پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!


میں کچھ لوگوں کو خدا کی زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتے دیکھتا ہوں، ان کا غرور دیکھتا ہوں، انہیں اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھتے دیکھتا ہوں، تو خدا کے خوف سے مجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں ارب پتی کاروباری لوگ بھی ہیں، اعلیٰ عہدوں پر متمکن افراد بھی ہیں۔ چند ایک میڈیا کے لوگ ہیں، مقبول گائیک بھی ہیں اور یہ اور اس طرح کے باقی سب لوگ مستقل ڈرائونے دکھائی نہیں دیتے۔

ان سب کی فرعونیت عارضی ہوتی ہے۔ اس عارضی دور میں بھی لوگ ان کے شر سے ڈرتے ہیں۔ ان کے لئے کسی دل میں عزت نہیں ہوتی، ان میں کسی ایک کی بھی اپنے شعبے میں اتنی کنٹری بیوشن نہیں ہوتی کہ اپنی ڈرائونی سیٹوں سے محرومی یا اپنے انتقال پُر ملال کے بعد کوئی ان کی عزت کرنے والا بچا ہو اور انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرتا ہو۔

مستقل عزت اور مستقل اعترافِ خدمت صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جنہوں نے اپنے شعبے میں کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہوتی ہے مگر ہر نئی کامیابی انہیں عاجز سے عاجز تر بناتی چلی جاتی ہے اور یہ لوگ اپنی وفات کے بعد بھی صدیوں تک دلوں پر راج کرتے ہیں۔

میں دنیا بھر کے ان سائنس دانوں، اسکالروں، ادیبوں، شاعروں، مصوروں، موسیقاروں، مدبروں اور سیاست دانوں کی مثال نہیں دیتا جنہوں نے اپنے کام اور اپنے عجز سے اپنی زندگی میں بھی دلوں پر راج کیا اور آج بھی ہمارے دل ان کی دہلیز پر پڑے ہیں، میں صرف ایک مثال دیتا ہوں، میں لندن میں ٹیلیفون کے موجد گراہم بیل کے گھر ایک رات ٹھہرا ہوں، جو اُن دنوں میرے عزیز اور انتہائی اعلیٰ انسان عبدالرحمٰن بزمی کی تحویل میں تھا ۔

باہر گراہم بیل کے نام کی تختی لگی تھی اور اس کے بیرونی حصے میں کسی قسم کے ردوبدل کی اجازت نہیں تھی۔ پرانے لوگ راوی تھے کہ گراہم بیل گلی میں سے گزرتے ہوئے عام راہگیروں سے بہت محبت سے ملتا تھا۔ اس میں تکبر نام کی کوئی چیز دور دور تک نہیں تھی۔

اسی طرح آئن اسٹائن کی ایک تصویر مجھے نہیں بھولتی جس میں اس کے کوٹ کی جیب سیاہی سے بھری ہوئی ہے۔ علامہ اقبال دھوتی اور بنیان پہنے بازار حکیماں کے تھڑے پر بیٹھ کر کھجوری پنکھے سے خود کو ہوا دیتے لوگوں سے گپ شپ کرتے نظر آتے تھے اور ان کے گھر میں ہر ایرا غیرا بھی ان کی محفل میں شریک ہو سکتا تھا۔

آج کل ہم کن چول لوگوں میں گھر گئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی مرتبہ ہے نہ مقام ہے نہ کوئی کنٹری بیوشن ہے مگر انہوں نے اپنا مقام خود متعین کیا ہوا ہے۔ کوئی پیر ہو، وزیر ہو، افسر ہو، میڈیا پرسن ہو، کسی عارضی مقبولیت کا حامل کوئی فرد ہو، یہ خود کو خدا سمجھے ہوئے ہیں۔

انہیں علم ہی نہیں خلق خدا انہیں کیا سمجھتی ہے۔ مشرف بھی کچھ نہ کچھ تو تھا۔ ضیاء الحق بھی کچھ نہ کچھ تو تھا۔ یحییٰ خاں بھی کسی سے کم نہ تھا۔ جنرل نیازی تو خیر ’’ٹائیگر‘‘ تھا۔ ماضی بعید میں میر جعفر اور میر صادق بھی ہوتے تھے۔ اب ان کے محلات نشان عبرت کے طور پر محفوظ ہیں۔

تاریخ ان فرعونوں سے بھری پڑی ہے مگر یہ کچھ نہ کچھ تو بہرحال تھے مگر آج نفرت کی علامت ہیں لیکن ان دنوں جو اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھتے ہیں تاریخ تو کیا آنے والے دنوں میں کسی کو ان کا نام بھی یاد نہیں رہے گا۔ میں صدق دل سے چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو تھوڑی بہت صلاحیتیں دی ہیں وہ انہیں خلقِ خدا کی بہتری کے لئے استعمال کریں پھر دیکھیں ان کی مسند بھی قائم رہے گی اور دلوں میں ان کے لئے محبت بھی قائم ہو گی۔

اس وقت ہمارے درمیان بلا مبالغہ ہزاروں کی تعداد میں انتہائی قابل احترام شخصیات مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔ روحانیت، ادب، میڈیا، حکومت، اپوزیشن، میڈیکل سائنس، دنیاوی مال و اسباب اور ویلفیئر کے شعبے ان سے بھرے پڑے ہیں لیکن آپ ان سے ملیں تو آپ کو یہی تاثر ملے گا کہ ایک انسان دوسرے انسان سے مل رہا ہے مگر دوسری طرف فرعون کے دربار بھی لگے ہوئے ہیں۔

یہ کتنے نادان لوگ ہیں۔ کیا انہیں لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے عزت اور محبت عزیز نہیں۔ یاد رکھیں اللہ کو عاجزی پسند ہے۔ اپنوں اور غیروں سب میں محبت تقسیم کریں۔ نفرت سے صرف نفرت جنم لیتی ہے۔ اپنے جسم نہیں، اپنی روح کی پرورش بھی کریں۔ اپنے ضمیر کو ساتھ رکھیں بے ضمیری عارضی طور پر بہت کچھ دیتی ہے۔

دائمی طور پر یہ صرف ذلت ہی دے سکتی ہے۔ ذلت کے خریدار نہ بنیں، دائمی عزت کو مدنظر رکھیں۔ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے؟ عزت، ذلت اور رزق سب اس کے ہاتھ میں ہے یہ آپ پر ہے کہ آپ اس سے کیا مانگتے ہیں۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں