کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں


naseer nasirزیادہ تر مار دیے گئے
تشدد کے بعد
کچھ بھون دیے گئے
آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ
اور پھینک دیے گئے اجتماعی قبروں میں
کچھ کی آنکھوں پر
سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں
وہ مرتے ہوئے خود کو بھی نہ دیکھ سکے
کچھ سرحدیں پار کرتے ہوئے
محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے
کچھ کھلے سمندروں میں
ڈوب گئے
اُن میں بچے بھی تھے
بوڑھے اور جوان مرد بھی
لڑکیاں اور عورتیں بھی
کسی کے ہاتھوں پہ لمس تھا
کسی کے ہونٹوں پہ پھول
کسی کی آنکھوں میں خواب
کسی کے سینے میں امید
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ مہاجر کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

  • 18-06-2016 at 2:08 am
    Permalink

    محترم جناب نصیر احمد ناصر صاحب، آپ نے اپنی نظم میں عصر حاضر کے جس سب سے بڑے المیہ کو قلم بند کیا ہے ہم یہاں یورپ میں اسے ہر گھنٹے بعد ٹی وی خبروں میں اپنی آنکھوں سے رونما ہوتے دیکھتے ہیں ۔ آپ کی نظم، ترکی سے یونان اور وہاں سے اٹلی کے ساحلوں تک کے ان مناظر کی مکمل عکس بندی کرتی ہے جو ہجرت کرنے والے مجبور انسانوں کی زندگیاں نگل جاتے ہیں ۔ شمالی افریقہ، لیبیا، صومالیہ اورمراکش کے ساحلوں سے لے کر جبل الطارق، ہسپانیہ کے سمندری ساحلوں تک یہ مناظر پھیلے ہوئے ہیں ۔ اردو میں اس موضوع پر یہ پہلی نظم ہے جو میری نظر سے گزری ہے۔ شائد کسی اورنے بھی اس موضوع پر لکھا ہو لیکن مجھے معلوم نہیں ، آپ کی نظم ایک بڑے حساس دل کی دھڑکن محسوس ہوتی ہے اورعصر حاضر کے المیہ کا نوحہ بھی۔

Comments are closed.