تصویر کے دونوں رُخ!


تصویرکا ایک رُخ یہ!

ہمارے نبیؐ وہ جن پر اللہ اور ملائکہ درود بھیجیں، جو امام الانبیاء، جو رحمۃ للعالمین ؐاور جو رہتی دنیا، آخری انسان تک کے نبیؐ، ہمارے نبیؐ وہ جو کفار کیلئے بھی صادق اور امین، جنہوں نے فتح مکہ پر دشمن کے گھر کو دارالامن بنا دیا، جو خود پر کوڑا پھینکنے والی عورت کی عیادت کیلئے اس کے گھر تشریف لے جائیں۔

جنہوں نے جنگوں میں عورتوں، بوڑھوں، بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا، جنہوں نے غیر مسلموں کی لاشیں بگاڑنے سے روک دیا، جن سے چڑیا کی بے چینی نہ دیکھی گئی اور جنہوں نے جانوروں پر ظلم کرنے اور پھلدار درخت کاٹنے سے روک دیا، ہمارے نبیؐ وہ جو بعثت نبوی کے دسویں سال شوال میں دعوت اسلام کیلئے طائف تشریف لے جائیں۔

طائف کے سرداروں عبدیالیل، مسعود اور حبیب کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، پہلے تینوں سردار مذاق اڑائیں، طنز کریں، پھر شہر کے اوباشوں، آوارہ گردوں کو پیچھے لگا دیں، طائف کی گلیوں میں پتھر مارے جائیں، سر مبارک سے پاؤں تک آپؐ زخمی ہو جائیں، پنڈلیاں اور گھٹنے لہو لہان، برستے پتھروں میں تکلیف اتنی کہ آپؐ چند قدم چلیں، بیٹھ جائیں، پھر چلنے لگیں۔

آخر نیم بے ہوشی میں حضرت زید بن حارثہؓ آپؐ کو اُٹھا کر انگوروں کے ایک باغ میں لائیں، طبیعت سنبھلے، ہاتھ اُٹھائیں، حضرت جبرائیلؑ حاضر ہو کر کہیں ’’اللہ نے سب دیکھ لیا، دونوں طرف کے پہاڑوں کو ملا کر ان تمام گستاخوں کو پیس دیں‘‘، آپ ؐ فرمائیں ’’نہیں، نہیں، یہ ناسمجھ، یہ بدنصیب، یہ ایمان نہیں لائے مگر میں ان کی آنے والی نسل سے ناامید نہیں، اللہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ ضرور پیدا کر ے گا جو توحید کے قائل اور اسلام کے پیروکار ہوں گے‘‘۔

ہمارے نبیؐ وہ جو سات ہجری کو ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ کے ہمراہ حج کیلئے تشریف لے جائیں، احرام باندھے ہوئے، قربانی کے جانور ساتھ، کفار مکہ کو پتا چلے، سب مل کر فیصلہ کریں کہ آپؐ اور ساتھیوں کو مکہ کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، آپؐ کو یہ اطلاع ملے، آپؐ مکہ سے 12میل پہلے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالیں۔

قریش مکہ سے مذاکرات ہوں، حضرت عثمانؓ آپؐ کا پیغام بھی لے کر جائیں، مگر کفار مکہ نہ مانیں، آخر کار مکہ والے سہیل بن عمرو کی سربراہی میں ایک وفد اس پیغام کے ساتھ بھیجیں کہ آپؐ اس سال واپس چلے جائیں، اگلے سال حج کیلئے آ جائیں، حضورؐ مان جائیں، حضرت علیؓ معاہدہ تحریر فرمائیں۔

کفار مکہ نہ صرف اپنی مرضی کی شرائط منوا لیں بلکہ سہیل بن عمرو یہ بھی کہہ دے کہ معاہدے پر محمد رسول اللہ نہیں محمد ابن عبداللہ لکھا جائے، حضرت علیؓ کے انکار اور صحابہؓ کے اعتراض کے باوجود حضورؐ خود اپنے ہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ کاٹ کر محمد ابن عبداللہ کے الفاظ لکھوا دیں، یہ چند روشن مثالیں، ورنہ ہمارے نبیؐ کی 63سالہ زندگی ایسی درگزر، صبر اور حکمت والی داستانوں سے بھری پڑی۔

اب تصویر کا دوسرا رُخ!

جج نے مصری صدر انور سادات کے قاتل سے پوچھا ’’تم نے سادات کو کیوں قتل کیا‘‘جواب آیا ’’وہ سیکولر تھا‘‘ جج نے کہا ’’یہ سیکولر کیا ہوتا ہے‘‘ قاتل کا جواب تھا ’’مجھے نہیں پتا‘‘ مشہور مصری ادیب نجیب محفوظ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم سے سوال ہوا ’’تم نجیب کو کیوں مارنا چاہتے تھے‘‘ جواب ملا ’’اس لئے کہ وہ ایک دہشت گرد ہے‘‘ پوچھا گیا ’’نجیب دہشت گرد کیسے ہے‘‘ جواب ملا ’’اس نے دہشت گردی کو بڑھاوا دیتی کتاب ’روایت اولاد حارتنا‘ لکھی ہے‘‘ اگلا سوال ہوا ’’کیا تم نے وہ کتاب پڑھی ہے‘‘ جواب آیا ’’نہیں‘‘۔

مشہور کاتب فرج فودۃ کو مارنے والے 3مجرموں میں سے ایک سے پوچھا گیا ’’فرج کو قتل کرنے کی وجہ قاتل بولا ’’کیونکہ وہ کافر تھا‘‘ سوال کیا گیا ’’تمہیں کیسے پتا چلا کہ وہ کافر تھا‘‘ قاتل کا جواب تھا ’’اس کی کتابوں سے پتا چلا‘‘ پوچھا گیا ’’تجھے اس کی کونسی کتاب سے پتا چلا کہ وہ کافر تھا‘‘ جواب تھا ’’میں نے اس کی کتابیں نہیں پڑھیں‘‘ سوال ہوا ’’تم نے اس کی کتابیں کیوں نہیں پڑھیں‘‘ جواب آیا ’’کیونکہ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا‘‘۔

چلو یہ تو غیروں کی بات، یہ چھوڑیں، اپنی بات کر لیتے ہیں، چند دن پہلے سڑکیں، چوک بند کرکے مریضوں، بچوں، عورتوں، بوڑھوں کا رستہ روکنے والوں سے اگر کوئی یہ پوچھ لیتا کہ جن کا رستہ روک رکھا، ان کا کیا قصور تو کوئی جواب مل پاتا، کیلے کی ریڑھی لوٹتے، گاڑیاں جلاتے، موٹر سائیکل توڑتے مسلمانوں سے یہ پوچھ لیا جاتا کہ ان غریبوں کا کیا جرم تو کسی کے پاس کوئی جواب ہوتا۔

لوگوں کو روک روک کر مارتے پیٹتے، گالیاں دینے والوں سے پوچھ لیا جاتا کہ ان مسکینوں کو کیوں مار رہے تو کوئی جواب ہوتا، بغاوت، سول نافرمانی اور قتل کے فتوؤں کو ایک طرف رکھیں، وہ ایک سال کی معصوم بچی جس کی ہنگاموں میں ایک آنکھ ضائع ہو گئی، قیامت والے دن اگر اس بچی نے پوچھ لیا کہ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا تو کوئی جواب دے پائے گا۔

باتیں اور بھی، مگر تصویر کے دونوں رخ دکھلا کر بتانا یہ کہ مسلم امہ پر زوال ایسے ہی نہیں آیا، ہم ایسے ہی تقسیم در تقسیم نہیں ہوتے جا رہے، سارا قصور غیروں کا نہ سب سازشیں پرایوں کی، زیادہ تر کیا دھرا ہمارا اپنا، ذرا سوچیے، آج ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے قرآن ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھ رکھا، سیرت نبویؐ پڑھی ہوئی یا کتنے روزانہ 5مرتبہ جو نماز پڑھ رہے انہیں پتا کہ وہ کیا پڑھ رہے۔

یہاں سینئر دوست جاوید چوہدری یاد آجائیں، وہ اکثر کہیں ہم نے اپنی 14سو سالہ تاریخ میں اتنا اغیار کو فتح نہیں کیا، جتنا ایک دوسرے کو فتح کرتے رہے، مسلمانوں نے دنیا کا 95فیصد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی میں فتح کر لیا، اس کے بعد ساڑھے تیرہ سو سال مسلمان اس علاقے کیلئے آپس میں لڑتے رہے۔

ہمارے علم، فلسفے، سائنس، ایجادات کی 95فیصد تاریخ بھی ابتدائی تین سو سال تک محدود، بعد کے ہزار سال لڑائی جھگڑوں اور جنگوں کے علاوہ کچھ نہیں، پورا عالم اسلام ہزار سال سے نیل کٹر سے کنگھی تک اُن کی استعمال کر رہا، جنہیں دن میں پانچ مرتبہ باجماعت بددعائیں دے۔

ہم یہودیوں کے اے سی لگا کر، عیسائیوں کی ٹونٹیوں سے وضو کرکے، کافروں کے ساؤنڈ سسٹم پر ان کو ہی للکار رہے، انہی کی ادویات کھا کر انہی کی بربادی کے خواب دیکھ رہے، ہم کسی جوگے ہوتے تو آج فلسطین، کشمیر، عراق، لیبیا، مصر، افغانستان، شام، یمن، لبنان اس حال کو نہ پہنچے ہوتے۔

ہم 5سو سالوں سے دنیا کو کوئی دوا، کوئی ہتھیار، کوئی نیا فلسفہ، کوئی خوراک، کوئی اچھی کتاب، کوئی اچھا قانون نہ دے پائے، دوستو یہی سب سوچ سوچ کر بار بار ذہن میں خیال آ جا رہا کہ ہم ایک اللہ کو ماننے، ایک قرآن پڑھنے اور رحمت للعالمین کے امتی آخر کب ایک ہوں گے، کب کفر، قتل کے فتوؤں اور نفرتوں کو چھوڑ کر درگزر، صبر اور محبت بھری زندگیاں گزاریں گے اور ہم کب یہ سمجھ پائیں گے کہ رسولؐ سے محبت کا مطلب تو رسولؐ کی سنتوں کی پیروی ہے۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں