شوہر کی خودکشی بیوی کو کیا راستہ دکھا گئی؟


’’ شوہر کی خودکشی کے بعد مجھے لگتا تھا اب زندگی ختم لیکن پھر اس کا آخری خط پڑھا تو فوری سمجھ آگئی کہ اب کیا کرنا ہے‘‘

 

شریک حیات کی موت کسی بھی انسان کے لئے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ہے جو مضبوط سے مضبوط شخص کو بھی توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ برطانوی لڑکی ایما جونز کا شوہر بھی عین جوانی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر وہ جاتے جاتے ایک ایسی تحریر لکھ گیا کہ جو نا صرف ایما کے لئے مقصد حیات بن گئی بلکہ بہت سے دکھی انسانوں کے لئے زندگی کا پیغام بھی ثابت ہوئی۔

اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق 27 سالہ ایما جونز نے بتایا کہ اُن کا چہرہ اپنے شوہر کا آخری خط پڑھتے ہوئے آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریر اُن کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائے گی۔ اُن کے شوہر ڈین کئی سال سے نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے تھے اور انہی مسائل کے باعث انہوں نے خودکشی کر کے زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ اپنے آخری خط میں ڈین نے لکھا تھا ’’ ایما، تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکیں، لیکن ہمت مت ہارنا، تم دوسروں کیلئے بہت کچھ کر سکتی ہو!‘‘ ایما کہتی ہیں کہ اس وقت انہوں نے سوچا کہ وہ ضرور ایسے لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے کچھ کریں گی جو نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔

ایما نے بتایا کہ ’’میرے شوہر نفسیاتی مسائل کے باعث اکثر شدید پریشانی کے عالم میں رہتے تھے۔ ایک دن اچانک وہ گھر چھوڑ کر کہیں چلے گئے تو مجھے محسوس ہونے لگا کہ ضرور وہ اپنے پرانے آبائی گھر کی جانب گئے ہیں جو ایک عرصے سے خالی پڑا تھا۔ میں نے گاڑی نکالی اور اس کے تعاقب میں گئی لیکن وہاں پہنچی تو پہلے ہی پولیس کی گاڑیاں وہاں کھڑی تھیں۔ ڈین نے اپنے نفسیاتی مسائل کے سامنے بالآخر ہار مان لی تھی اور خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔‘‘

اپنے شوہر کے نفسیاتی مسائل کے بارے میں ایما نے بتایا کہ ’’مجھے یاد ہے کہ اسے ہمیشہ سے یہ مسئلہ لاحق رہا تھا۔بہت سی ایسی باتیں جو ہم سب کیلئے معمولی ہوتی ہیں اس کیلئے بہت بڑی ہوتی تھیں ۔وہ ہر چیز کے بارے میں پریشان رہتا تھا ، کام کے بارے میں ، بچوں کے بارے میں ، میرے بارے میں ، گھر کے بارے میں ، ہر چیز کے بارے میں۔کئی ہفتے وہ ٹھیک رہتا تھا لیکن پھر اس کی پریشانی کا دور شروع ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا تھا۔ اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے نفسیاتی مسائل کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔ میں اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ میرا خیال تھا کہ وہ حالات سے پریشان ہے اور میں اسے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ اس کی پریشانی کی اصل وجہ اس کے نفسیاتی مسائل ہیں، جس کیلئے ماہر ڈاکٹر کی مدد درکار تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ڈین کے نام پر ایک فنڈ اور ادارہ قائم کیا ہے جو نفسیاتی مسائل سے دوچار افراد کو مشاورت اور علاج کے لئے مدد فراہم کرتا ہے۔اب یہ میری زندگی کا مقصد بھی ہے اور میری سب سے بڑی خوشی بھی۔‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں