نیوکلیئر معاملات اور پاکستان کا اضطراب


irshad mehmoodپاکستان اور بھارت کے مابین ایک اور سفارتی اور سیاسی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ اسلام آباد نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بھرپور سفارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کئی طاقتور ممالک کے وزراء خارجہ کو ٹیلی فون کرکے آگاہ کیا کہ پاکستان کو اس گروپ سے باہر رکھ کر محض بھارت کو استشنی نہ دیاجائے کیونکہ یہ اقدام خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کا سبب بنے گا۔ چند ہفتے قبل پاکستان نے بھی نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت کے لیے درخواست داخل کرا دی ہے۔ اب امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کوشش کررہے ہیں کہ کانگریس اور اوباما انتظامیہ پاکستان کی بھی اسی طرح حمایت کریں جس طرح وہ بھارت کی کر رہی ہیں۔

عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ جس طرح بھارت کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت دلانے کے لیے کمر بستہ ہیں اس نے پاکستان میں سخت سراسیمگی کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ اگر بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بن گیا تو جوہری ہتھیاروں کےمعاملے پر بننےوالےعالمی قوانین میں وہ برابر کا شریک کار ہو گا اور پاکستان کے لیے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت ناممکن بنا دے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان جوہری بجلی گھروں سے اگلے پنتیس برسوں میں پچاس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ فی الحال وہ اگلے چند برسوں میں جوہری بجلی گھروں سے دو ہزار میگاواٹ تک بجلی حاصل کرنا شروع ہوجائے گا۔ اگر وہ مزید بجلی گھر لگانا چاہتا ہے یا ان کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت اور عالمی اداروں کا تعاون درکار ہے۔

اسلام آباد کو یہ بھی خدشہ ہے اگر بھارت کو نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت مل گئی تو اس کا رویہ اور پاکستان مخالف طرزعمل مزید جارحانہ اورسخت گیر ہوجائے گا۔ دوطرفہ تنازعات حل کرنے کے لیے اس پر کوئی قابل ذکر دباؤنہیں رہے گا۔ خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ چونکہ پاکستان کے وسائل، رقبہ اور آبادی کم ہے لہذا اس کاانحصار لامحالہ جوہری ہتھیاروں پر بڑھتا جائے گا اور جو عالمی طاقتوں کو ناگوار گزرے گا لہذا وہ پاکستان کے خلاف یک طرفہ پابندیاں عائد کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔

حالیہ چند ماہ میں بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی بالخصوص افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی اور دفاعی معاہدوں نے بھی پاکستان کو زبردست دباؤ کا شکار کیا ہے۔ اکثر ماہرین ان معاہدوں کو پاکستان کے گرد محاصرہ تنگ کرنے کی ایک لمبی منصوبہ بندی کا حصہ قراردیتے ہیں۔ بدقسمتی سے تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات بہتر نہیں ہوسکے۔ صدر اشرف غنی کی حکومت پاکستان سے سخت مایوس اوربدل ہے۔ کابل میں پاکستان مخالف لابی سرگرم ہے اور پالیسی سازی کے عمل میں حاوی ہو چکی ہے۔ امریکہ میں بھی پاکستان مخالف لابی عام الیکشن سے قبل ہی غالب آنا شروع ہوگئی ہے۔ ملامنصور اختر کی کوئٹہ کے قریب ہلاکت اور پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کے شواہد نے امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے سخت الجھن کا شکار کر دیا ہے۔ وہ پاکستان کی فراہم کی جانے والی امداد وغیرہ کا سلسلہ بھی اب بتدریج بند کرتے جارہے ہیں۔

امریکہ کو پاکستان اور چین کے مابین غیر معمولی دفاعی، سیاسی اور سفارتی قربت بھی پسند نہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ میں کھل کر کہا کہ وہ چین اور پاکستان کو مل کو خطے پر بالادستی قائم نہیں کرنے دیں گے۔ کانگریس کے ساتھ خطاب میں مودی نے کہا: امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک تعاون ان لوگوں کو تنہا کرے گا جو دہشت گردوں کو پناہ،تعاون اور سرپرستی فراہم کرتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے مابین جنوبی چین سمندر پر جاری تنازع میں انہوں نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

امریکہ اور بھارت کے مابین تعلقات کو نریندر مودی کی حکومت نے ایک نئی جہت دی ہے۔ وہ چین اور پاکستان مخالف وسیع سیاسی، سفارتی اور فوجی اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ چند ماہ اور برسوں میں جاپان، آسڑیلیا حتی کہ ویت نام کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان ممالک کے چین کے ساتھ مختلف امور پر تنازعات ہیں۔ یہ کوشش بھی جا رہی ہے کہ ان ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں کی جائیں۔ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکہ اور بھارت ایک طویل المعیاد منصوبہ بندی پر گامزن ہیں۔

24-23 جون کو نیوکلیئرسپلائر گروپ کی فیصلہ کن میٹنگ ہوگی جہاں بھارت اور پاکستان کی 48 رکنی گروپ میں شمولیت بارے فیصلہ کیا جائے گا۔ چین کی طرف سے ابھی تک بھارت کی گروپ میں حمایت کا کوئی عندیہ نہیں ملا۔ بھارت کو امید ہے کہ امریکہ چین کو راضی کرنے میں کردارادا کرے گا۔ لیکن دقت یہ ہے کہ اس وقت امریکہ اور چین کے تعلقات ایسے نہیں ہیں کہ صدر بارک اوباما چینی صدر سے بات کرسکیں اور انہیں راضی کرسکیں۔

چین کی مخالفت کی نتیجے میں بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں رکنیت تعطل کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک اور زیادہ قریب آجائیں گے۔ جہاں تک پاکستان کی درخواست کا تعلق ہے اس پر کوئی پیش رفت ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان کو کوئی خاطرخواہ حمایت کسی بھی سطح پر نظر نہیں آتی ہے۔

پاکستان کی سرگرم مخالفت نے پاک بھارت تعلقات میں پائی جانے والی تلخی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ نے پاکستان پر سخت نکتہ چینی کی اور پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا۔ ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے ذمہ داران کو سزا دینے اور کشمیر کو عالمی فورمز پر نہ اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کے مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کاکوئی موقع ہی نہیں پیدا کیا۔ ان کا یہی بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں۔

نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارت کو رکنیت ملے یا نہ ملے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جلدازجلد تعلقات میں بہتری کے امکانات محدود ہیں۔ پاکستان کا کشمیر پر موقف روز بہ روز سخت ہوتا جا رہا ہے اور لب ولہجہ میں تلخی نمایاں ہے۔ آزادکشمیر کے الیکشن کے تناظر میں بھی حکومت بھارت کے تئیں کوئی نرمی نہیں دکھا سکتی۔ بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان مسلسل وزیراعظم نواز شریف کو بھارت نواز وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ داخلی سیاست اور خارجی ماحول ایسا ہے کہ اس میں کشیدگی کے بڑھنے کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 25 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood