مجھے نابینا کر دو


yousaf Benjaminیہی کوئی دو سال کے لگ بھگ عمر ہو گی میری اُس وقت، جب ایک حادثہ میں میری آنکھوں کی بینائی اور اماں دونوں ہمیشہ کے لئے روٹھ گئیں۔ ابا نے فالج کا حملہ ہونے سے پہلے کوئی دو ایک بار بتایا تھاکہ اُس سال ہمارے گاﺅں میں بڑے زور کا ہڑ (سیلاب) آیا تھا۔ اماں مجھے گود میں لئے کچھ بُن رہی تھی جب ہمارے گھر کے باہر والے کمرے کی کچی چھت دھڑم سے نیچے آن گری تھی۔ چھت اماں کے اوپر تھی، اماں میرے اوپر، میں اماں کے نیچے مگر محفوظ۔ اماں نے مجھے سینے سے لگائے رکھا، جان دے کے جان بچا گئی، ماں جو تھی! جان تو دینی ہی تھی۔

ابا کہتا تھا اُس نے میری آنکھوں کا شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال سے بہت علاج کروایا مگر میں پھر بھی کچھ دیکھنے کے قابل نہ بن سکا۔ ہسپتال والوں نے جواب دے دیا تھا۔ پتہ نہیں ابا سچا تھا یا ڈاکٹری۔ چھت کے حاد ثہ میں اماں نے مجھے بچا تو ضرور لیا مگر پھر ادھورا چھوڑ گئی۔

پچیس سالہ لکی کی آنکھ آج شدتِ غم سے یا شاید ساری آرزوئیں بر آنے کی خوشی کا سوچ کر خشک ہی نہیں ہو رہی تھیں۔ کسی مخیر شخص کی خدا ترسی کی بدولت آج لکی کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا تھا۔ لکی کی آنکھوں کا آپریشن اور بقیہ زندگی کا امتحان ہونے والا تھا۔ لکی ہر لمحے میرا ہاتھ  دبا کے اپنائیت کا اظہار کرتا ، لمحہ بھر خاموش رہتا اور پھر دل کا کوئی پھوڑا نکال لاتا۔ وہ مسلسل بولے جا رہا تھا:

”زندگی بھر پچھتاوا رہے گا کہ اماں ابا کی صورت نہیں دیکھی۔

گاﺅں کی ہریالی، سرسوں کے کھیت نہیں دیکھے ۔

 گلاب، چنبیلی ، نرگس کے پھول نہیں دیکھے ۔

تتلی اور جُگنو پکڑنا کیسا ہوتا ہے؟

جب گھٹائیں چھا جائیں تو موسم کیسا لگتا ہے؟

چھُپن چھُپائی اور گُلی ڈنڈا کھیلنے کا کیا مزا ہوتا ہے؟

جہاز کتنا بڑا ہوتا ہے؟

شادی، مہندی اور بارات کیسی لگتی ہے؟

اب میں یہ سب اپنی آنکھ سے دیکھوں گا۔

کتنا مزا آئے گا؟ ساری خوشیاں سمیٹوں گا اِن آنکھوں میں میں “۔

لکی کے سوالوں اور خواہشوں میں شدت آتی جاتی تھی اور میں کبھی لکی کو دیکھتا کبھی اُس کے اندازوں کو سوچتا۔ بینائی سے محروم اِن آنکھوں میں نجانے وہ کیا کیا خواب بُن کے بیٹھا تھا۔

”زندگی خوبصورت ہے نا؟

دنیا مزے کی ہے نا بھائی؟ بولو نا بھائی، دنیا مزے کی ہے نا؟

سب ایک دوسرے سے پیار کرتے اور دوسروں کا خیال رکھتے ہیں نا؟

ان چبھتے سوالوں کے میں اُسے کیا جواب دیتا؟ اچھا ہوا کہ نرس آئی اور لکی کو ٹرالی پر لٹا کر آپریش تھیٹر لے گئی۔

لکی سچ مُچ لکی ثابت ہوا۔ آپریشن کامیاب ہوا تو خوشیاں دیدنی تھیں۔ اُس کے من میں سارے رشتوں کا پیار سمیٹنے کا احساس جاگ رہا تھا۔ اُسے اُس کے سارے سوالوں کے جواب ملنے والے تھے۔ وہ زندگی اور دنیا کی رنگینیاں دیکھنے والا تھا۔

لکی کی بینائی بحال ہوئے محض ایک ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ دوست احباب ، ڈاکٹر نرسیں سب لکی کے مطالبے پر حیران و پریشان ہونے لگے ہیں۔ لکی پھر سے نابینا ہونا چاہتا ہے۔وہ دنیا دیکھ کر پچھتانے اور رونے لگا ہے ۔ بس ایک ماہ کی دنیا سے ہی اُس کا دل بھر گیا ہے۔ لکی کا کہنا ہے کہ اس دنیا کو نہ دیکھنے والا ہی اصل لکی (LUCKY) ہے

لکی کہتا ہے مجھے نہیں دیکھنی اٹک کی عنبرین کی دنیا، مری کی امبر کی دنیا، لاہور کی زینت کی دنیا اور ملتان کی زہر آلود ماں کی دنیا۔ ’غیر ت مندوں‘ کی یہ دنیا آنکھوں والوں کو مبارک، مجھے میرا اندھا پن، ادھورا پن ، نا بینا پن لوٹا دو۔ مجھے پھر سے نابینا کر دو۔


Comments

FB Login Required - comments