کرکٹر سے نغمہ نگار تک کا سفر


جلیس شیروانی کے قلمی سفر کی ابتدا بہت دل چسپ ہے؛ بچپن میں علی گڑھ میں ان کے پڑوس میں مجروح گورکھپوری، آل احمد سرور اور بشیر بدر سے ملنے بہت سارے لوگ آیا کرتے تھے؛ یہ چہل پہل دیکھ کر ان کا بھی من ہوا کہ میری بھی ٹھیک اسی طرح لوگوں میں عزت ہونی چاہیے۔ پر جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ سبھی تو شاعر و ادیب ہیں، تب انھوں نے سوچا کہ پھر تو مجھے بھی شاعر و ادیب بننا ہو گا؛ اور یوں انھوں نے لکھنے پڑھنے کا آغاز کیا۔
یہ روز کچھ روپے خرچ کر کے چائے کا اہتمام کرتے، یار دوستوں کو اپنی شاعری سنانے کے لئے بلوا لیتے اور یوں واہ وا سننے کو ملتی۔ لیکن ایک دن انھیں خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ واہ وا انھیں چائے کی وجہ سے مل رہی ہے۔ تب ایک دن انھوں نے چائے کا اہتمام نہیں کیا لیکن جب یار دوست آ گئے تو انھوں نے بغیر چائے کے شاعری سنانی شروع کر دی لیکن پھر بھی یار دوستوں نے انھیں ڈھیروں داد دی۔ اور یوں ان کا خود پر اعتماد مزید بڑھ گیا۔ پھر وہ استادوں کو اپنی شاعری دکھانے لگے تو انھیں کہا گیا کہ بیٹے محنت کرتے رہو، اچھا آغاز ہے؛ آگے بہتر ہو جاو گے۔
بالی ووڈ کے نغمہ نگار، ڈائیلاگ رائٹر اور شاعر جلیس شیروانی کا جنم جولائی 1954 کو اتر پردیش کاس گنج میں ایک شیروانی نسل پٹھان خاندان میں ہوا۔ ان کے والد کا نام انیس احمد شیروانی تھا، جن کا پورا خاندان تقسیم ہند کے بعد پاکستان کراچی منتقل ہو گیا، لیکن وہ خود ہندوستان میں رہ گئے۔ جلیس شیروانی نے ابتدائی تعلیم کاس گنج سے اور اعلی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ جب وہ نویں کلاس میں پہنچے تو وہاں کے ایک لوکل میگزین میں ان کا پہلا افسانہ چھپا۔ یہ ان کی زندگی کا بڑا دِن تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھیں علی گڑھ سے بچھڑنا پڑا اور خاندان کے ہم راہ اپنے گاؤں جانا پڑ گیا۔ وہ علی گڑھ کی ادبی فضا سے محروم ہو گئے۔
گاؤں جا کر جلیس شیروانی نے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ جلیس شیروانی آل راؤنڈر تھے لیکن فاسٹ باولر کے طور پر زیادہ مشہور ہوئے؛ اسی لئے ان کا نام ’قسائی‘ پڑ گیا؛ کیوں کہ بمشکل ہی کوئی بلے باز ان کے سامنے ٹک پاتا تھا۔ بعد میں وہ متھرا اور آگرہ کی ٹیموں کے لئے سو روپے کے عوض ایک میچ کھیلنے لگے۔ اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت انھوں نے بہت سی ٹرافیاں اور انعامات بھی جیتے۔
ان دنوں جلیس شیروانی نوجوانی سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ ان کی زندہ دلی مثالی تھی۔ باپ امیر تھے اس لئے ان کے پاس گاڑی بھی تھی، جسے وہ ہاتھ کے بجاٰئے انگلی لگا کر چلایا کرتے تھے۔ جب کبھی باہر سے واپس گاؤں آتے تو دو میل دور سے ہارن بجانا شروع کر دیتے۔ یوں دور سے گاؤں والوں کو معلوم پڑ جاتا تھا، کہ اپنے جلیس میاں گاؤں پہنچ گئے ہیں۔
جسم میں پٹھان خون ہونے کی وجہ سے جلیس شیروانی گرم مزاج بھی تھے۔ ایک دن گاؤں میں ان کی کسی سے ان بن ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ 1979 میں مجبوراً گاؤں چھوڑ کر بمبئی (حالیہ ممبئی) چلے آئے۔ وہاں ایک اسٹور میں تین سال تک کام کرتے رہے۔ جب وہ اسٹور بند ہوا تو وہ سڑک پر آ گئے۔ ایسے میں وہ بوریت دور کرنے کے لئے روزانہ ٹرین میں بیٹھ کر سفر کرتے، اور شام واپس بمبئی آ کر فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر سو جاتے۔ ان دنوں انھوں نے واپس ادبی دنیا کا رخ کیا اور خود کو سنبھالنے لگے۔
شروعات میں وہ صحافت کرنے لگے اور ساتھ ہی ’بیسویں صدی‘ اور ’نئی دنیا‘ سمیت بہت سارے رسالوں کے لئے لکھنا شروع کیا۔ ’نئی صدی‘ کے لئے وہ مکالمے لکھتے تھے، جس کے مدیر مولانا وحید الدین صدیقی تھے، جو انھیں بہت سراہا کرتے۔ بعد میں جلیس شیروانی نے ڈرامے لکھے اور خود بھی ان ڈراموں میں کام کیا۔
شروعات میں جلیس شیروانی کے طبیعت میں باغیانہ پن کا عنصر شامل تھا؛ وہ ہر اس سسٹم کے ہر اس اقدام کے خلاف تھے، جو زبرستی یا آپ کی مرضی کے خلاف آپ پر تھوپ دیا جاتا ہے۔ وہ شخصی ازادی کے قائل تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر میں اپ کی کسی بات نہ مانوں تو یہ جرم نہیں۔ میری زندگی میری مرضی، میں کسی کو نقصان تو نہیں دے رہا۔ اور ان کی یہ بغاوت شروعاتی دور کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔
ہمارے خدا پہ بھروسا ہے ہم کو
ہمارے لئے کیوں پریشان ہو تم
خوش قسمتی سے شروعات ہی میں انھیں ان کے مزاج کے مطابق فلمیں بھی مل گئیں، جو زیادہ تر سسٹم سے بغاوت پر بنی تھیں، یہ بیش تر ایکشن فلمیں تھیں، لیکن بعد میں بھی وہ ایکشن فلموں کے لئے ڈائیلاگ لکھتے رہے۔
ان فلموں میں ’پراتیگھاٹ‘ (1987)، ’کنور لال‘ (1988)، ’ہتھیارے‘ (1989)، ’سنگرام‘ (1993)، ’گیم‘ (1993)، ’مافیا‘ (1996)، ’لوفر‘ (1996)، ’ایک تھا راجا‘ (1996)، ’مریتیو داتا‘ (1997)، ’ہفتہ وصولی‘ (1998)، ’اکروش‘ (1998)، ’باغی‘ (2000)، اور ’انتقام‘ (2003) شامل ہیں، جن کے ڈائیلاگ انھوں نے لکھے۔
جلیس شیروانی نے اپنی کیریئر میں 75 فلموں میں، کسی کے ڈائیلاگ تو کسی کی کہانی اور کسی کے گانے لکھے۔ یوں تو ان کی شناخت ایکشن فلموں میں بطور ڈائیلاگ رائٹر رہی ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے رومانی فلموں کے لئے بھی لکھا۔ بعد میں انھوں نے مشہور نغمہ نگار نقش لائل پوری مرحوم کے مشورے پر فلموں کے لئے گانے لکھنا شروع کردیے؛ کیوں کہ وہ انھیں اچھا شاعر مانتے تھے۔ جب انھوں نے اپنی شاعری کا جادو فلموں میں دکھایا تو پھر انھوں نے بہت سے مشہور گانے لکھے۔
جن فلموں کے لئے انھوں نے گانے لکھے ان میں ’ہم تمھارے ہیں صنم‘، ’تیرے نام‘، ’پارٹنر‘، ’ہیلو‘، ’وانٹڈ‘، ’پینگ گیسٹ‘، ’ڈھونڈتے رہ جاو گے‘، ’دبنگ‘، ’تم کو بھول نہ پائیں گے‘، ’میں نے دل تجھ کو دیا‘، ’معشوقہ‘، ’ہم تمھارے ہیں صنم‘، ’گرؤ‘، ’میں اور مسز کھنا‘، ’دی کلر‘، ’مجھ سے شادی کرو گی‘، ’ویل کم‘، ’کیا یہ پیار ہے‘، ’چشم بدور‘، ’دبنگ ٹو‘، ’دبنگ تھری‘، اور ’ٹائیگر زندہ ہے‘۔ فلم ’دبنگ‘ کے لئے ان کا لکھا گیت ’ہوڑ ہوڑ دبنگ دبنگ‘، بہت مشہور ہوا۔ اس گیت کو لکھنے کی کہانی بھی بہت دل چسپ ہے۔
جلیس شیروانی معروف اداکار قادر خان کے اچھے دوست ہیں؛ وہ انھیں استاد بھی مانتے ہیں، کیوں کہ اداکار قادر خان اپنے دور میں بڑے اچھے ڈائیلاگ رائٹر بھی رہے ہیں۔ عام زندگی میں قادر خان کے بولنے میں بڑبڑاتے ہوئے، “ہوڑ” کا لفظ ضرور آتا تھا۔ وہیں سے یہ لفظ جلیس شیروانی کے ذہن میں آٹکا ہوا تھا۔ جلیس شیروانی کی سلمان خان کے ساتھ ذہنی ہم اہنگی تھی، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سلمان خان کی اکیس فلموں کے گیت لکھے۔
جلیس شیروانی کی مادری زبان اردو ہے، لیکن تعلیم انھوں نے ہندی اور اردو دونوں میں حاصل کی۔ اس لیے انھوں نے اردو ہندی دونوں میں خوب لکھا۔ جس کا ترجمہ بھی وہ خود کر لیا کرتے تھے۔ جب وہ فلم انڈسٹری آئے تو انھوں نے پنجابی اور انگریزی بھی سیکھ لی۔ پھر انھوں نے اردو ہندی کے ساتھ ساتھ پنجابی اور انگریزی میں بھی گانے لکھے۔
جلیس شیروانی کے لکھے ہوئے چند مشہور گانوں میں، ’میں منگیا سی منتاں وے منتاں‘، تو جو ملے جنڈری جنتاں وے جنتاں‘، ’چوری کیا رے جیا‘، ’یہاں بھی ہو گا وہاں بھی ہو گا جلوا‘، ’منی بد نام ہوئی‘، ’لو می لو می‘، ’سوہنی دے نخرے سوہنے لگدے‘، ’پھرتا رہوں در بدر ملتا نہیں تیرا نشان‘، ’رب کرے تجھ کو بھی پیار ہو جائے‘، ’دل کو چرایا تم نے صنم‘، ’مجھ سے شادی کرو گی‘، ’لال دُپٹا اُڑ گیا بیری ہوا کے جھونکوں سے‘، ’جینے کے ہیں چار دن‘، ’بینگ بینگ زمانہ بولے‘، ’تاروں کو محبت امبر سے‘، ’پانڈے جی سیٹی‘، ’رلے بے بی ڈانس وانس‘، اور ’لگن لگ گئی‘ شامل ہیں۔
جلیس شیروانی 1990 سے 1993 رائٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور بعد میں 2008 سے 2012 اور 2014 سے 2016 تک فلم رائٹر ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے اور سوشل ایکٹوسٹ کے طور پر بھی وہ بہت سرگرم دکھائی دیے۔ وہ پروگریسو فاونڈیشن کے ممبر اور چند ٹی وی شوز کے جیوری ممبر بھی رہے۔ جلیس شیروانی نے فلموں کے لئے لکھنے کے ساتھ ساتھ اداکاری بھی کی۔ 1993 کی فلم ’گیم‘ میں وہ ایوب خان کے کردار میں نظر آئے۔ 1993 ہی میں گلشن نندا کے ناول پر بنی فلم ’کلانکینی‘ میں وہ نظر آئے اور اس فلم کی اسکرین پلے بھی انھوں نے لکھا۔ 2009 میں فلم ’تھینکس ماں‘ میں بھی ایک مختصر کردار میں نظر آئے۔ 2010 کی فلم ’تم جو ملے‘، میں بھی کام کیا۔
اگر جلیس شیروانی کی نجی زندگی کا رخ کیا جائے تو انھیں 1987 میں پہلی فلم ’پراتیگھاٹ‘ میں کام ملا، تو اسی سال انھوں نے اپنی کرسچن دوست رانی سے شادی کر لی، جو شادی کے بعد رانی شیروانی کہلانے لگی۔ رانی شیروانی انڈو فرنچ ہے اور شادی سے پہلے وہ ممبئی میں ایک امریکی کمپنی میں ملازمت کر رہی تھی۔
جلیس اور رانی نے ایک دوسرے کا مذہب نہیں اپنایا اور دونوں کی اس شادی سے کوئی اولاد بھی نہیں ہے۔ جلیس شیروانی کی سب سے دل چسپ بات یہ تھی، کہ وہ غرور سے پاک انسان تھے۔ وہ نہایت خود دار اور اپنے اصولوں پر چلنے والے انسان تھے، جدید دور کے ساتھ انہوں نے پیسوں کے لئے ماڈرن گانے بھی لکھے، لیکن کبھی ان گانوں پر فخر نہیں کیا۔ وہ کہتے تھے جب میں ہر طرف سے شانتی کا ماحول پاتا ہوں، تب میں وہی لکھتا ہوں جو میرا جی چاہتا ہے؛ جس پر میں ناز کر سکتا ہوں۔ اور غرور سے بچنے کی تلقین انھیں ماں کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی کسی مشاعرے میں جاتے تو آغاز اپنے اس شعر سے ضرور کرتے تھے۔
بچپن میں میری ماں نے بڑا کام کر دیا
دل سے غرور چھین کر اخلاص بھر دیا
غرور سے بچنے کی تاکید ان کے اشعار میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔
چڑھتے ہوئے تیور کا انجام اترنا ہے
ہر شام تکبّر سے سورج یہی کہتا ہے
ایک اور جگہ کہتے ہیں:
خود کو سورج ماننے والے
دیکھ، وہ سورج ڈوب رہا ہے
جلیس شیروانی کو اردو زبان سے انتہا کی محبت تھی، اپنے ایک شعر میں اردو سے محبت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں۔
کیسی تہذیب سکھا دی ہمیں اردو نے جلیس!
کس قدر ٹوٹ کے ہم اہلِ زباں ملتے ہیں
جلیس شیروانی نے یوں تو زندگی میں بہت کچھ پایا، لیکن جب ایک ٹی وی انٹریو میں معروف اینکر اشرف کریم نے ان سے پوچھا، کہ زندگی دوبارہ جینے کو ملے تو زندگی کا وہ کون سا صفحہ ادھورا رہ گیا ہے، جسے آپ مکمل کرنا چاہیں گے۔ جس پر انھوں نے آب دیدہ ہوتے ہوئے جواب دیا، کہ اگر دوبارہ زندگی جینے کو ملے تو ایک ہی صفحہ خالی پڑا ہے اور وہ ہے ماں باپ کی خدمت، جو میں نہیں کر سکا۔ جلیس شیروانی کو شوگر کا عارضہ لاحق تھا لیکن پھر بھی وہ خاصے تن درست نظر اتے تھے۔ یکم اگست 2018 کو انھیں دل کا دورہ پڑا، بیوی رانی انھیں اسپتال پہنچا رہی تھیں کہ راستے میں انھوں نے اپنی آخری سانس لی۔ جلیس شیروانی کو ممبئی کے علاقے اوشیورا کے قبرستان میں رات کے وقت سپرد خاک کیا گیا۔
اداکار اگر کام یاب ہوتے ہیں، تو ان کے پیچھے قلم کار اور ہدایت کار کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے، لیکن افسوس جب کوئی ہدایت کار یا قلم کار دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو یہ بڑے اداکار اپنے محسنوں کو الوداع کہنے بھی نہیں جاتے۔ جلیس شیروانی کے جنازے میں فلم انڈسٹری سے ان کے دوست اداکار رضا مراد، موسیقار ساجد واجد اور قلم کار دوستوں میں دلیپ شکلا، وسیم صدیقی اور دیگر قریبی احباب نے شرکت کی۔ لیکن فلم انڈسٹری سے سلمان خان جن کی اکیس فلموں کے گانے جلیس شیرانی نے لکھے، سمیت کوئی بھی بڑا نام انھیں الوداع کہنے نہیں آیا۔ جلیس شیروانی کے لکھے ڈائیلاگ ہوں، یا ان کے لکھے ہوئے گانے یا پھر ان کی شاعری، اس کی وجہ سے وہ ادب دوست اور فلم بینوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
یہاں جلیس شیروانی کے چند اشعار نمونے کے طور پر پیش خدمت کر رہا ہوں۔
غزل جہاد مسلسل سے کم نہیں ہوتی
جگر کا خون پلاؤ تو شعر ڈھلتا ہے
تیرے پہلو سے میرا درد تو گزرا ہی نہیں
اس لئے تیری غزل میں میرا  لہجہ ہی نہیں
دنیا کی رونقوں سے بہلنے لگا ہوں میں
اے آرزوِ دوست مجھے پھر نڈھال کر
ہم کو تسلّی دینے والو
کیا جانو کیا بیت گیا ہے
جسے میں ڈھونڈتا پھرتا تھا اوروں کے رویے میں
وہی احساس ناکامی میرے اندر کہیں نکلا
میں لوٹ آیا اجل کے در سے جینے کی دعا لے کر
میری معصوم بٹیا کا بہت کامل یقیں نکلا
جہاں امّید روشن تھی اندھیرا بھی وہیں نکلا
کبھی تو ہم نہیں جاگے کبھی سورج نہیں نکلا
ہوا کے رخ پہ کئی کروٹیں بدلتا ہے
زرا سی جان ہے پھر بھی چراغ جلتا ہے
جلیس آگہی کی وہ منزل تو آ گئی
کہ دل خود سے خود کو جدا مانتا ہے
بڑی مدت سے دل میں پل رہے ہیں
یہ آنسو جو غزل میں ڈھل رہتے ہیں
فن کاروں نے بازار ادب جب سے سجایا
ہم ایسے قلم کاروں نے فن چھوڑ دیا ہے
تمام لوگ مجھے دے رہے تھے خیراتیں
مجھے تھی بھوک فقط آپ کے نوالے کی
ہوش کہتا ہے وفا ان میں نہیں
مگر دل ان کی حمایت کر رہا ہے
جلیس شیروانی سے آپ کی ملاقات ہو چکی، اب وہ اپنے اس شعر میں آپ سبھی سے رخصتی چاہتے ہیں۔
مجھے لحد میں سلانے کا شکریہ لوگو
ہمارا ساتھ یہیں پر تمام ہوتا ہے
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں