ماروی اور شیریں خوش قسمت ہیں


fakhra noreen01راولپنڈی سے اسلام آباد جانے کے لئے میٹرو بس بنی تو ٹیکسی پر سفر کرنے پر مجبور ہم جیسیوں کو تو سکون کا سانس آیا ہی تھا لیکن ویگن پر سفر کرنے والی ہم سے بھی زیادہ سکون میں نظر آئیں۔ مگر تا بہ کے۔ برا ہو اس حکومت کا کہ غریب عوام میں صنفی تفریق کرنے کی سازش کرنے لگی۔ کہاں تو ویگنوں کے وہ مزے کہ کبھی سیٹ کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کر کبھی پہلو سے چٹکیاں لے کر سارا راستہ لطف اٹھاتے تھے اب غریب آدمی کو اس عیاشی سے بھی محروم کر دیا۔ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھی خواتین سارا راستہ گیئر لگواتی جاتیں اور سفر کیسا مزے میں کٹتا تھا۔ یہ کیا کہ زنانہ ڈبہ الگ، مردانہ خانہ جدا۔ ہر سٹیشن پر سرخ وردی میں ملبوس غریب گھروں کے لڑکے خدائی فوجدار بن کے کھڑے ہو جاتے۔ کوئی مرد زنانہ حصے کی جانب سے داخل ہو سکتا ہے نہ اتر سکتا ہے۔ یہ تو زیادتی ہو گئی بھیا۔ اور ان لونڈوں لپاڑوں کی کیا جرات کہ ہمیں روکیں۔ حکومت نے بس چلا دی تو کیا وہ جان لے گی اب؟ مگر ایسی عوام دشمن سازشیں کامیاب کب ہوتی ہیں۔

پہلے پہل تو لیٹ پہنچنے والے بھاگم بھاگ زنانہ سائیڈ سے گھس گئے۔ مجبوری ہے لیٹ ہو رہے ہیں۔ آئندہ نہیں کریں گے۔ آئندہ کس نے دیکھی ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رش بڑھ گیا اور ہوتے ہوتے وہ لکیر ختم ہونے لگی جو شروع شروع میں بہت احتیاط سے قائم رکھی جانے لگی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ اپنی عورتوں کے تحفظ کے لئے اندر گھسنے والے ان کے ساتھ چپکے کھڑے رہے۔ بھلے ان کے ساتھ کھڑی دس اور بیبیاں عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں، ان کی بلا سے۔ کس نے کہا اکیلی نکلو۔ اگر غیرت مند خاندان کی ہوتیں تو ان کے گھر سے کوئی مرد نکلتا ناساتھ۔ پتہ نہیں ہے کیا کہ زمانہ کتنا خراب ہے۔ ڈرائیور مائیکرو فون لئے بار بار بول رہا ہے بھائی صاحب لیڈیز سے دور ہو کر کھڑے ہوں۔ تو بھیا بولتا رہے۔ کوئی اس کے گھر کی عورتیں تھوڑی ہیں۔ یہ فاحشاﺅں کی طرح بال کھولے، سن گلاسز لگائے کھڑی ہیں اللہ جانے کدھر کدھر کس کس کے ساتھ پھرتی ہیں، ذرا سا ہم ٹچ ہو لئے تو کیا۔

شیریں مزاری تو خوش قسمت ہے اسے محض ٹریکٹر ٹرالی کہا گیا جو بہر حال جنسی استعارہ نہیں لگتا۔ ماروی سرمد خوش ہو کہ دھمکی دی ہے، عملی جامہ تو نہیں پہنایا۔ محاورے کے پیچھے چھپنے کی گنجائش بھی نکل آئی۔ مگر اس بچی کا کیا جو میٹرو میں لیاقت باغ سے سوار ہوئی۔ ساتھ اس کی ماں بھی ہے۔ رش کی وجہ سے ان کو اتنی بھی مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنی جگہ ادل بدل لیں۔ ماں مردوں والی سائیڈ پر ہو جائے اور بچی مردوں سے بچ کر کھڑی کر دی جائے۔ ہو سکتا ہے ماں نے یہ سوچا ہو یہ بچی ہے ادھر ہی کھڑی ہو، میں جوان عورت ہوں مرد سے دور ہو کے کھڑی ہوں۔ بس بھری ہوئی ہے، مگر رش بہر حال اتنا نہیں کہ مرد عورتوں میں جا گھسیں۔ لیکن اس بچی کی پشت پر کھڑا مرد جو اس کے باپ کی عمر کا ہے وہ اس کے ساتھ جڑا کھڑا ہے۔ وہ صرف جڑکر نہیں کھڑا بلکہ اپنے آپ کو اس طرح ایڈجسٹ بھی کر رہا ہے کہ اس کا اور بچی کا جسمانی قرب زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔ وہ اپنے گھٹنے تھوڑے سے موڑتا ہے۔ بچی گھبرا کر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی جوان عورت کو دیکھتی ہے۔ دونوں کی آنکھیں ملتی ہیں اور وہی ان کہی بات ایک عورت کی آنکھ سے دوسری عورت کی آنکھ تک کا سفر کرتی ہے۔

بیٹا آپ آگے ہو کر کھڑی ہوں۔ باجی آپ ادھر کھڑی ہوں پیچھے۔ وہ جوان عورت اس بچی کی ماں کو کہتی ہے تو وہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے ہوئے جگہ بدل لیتی ہے۔ جوان عورت جانتی ہے یہ بات ختم نہیں ہوئی۔ بچی ماں کو کبھی نہیں بتا سکے گی کیا ہوا، ماں کبھی نہیں سمجھا سکے گی کہ اس صورت حال میں کیا کرنا چاہیے۔ وہ چپ رہے گی، اور بچی سیکھ جائے گی کہ جب بھی ایسا کچھ ہو بولنا کچھ نہیں ، بس چپ رہنا ہے۔

کوئی کچھ نہیں بولتا۔ سب اس مرد کی جسمانی حالت دیکھ رہے ہیں اور چپ ہیں۔ اور اسے اپنی دگر گوں حالت پر کوئی شرمندگی نہیں، چھپانے کا کوئی جتن نہیں۔ وہ کوئی عورت تھوڑی ہے جس کو شرم، حیا ،عفت اور پاکیزگی کے سارے فرض اور سبق یاد رہنے چاہییں۔ اس کو کوئی جلا کے تھوڑی مار سکتا ہے۔ یہ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے مرد ہیں۔ زیادہ تر مزدور پیشہ یا طالب علم۔ وہ عورت بھی غریب سی ہے۔ شاید کسی کے گھر میں کام کرتی ہو گی۔ اسے اس سب کا شعور کہاں۔ وہ کہاں جانتی ہے کہ اس استحصال کے خلاف بغاوت کرنی چاہئے۔ اس کے شرم و حیا کے تصورات پر علم کی روشنی نہیں پڑ سکی۔ کاش بے چاری تھوڑی سی پڑھ جاتی۔ چلو دو چار جماعتیں ہی سہی۔

اور یہ میں ہوں۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر معاشرے میں ایک باعزت پیشے سے منسلک۔ سارا دن لڑکیوں کو استحصال کے خلاف لیکچر دینے والی۔ ہر زیادتی پر احتجاج کرنے کا درس دیتے نہ تھکنے والی۔ ہر بات پر بغاوت کا علم بلند کرنے کا پرچار کرنے والی۔ میں جو اس بچی کو تو بچا لیتی ہوں لیکن اپنے سامنے دگر گوں حالت میں کھڑے اس مزدور مرد کو چاہنے کے باوجود کچھ نہ کہ پانے والی۔ بس خاموشی سے، اسی مجرمانہ خاموشی سے، اپنی عزت بچانے کے چکر میں اپنے سامنے کھڑے مرد سے نظر چرا کر یوں ظاہر کرتی ہوں جیسے کچھ نہیں دیکھا۔ اگلے سٹاپ پر اتر جاتی ہوں لیکن اپنی ڈگری شاید وہیں چھوڑ جاتی ہوں۔ مگر میں ایسی کسی گمشدگی کی رپورٹ نہیں لکھوا پاﺅں گی۔ میں کسی پر ہرجانہ دائر نہیں کر پاﺅں گی۔ کیونکہ اس بچی کی طرح میں بھی ماروی سرمد اور شیریں مزاری جیسی خوش قسمت نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ماروی اور شیریں خوش قسمت ہیں

  • 17-06-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر فیض کی طرح رومان سے نظم شروع کرکے ترقی پسند بن جانا اچھا تجربہ ہے

Comments are closed.