ملک کیوں ناکام ہوتے ہیں؟


بعض ملک پسماندہ اور بعض ملک خوشحال کیوں ہوتے ہیں؟غربت اور خوشحالی پر اثر انداز ہونے والے عوامل کونسے ہیں؟ہر دور میں معاشی اور سماجی ماہرین نے ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر 18ویں صدی کے فرانسیسی مفکر Montesquieuنے یہ نظریہ پیش کیا کہ ترقی و خوشحالی کا تعلق جغرافیہ اور آب و ہوا سے ہے۔

گرم مرطوب ممالک کے باشندے مزاج کے اعتبار سے سست ،کاہل اور تحقیق و تجسس سے عاری ہوتے ہیں، ایجادات کی طرف مائل نہیں ہوتے ،اس لئے ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔لیکن سنگاپور، ملائیشیا اور بوستانوے نے اس نظریئے کو اٹھا کرتاریخ کے کوڑےدان میں پھینک دیا۔

بعد ازاں ماہر معاشیات Jeffry Sachs نے اس نظریئے میں کچھ رد و بدل کیا اور بتایا کہ جغرافیہ اور آب و ہوا کا مزاج پر تو کوئی اثر نہیں ہوتا البتہ اس کے نتیجے میں جو موسمی حالات جنم لیتے ہیں، وہ قوموں کی ترقی و خوشحالی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر ملیریا اور طاعون جیسے وبائی امراض کا تعلق موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے۔ زمین کاشتکاری کے لئے موزوں نہیں رہتی اور یوں لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔مگر یہ تھیوری بھی بہت جگہوں پر غلط ثابت ہوئی ۔جرمن ماہر سماجیات میکس ویبر کہتا ہے کہ ترقی و خوشحالی کا تعلق معاشرے کی اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت سے ہے۔

افریقی ممالک اس لئے غریب ہیں کہ ان کی عادات و اطوار اور اعتقادات فرسودہ وبیہودہ ہیں۔وہ ا بھی تک جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں، چڑیلوں ،جنوں اور پریوں کے فسانوں میں الجھے ہوئے ہیں ۔وہ ملک جو ان فضول چیزوں سے آگے نکل گئے ،ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں۔

میکس ویبر کی یہ بات اس لئے غیر موزوں محسوس ہوتی ہے کہ کل تک چینیوں کے بارے میں اسی طرح کی باتیں ہوتی تھیں لیکن آج جب وہ معاشی طاقت بن گئے ہیں تو سب ان کی جفا کشی اور محنت کا حوالہ دیتے ہیں۔جب کوئی معاشرہ ترقی کرتا ہے تو پھر حوالے بھی بدل جاتے ہیں ۔پنجابی کا مشہور مقولہ ہے ’’جیدھے گھر دانے اوہدے کملے وی سیانے ‘‘جب دولت آتی ہے تو پھر عادات و اطوار بھی بدل جاتے ہیں اور اعتقادات بھی پہلے جیسے نہیں رہتے۔

اگر ترقی و خوشحالی کا آب و ہوا ،جغرافیہ یا اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق ہوتا تو دیوار برلن کے انہدام سے قبل مغربی اور مشرقی جرمنی کے حالات میں تفاوت نہ ہوتا۔امریکی ریاست ایری زونا اور میکسیکو کی سرحد پر واقع شہر نوگلز جو د وحصوں میں تقسیم ہے اسکے دونوں طرف آباد افراد کے حالات زندگی ایک جیسے ہوتے۔

 اس ضمن میں سب سے بڑی مثال شمالی اور جنوبی کوریا کی ہے۔دونوں ممالک کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات ہی نہیں ثقافتی و تہذیبی ورثہ بھی مشترک ہے اور عادات و اطوار میں بھی کوئی خاص فرق نہیں مگر معاشی حالات میں زمین آسمان کا فرق حائل ہے۔ جنوبی کوریا ایک خوشحال اورترقی یافتہ ملک ہے جس کی جی ڈی پی 1622ارب ڈالر ہے جبکہ شمالی کوریا انتہائی پسماندہ اور غریب ملک ہے جس کی جی ڈی پی محض 40ارب ڈالر ہے۔

جنوبی کوریا کی بر آمدات 522.6 ارب ڈالر سالانہ ہیں جبکہ شمالی کوریا کی بر آمدات کا تخمینہ 4.71ارب ڈالر ہے۔شمالی کوریا کے مقابلے میں جنوبی کوریا کے باشندے خوشحال ہیں اور ان کا طرز زندگی پرتگال اور اسپین جیسا ہے اس لئے ان کی اوسط عمر 79.3برس ہے جبکہ شمالی کوریا کے شہریوں کے حالات زندگی افریقی ممالک سے بھی بدتر ہیں اس لئے ان کی اوسط عمر 69برس ہے ۔

شمالی کوریا کو محض دو حوالوں سے جنوبی کوریا پر برتری حاصل ہے۔ایک تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق شمالی کوریا دنیا کا بدعنوان ترین ملک ہے اور دوسرے شمالی کوریا کے دفاعی اخراجات اپنی حیثیت سے کہیں بڑھ کر ہیں۔

جنوبی کوریا نسبتا ً بڑا ملک ہے اس کی آبادی تقریباً پانچ کروڑ ہے اور اس کی مسلح افواج کی تعداد (بشمول ریزرو فورس) 655000 ہے اور یہ اپنی جی ڈی پی کا 2.8 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ شمالی کوریا کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے اس کی مسلح افواج کی تعداد 1190000ہے اور یہ دفاع پر جی ڈی پی کا 22.3فیصد خرچ کرتا ہے۔

تو پھرآخر وہ بنیادی اجزائے ترکیبی کیا ہیں جو کسی قوم کی ناکامی و کامیابی کا سبب بنتے ہیں؟اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے دو محققین Daron Acemoglue اور James A Robinsonنے ملکر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہےـ Why Nations Fail۔اگر کوئی شخص یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز کیا ہے اور قومیں کیوں ناکام ہوتی ہیں تو جنوبی اور شمالی کوریا کی صورت میں دو رول ماڈل موجود ہیں۔

ایک ملک آمریت کے راستے پر چلا ،سیکورٹی اسٹیٹ کا ماڈل اختیار کیا ،قدامت پسندی اور ریاستی جبر کے بل پر آگے بڑھنا چاہا ،ملکی دفاع کو اپنی طاقت بنایا اور آج ایک ناکام ریاست کے طور پر سامنے ہے ۔اس کے برعکس جنوبی کوریا نے جمہوریت کا راستہ منتخب کیا ،فری اکانومی کو فروغ دیا ،اظہار رائے کی آزادی اور افراد کے حق ملکیت کو تسلیم کیا ،جمہوری اداروں کی مضبوطی کو اپنی طاقت بنایا اور آج ایک کامیاب رول ماڈل کے طور پر سامنے ہے۔

ہاں البتہ ریاست موم کی ناک ہوجائے تو ترقی و خوشحالی کے خواب عذاب ہو جاتے ہیں۔اس لئے میکس ویبر کے خیال میں ریاست کو ’’جائز تشددکی اجارہ داری‘‘ حاصل ہونی چاہئے کیونکہ ریاست کو فتنہ فساد کا باعث بننے والے عناصر کو نکیل ڈالنے کے لئے اس نوع کی اجارہ داری حاصل نہیں ہوگی تو پھر لاقانونیت کا سیلاب سماجی ڈھانچے ،قانونی کی عملداری اور معاشی ترقی سمیت سب کچھ بہا کر لے جائے گاباالفاظ دیگر رِٹ آف دا اسٹیٹ وہ پہلی اینٹ ہے جس پر ترقی و خوشحالی کی عمارت ایستادہ ہوتی ہے۔

جب یہ اینٹ اکھڑتی ہے تو بھونچال آجاتاہے۔اس ضمن میں مصنّفین نے صومالیہ کی مثال دی ہے مگر افغانستان، عراق ،لیبیا ،یمن اور شام سمیت کتنے ہی ممالک نشاناتِ عبرت کے طور پر موجود ہیں ۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں