڑ کر ایک ایک کرکے ہم اپنے باقی دوستوں کو گنوا رہے ھیں ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسیاں وزارت خارجہ کی بجائے کوئی اور بنا رہے ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا فوکس معاشی مفادات نہیں ہیں۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا فوکس سیاسی اور نظریاتی امور ہیں۔ ہمیں اپنی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کی ضرورت ھے۔

 آزاد مبصرین اور تجزیہ نگار جس بات کو تسلیم نہیں کرتے وہی بات سینٹ کی خارجہ اور دفاع کی کمیٹیوں کو دہرا دی گئی ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی مضبوط ھے۔ ہم خطرات سے آگاہ ہیں اور ہماری پالیسیاں درست سمت میں ہیں۔

البتہ وزارت خارجہ نے یہ بات کمیٹی میں تسلیم کی کہ خارجہ پالیسی میں معاشی مفادات کی بجائے دیگر معاملات پر فوکس زیادہ رہا۔ یہ بھی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز بھارت رہا ھے۔ یہ بھی سمجھایا گیا کہ چونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز بھارت ھے اس وجہ سے سیکورٹی اسٹبلشمنٹ مشاورت میں شامل ھوتی ھے اور مشاورت میں شرکت کا ھرگز مطلب یہ نہیں کہ پالیسی کو کوئی اور کنٹرول کرتا ھے۔

یہ دعوی بھی کیا گیا ملک کی خارجہ پالیسیاں کوئی اور نہیں بلکہ وزارت خارجہ ہی بنا رہی ھے۔ سینٹ کی کمیٹیوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ اور انڈیا کے گٹھ جوڑ سے ملک دنیا میں تنہا نہیں ھوا بلکہ یورپی یونین ، روس اور چین سے ہمارے شاندار تعلقات ھیں۔

ان ممالک کی فہرست میں جن سے پاکستان کے شاندار تعلقات ھیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک اور ایران کا ذکر نہ کرنا بھی ایک بڑا سوال ہے۔ یہ سوال ان علاقائی تزویراتی تبدیلیوں کا عکاس ہے جن سے ہم دوچار ہیں۔ اس کے باوجود اگر ہمارے پالیسی ساز فہمیوں کی جنت میں رہنا چاہتے ھے تو ان کی مرضی ۔ حقائق انکی خوش فہمیوں کی تصدیق نہیں کرتے۔

خارجہ پالیسی کے تناظر میں کئی اہم ریاستی بیانیوں کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ھے۔ ایک بیانیہ تو پاکستان کی سٹرٹیجک اہمیت کے حوالے سے ھے کہ خطے میں پاکستان کی بہت زیادہ جیو سٹریٹجک اہمیت ھے اور ہمیں کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ جیو سٹرٹیجک اہمیت سے تو انکار نہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیو سٹریٹجک اور جیو پولیٹکل کی بجائے جیو اکنامک معاملات زیادہ اہمیت اختیار کررہے ھیں ۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی کسی حد تک جیو اکنامک اہمیت بھی ھے اور اسی اہمیت کی وجہ سے ہی چین -پاکستان اقتصادی راھداری کا معاہدہ ھوا ۔ مگر اس اہمیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے نہ تو ہماری مناسب تیاریاں ھیں نہ اہلیت ہے اور نہ مطلوبہ صلاحیت۔ اس وسیع النظری کا بھی فقدان جس کی بدولت ہم ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ھیں۔

 جیو-اکنامک اہمیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے علاقائی تعاون کا فروغ ایک اہم وسیلہ ھوتا ھے ۔ مگر پاک-ہند تنازعہ علاقائی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے۔ ہم اکسیویں صدی میں بھی صدیوں پرانی قبائلی سوچ کے حامل ھیں۔ ملکوں کے تعلقات کو بھی قبائل کی دوستتی اور دشمنی کی طرح دیکھتے ہیں۔ ہم تعلقات میں کوئی نئی جہت نیا رشتہ بنانے کی گنجائش نکالنے میں بھی ناکام ہیں۔

ہم اپنے قریبی دوست چین سے بھی کچھ نہیں سیکھتے جو امریکہ انڈیا حتیٰ کہ تائیوان سے شدید اختلافات رکھنے کے باوجود ان سے بھرپور تجارتی تعلقات قائم رکھے ھوئے ہے۔ چین اور انڈیا کی سرحدی تنازعے پر جنگ بھی ہو چکی ھے مگر اس کے باوجود چین-انڈیا کی باہمی تجارت کا حجم چین-پاکستان تجارت سے پانچ گنا زیادہ ھے۔ دونوں ممالک کی تجارت میں اضافے کا رحجان ھے۔

انڈیا کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی سے انکار کے بعد انڈیا نے چاہ بہار کی طرف رخ کر لیا ہے ۔ پاکستان کے پاس کئی آپشنزکے ہوتے ہوئے بھی ہمارے آپشنز محدود ھوتے جارہے ھیں۔ سی پیک کی اہمیت سے انکار نہیں مگر پاکستان کا چین پر انحصار بڑھ رہا ھے جس سے چین کی بارگیننگ پاور مضبوط سے مضبوط تر ھوتی جارہی ھے۔

 سی پیک کتنا فائدہ مند ھوگا یہ تو وقت بتائے گا مگر چین ٹھیکوں ، ٹیکسوں وغیرہ میں جو مراعات لے رہا ھے اور جس طریقے اور جس پیمانے پر وہ اپنی انسانی اور مادی وسائل چین سے لا رہا ھے اس سے مقامی روزگار اور کاروبار کے مواقع پر آنے والے متوقع پریشر کے بارے میں ابھی سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے۔

چینی کمپنیوں اور خاص کر درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کی کاروباری اخلاقیات کے بارے میں ساری دنیا میں شکایات عام ھیں۔ کاروباری معاملات میں کئی حوالوں سے انہیں کھرا نہیں سمجھا جاتا ۔

خدشہ ھے کہ چین ہمارے لئے ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت نہ ھو۔ تجربہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے چھوٹے اور بڑے حکمران اچھے مذاکرات کار ثابت نہیں ہوئے ہیں ۔ اگر یہی روایت برقرار رہی اور اس اہم موقع پر بھی اچھی بارگیننگ نہ کی گئی تو اس منصوبے کے فوائد کم اورنقصان کہیں زیادہ ھوگا۔

یہ بھی خدشہ ھے کہ ماضی کی طرح حکمران یا اس کے حواری ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح نہ دے دیں ۔ قبائلی سوچ کا ایک اور شاندار عکس نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال کی دھمکی پر مبنی نیا بیانیہ ھے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر بھارت کی جانب امریکی جھکاؤ خطے میں عدم توازن کا باعث بنا تو پاکستان کے پاس نیوکلیئر کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

بدقسمتی سے دنیا ہم کو نیوکلیئر ھتھیاروں کے حوالے سے ایک غیر ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھتی ھے۔ایسے بیان دے کر ہم خود کو مزید مشکوک ہی کر رہے ہیں۔ایسے بیانوں سے ہمارے غیر ذمہ دار ہونے کے تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے۔ ایک مہذب اور باوقار قوم کی حیثیت سے پاکستان کو امن پسند بیانیہ سامنے لانا چاہیے۔ یہ جنگجو قسم کے دھمکی آمیز اور ھتھیاروں کے استعمال کے بیانات ہمارے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں بنا رہے ۔

ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں بدلتی ھوئی تزویراتی صورتحال میں ہماری بے بسی اور ذہنی فرسودگی کو ظاہر کرتی ہیں جہاں تک پالیسی سازی کا تعلق ھے تو اس کی محدود بنیاد کی وجہ سے اس حوالے سے عوام میں حس ملکیت ( sense of ownership)  نہ ھونے کے برابر ھے۔ جس کی وجہ سے عوام ان پالیسیوں سے لاتعلق نظر آتے ھیں ۔

پالیسی سازی کے عمل کو وسیع البنیاد کرنے اس میں تمام سٹیک ہولڈر سرکاری غیر سرکاری کی مشاورت بہت ضروری ہے۔ اس طرح باقی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کیلیے ہمیں معاشی مفادات کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنانا ہوگا ۔ یہ لوگوں کی حالت میں بہتری لائے گا اور دنیا کو ہمارے متعلق اچھا پیغام دے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments