’’ہائے میری بھنڈیاں اور وہ جو دکان اپنی بڑھا گئے‘‘


خواتین و حضرات! میرے ساتھ کچھ ہمدردی کے بول بولئے کہ میرے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا ہے۔ یوں کہیے بہت زیادتی ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں جو کھلی بغاوتیں ہوئیں۔ شورش پسندوں نے پورے پاکستان میں ناکے لگا کر ناک میں دم کر دیا۔ شاہراہیں بند‘ سکول بند اور عوام الناس گھروں میں بند۔ پٹرول کی نایابی اور دھندے والے حضرات کی کامیابی ۔

یہاں تک کہ سبزیاں کمیاب۔ دنگا کرنے والے اتنے کامیاب اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو شاید برداشت جواب نہ دیتی لیکن آہنی راڈوں سے مسلح جانثاروں نے بسیں نذر آتش کر دیں۔ بچوں اور عورتوں کو کاروں میں سے نکال کر ان کاروں کو آگ لگا دی۔ اب ذرا غور کیجئے کہ اس عمل میں کتنی درد مندی اور انسان دوستی کے پہلو ہیں۔

یعنی یہ لوگ نہایت آسانی سے یہ پرواہ کئے بغیر کہ کار میں کون ہے، اسے نذر آتش کر سکتے تھے کہ ایک عظیم مقصد کے لیے ایسی قربانیاں شرعی طور پر جائز ہیں لیکن نہیں، یہ لوگ انسانی اخوت پر یقین رکھتے تھے نہایت نرم دل تھے چنانچہ انہوں نے یہاں اس کار میں بیٹھے ہوئے بچوں اور عورتوں کو نہائت احترام سے باہر نکلنے کی اجازت دی اور پھر ان کی کار میں پٹرول پھینک کر آگ لگا دی۔

اگر آپ اب بھی ان لوگوں کو ظالم کہتے ہیں تو نہایت کم عقل اور بے ہودہ ہیں۔ یہ وقوعہ میں نے نہ تو کسی ویڈیو پر دیکھا اور نہ ہی کسی اخبار میں پڑھا۔ مجھے براہ راست اس کے متاثرین کی مدد کرنے والے نوجوان نے بتایا جو میرے بیٹے کا دوست ہے۔ جن لوگوں کی کار جلا دی گئی اور وہ بے یارو مددگار شاہراہ پر کھڑے تھے انہیں اس نوجوان نے لاہور تک لفٹ دی اور انہیں گھر پہنچایا۔

میں نے اپنے بیٹے کے ڈرائیور سے کہا کہ یار آج بھنڈیاں کھانے کو بہت جی چاہتا ہے۔ میرا سبزی والا بظاہر تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے کہ صاحب جی سبزیاں کہاں سے آئیں۔ وہ لوگ ٹرکوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہیں لاہور نہیں آنے دے رہے تو اگر بھنڈیاں کھانی ہیں تو یا تو ان لوگوں سے راہ و رسم بڑھائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ بے شک آپ ایک نہایت نیک کام میں مشغول ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے کہاں آپ کے درجات بلند کرے گا تو کسی سبزی والے ٹرک میں سے صرف ڈیڑھ پائو بھنڈیاں نکال لیں اور پھر بے شک اسے آگ لگا دیں اور یہ بھنڈیاں مجھے عنائت کر دیں۔ تہہ دل سے شکر گزار ہوں گا۔ اور اگر یہ منظور نہیں تو چولہا ہانڈی اٹھا کر قصور کی جانب نکل جائیے اور بھنڈیوں کے کسی کھیت میں براجمان ہو کر ہانڈی چڑھائیے اور تازہ بھنڈیاں اپنے ہاتھوں سے توڑ کر ہانڈی میں ڈال کر پکائیے اور کھائیے۔

چونکہ بوجوہ یہ ممکن نہ تھا اس لئے میں نے افتخار ڈرائیور سے کہا کہ یار آج بھنڈیاں کھانے کو بہت جی چاہتا ہے۔ یہ قریب ہی بھٹہ چوک ہے اور وہاں پھل فروش اور سبزیوں کی دکانوں کی کثرت ہے تو صرف ڈیڑھ پائو بھنڈیاں تو لادو۔ ڈیڑھ پائو اس لیے کہ بیگم تو سندھ کی سیاحت پر نکل گئی ہے اور ان دنوں موہنجوڈارو کے کھنڈروں میں شدید دھوپ میں گھوم رہی ہے اور یوں اس کا دماغ بھی پگھل کر گھوم گیا ہو۔ جیسے عابدہ پروین کا گھوم چڑخڑا گھوم۔ گھومتی ہے تو صرف میرے لئے ڈیڑھ پائو بھنڈیاں ہی کافی ہوں گی۔

اس پر افتخار نے بہت بدتمیزی کی اور مجھ پر ہنسنے لگا اور کہنے لگا’’ صاحب جی بھٹہ چوک بھی ’’بند‘‘۔ میں نے پوچھا بھئی کیوں بند۔ تو کہنے لگا بھٹہ چوک کے قریب ہی ایک مدرسہ ہے۔ اور جونہی یہ لوگ کوئی واردات ڈالتے ہیں تو مدرسے کے سینکڑوں طالب علم ایک اشارے پر جوق در جوق برآمد ہوتے ہیں اور بھٹہ چوک پر قابض ہو جاتے ہیں۔

ریڑھیوں سے مفت میں پھل فروٹ کھاتے ہیں اور مزے کرتے ہیں اور یہ ایئر پورٹ جانے کے لیے بھی ایک راستہ ہے تو یہ بھی بند ہے۔ ایئر پورٹ بھی بند۔چنانچہ ان حضرات سے مجھے صرف یہی شکایت ہے کہ جب میرا جی بھنڈیاں کھانے کو چاہ رہا تھا ان کے بلاکیڈکی وجہ سے میں بھنڈیاں نہ کھا سکا۔ بھنڈیوں کے ارماں سلگتے ہی رہے اور دل کی حسرت ٹکڑے بن کر آنسوئوں میں بہہ گئی اور وہ ٹکڑے بھنڈیوں کے ہی تو تھے۔

اچھا میرے ساتھ جو ہاتھ ہو گیا ہے اس کا بھنڈیوں سے کچھ تعلق نہیں یہ ایک اور نوعیت کا ہاتھ ہے۔ میں نے جب اپنا گزشتہ کالم ’’اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے‘‘ لکھنا شروع کیا تو میں صرف ایک کالم میں اپنے دکھ کو سمیٹنے سے قاصر رہا۔ میرا ارادہ ایک اور کالم تحریر کرنے کا تھا کہ ابھی مجھے دہشت گردی کے بارے میں اور بہت کچھ کہنا تھا۔ اس لئے اس کالم کے آخر میں  کی دھمکی دی گئی تھی اور مجھے یقین تھا کہ اعلیٰ حضرت رضوی صاحب اور قبلہ قادری صاحب کا یہ بغاوتی دھرنا‘ اسلام آباد کی مانند دو تین ہفتے تو آسانی سے چلے گا۔

آخر ایک سپرہٹ فلم ہے۔ چلے گی بھئی چلے گی۔ گولڈن جوبلی تو کرے گی۔ چنانچہ میں نے اپنا دوسرا کالم بھی تحریر کر دیا کہ یہ فلم آسانی سے تو نہ اترے گی اور جب میں ایک صبح بیدار ہو کر ٹیلی ویژن آن کرتا ہوں تو خبر ہوئی کہ وہ فلم تو فلاپ ہو گئی۔ تین دن نہائت ہائوس فل شو ہوئے جن میں ایک سیاہ ریش حضرت تلوار سونتے پھرتے تھے اور پھر یکدم۔ وہ جو بیچتے تھے دوائے دہشت۔ وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔

شدید مایوسی ہوئی کہ بھئی کچھ دن تو رہو، میری آنکھوں میں۔ میں اپنا دوسرا کالم دکھ کا لکھ لوں تب بے شک رخصت ہو جانا۔ میرا خیال ہے کہ یہ حکومت اور ان حضرات نے میرے خلاف سازش کی تھی تاکہ میں اپنا دوسرا کالم نہ لکھ سکوں۔ بہر طور پر جو بھی مشاہدہ ہوا اچھا ہوا۔ بہت دنوں کے بعد سکھ کا ایک سانس آیا اگر حکومت کوئی اقدام کرتی جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہو جاتیں اور وہ ہونی تھیں تو ہم ۔۔۔۔۔شہیدوں کے جنازے اٹھاتے پھرتے۔

مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کے ارادے کچھ نیک نہیں ہیں۔ اس پر پھبتیاں کسی جا رہی ہیں کہ واہ وہ بے چارہ تقریباً دیوانہ ہو چکا نو نہال ہاشمی اور جی ٹی روڈ کی ’’لونگ مارچ‘‘ کے دوران رقص کرتا شانہ بشانہ طلال چودھری یا دانش مند دانیال جانے کس کا عزیز۔ انہوں نے فرط جذبات سے مغلوب ہو کر بلکہ میانی جذبات سے مغلوب ہو کر اگر عدلیہ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تھے تو ان غریبوں کو تو آپ نے دھر لیا جب کہ دھرنے والوں نے تو عدلیہ کے قتل عام کا فتویٰ دے دیا تو انہیں کیوں نہیں دھرتے۔ آپ کا حسن کرشمہ ساز جو چاہے وہ کرے۔

لیکن نہال‘ طلال، دانیال سب کے سب آہ و فغاں کر رہے ہیں کہ حضور ہم نے تو گلشن کے کچھ پھول توڑے تھے اور انہوں نے تو پورا گلشن ویران کر دیا تو ان سے بھی تو کچھ پوچھئے۔ کوئی چھوٹا موٹا۔ سو موٹو وغیرہ لگائیے۔ قصہ مختصر مجھے ان خارجی عناصر سے صرف دو شکائتیں ہیں۔

ایک تو یکدم اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چل دے اور میں اپنا دوسرا کالم تحریر نہ کر سکا اور دوسری شکائت بہت دردناک ہے کہ ان کے دھرنے کی وجہ سے میں بھنڈیاں کھانے سے محروم رہا۔ ایک دانائے راز نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ یاد رکھو، یہ لوگ آج تو ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مسلح ہو کر نکلے ہیں اور اگر تم مصلحت سے کام لیتے ہوئے صلح پسند ہوئے تو کل یہ کلاشنکوف سے لیس ہو کر نکلیں گے۔

بشکریہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 118 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar